سحرتاب رومانی ۔۔۔ نیند کے سیلاب میں ہوتا کہیں

نیند کے سیلاب میں ہوتا کہیں اِک جزیرہ خواب میں ہوتا کہیں وہ نظر مجھ پر نہیں پڑتی اگر آج بھی گرداب میں ہوتا کہیں چھیڑتا میں راگ کی صورت تجھے تُو اگر مضراب میں ہوتا کہیں شعر لکھنے کا مزا آتا اگر چاند بھی تالاب میں ہوتا کہیں ٹاٹ کی جانب کبھی جاتا نہ میں لُطف جو کمخواب میں ہوتا کہیں آپ نے رد کر دیا ہے ورنہ تو گوہرِ نایاب میں ہوتا کہیں بج رہا ہوتا مرا ڈنکا سحر میں اگر پنجاب میں ہوتا کہیں

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ جلیل عالی

مدح کی مشکلوں سے ڈرتے ہیں لفظ اپنی حدوں سے ڈرتے ہیں اے شہِ ثَورؐ ! تیرے دیوانے کب جہاں کے ڈروں سے ڈرتے ہیں حوصلہ بس حِرا سے ملتا ہے جب بھی تنہائیوں سے ڈرتے ہیں تیری دُھن میں سلجھتی جاتی ہیں ہم کہ جن الجھنوں سے ڈرتے ہیں اہلِ باطل کہ کج کلاہِ حرم سب ترےؐ عاشقوں سے ڈرتے ہیں کیسے کیسے شہانِ جاہ و جلال تیرےؐ خستہ تنوں سے ڈرتے ہیں معجزہ ہے کہ اب بھی، شب زادے تیرےؐ روشن دنوں سے ڈرتے ہیں ہم ترےؐ اور…

Read More

سید آلِ احمد

گرتی ہے جس پہ برق یہی وہ لباس ہے سر پر دکھوں کی کالی ردا اوڑھ کر نہ بیٹھ

Read More

خالد علیم ۔۔۔ کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں

کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں ……………… کہانی یہیں ختم ہوتی نہیں میاں راج آنند جب مہرباں تھے بہت بھاری بوٹوں کی قیمت ادا کرکے وہ شہرِ گریاں سے نکلے تھے صحرا کی تپتی جھلستی ہوئی ریت کا تجربہ اصل مقصود تھا لیکن افسو س ہے، ان کو صحرا نشینوں کے اونٹوں کو پانی پلانے پہ مامور رکھا گیا تھا انھیں شہرِ گریاں سے نکلے ہوئے ایک مدّت ہوئی تھی میاں راج آنند جب مہرباں تھے سجیلے جواں تھے کسی روز وہ لوٹ کر شہرِ گریاں میں آئے تو اشکوں کی…

Read More

غلام حسین ساجد

لہو کا رنگ ہوں میں، آئنے کا خواب ہوں میں اسے خبر ہی نہیں کس قدر خراب ہوں میں

Read More

وزیر آغا ۔۔۔ سفر کا دوسرا مرحلہ

سفر کا دوسرا مرحلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلی کب ہوا کب مٹا نقش پا کب گری ریت کی وہ ردا جس میں چھپتے ہوئے تو نے مجھ سے کہا آگے بڑھ آگے بڑھتا ہی جا مڑ کے تکنے کا اب فائدہ کوئی چہرہ کوئی چاپ ماضی کی کوئی صدا کچھ نہیں اب اے گلے کے تنہا محافظ ترا اب محافظ خدا میرے ہونٹوں پہ کف میرے رعشہ زدہ بازؤں سے لٹکتی ہوئی گوشت کی دھجیاں اور لاکھوں برس کا بڑھاپا جو مجھ میں سما کر ہمکنے لگا مجھ کو ماضی سے کٹنے…

Read More

خالد احمد

اس بلندی پہ ہم نے پڑاؤ کیا جس کے آگے فقط پستیاں رہ گئیں

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عبدالرئوف زین

میں دلوں سے تھا سب کے نکالا ہوا ان کی نسبت ملی تو میں اعلیٰ ہوا قرب معراج کی شب ملا آپ کو وصل کا معجزہ تھا ، نرالا ہوا آپ سارے مبارک مجھے دیجیے نعت گوئی مرا اب حوالہ ہوا یہ زمانہ بھٹکتا اندھیروں میں تھا ’’آپ آئے جہاں میں اُجالا ہوا‘‘ آپ کا نام ہی عین دینِ خدا آپ سے دین کا بول بالا ہوا نعتِ خیرالبشر جب کہی شوق سے اوج پر بخت کا پھر ہمالہ ہوا زین کو جب نبی کی محبت ملی زندگی کا مکمل…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ تھل صحرا میں رات گزاری اوِر مقتل میں صبح

تھل صحرا میں رات گزاری اوِر مقتل میں صبح اِک کربل میں شام ہُوئی اور اِک کربل میں صبح سیرِ جہاں کے بعد ہمیں بس اِتنا یاد رہا جنگل ہی میں رین گذاری اوِر جنگل میں صبح شہر کی سڑکوں پر دیکھے ہیں ایسے لاغر جسم جاڑوں کی راتوں میں کرتے اِک کمبل میں صبح دو پل ہی کا میلہ تھا لیکن اِس جیون میں پچھلے پل میں شب کا سماں تھا ، اگلے پل میں صبح یہ تو بے گھر لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے اِک ہوٹل میں شب…

Read More

محمد شفیق انصاری ۔۔۔ موسمِ گُل عجب گُل کھلانے لگا

موسمِ گُل عجب گُل کھلانے لگا میرا محبوب چہرہ چُھپانے لگا قربتیں خواب ہوکر سبھی رہ گئیں مِلنا جُلنا تو بالکل ٹھکانے لگا ہم پہاڑوں سے خائف نہیں ہو سکے ایک ننھا سا ذرّہ ڈرانے لگا غیرمحتاط سارے رویّے گئے ہر کوئی احتیاطیں بتانے لگا قیدِ تنہائی جس کو دوا میں مِلی وہ جبیں کو زمیں سے لگانے لگا ہر معالج محافظ مسیحا بنا کھیل کر جاں پہ جانیں بچانے لگا شفیق امتحاں کے دنوں میں ہیں اب ہم کو پروردگار آزمانے لگا

Read More