خالد علیم ۔۔۔ رباعیات

سورج ہے عجیب، کچھ اُجالا کرکے اک اگلی صبح کا تقاضا کرکے ہر رات ستاروں کو بجھا دیتا ہے ہر روز نکلتا ہے تماشا کرکے ٭ حیرت کی فراوانی گھر پر ہے میاں باہر بھی گھر جیسا منظر ہے میاں آنکھیں نہ جلا کہ اندروں جل جائے خاموش کہ خامشی ہی بہتر ہے میاں ٭ کھِل سکتا ہے گوبر سے گُلِ ریحانی جوہڑ سے نکل سکتا ہے میٹھا پانی یہ جَہلِ مرکّب جو نہیں تو کیا ہے؟ نادان کی نادانی پر حیرانی ٭ ایسا بھی بے خبر کوئی دل ہوگا؟…

Read More

شکیب جلالی ۔۔۔ رباعیات

تقدیسِ شباب سے شرارے پھوٹے انگڑائی کہ جیسے ماہتابی چھوٹے یوں اُٹھ کے گریں وہ شوخ بانہیں گویا اک ساتھ فلک سے دو ستارے ٹوٹے ۔۔۔۔۔۔۔ مے خانہ بدوش یہ گلابی آنکھیں زلفیں ہیں شبِ تار تو خوابی آنکھیں مستی کے جزیروں سے پکارا کوئی ساون کی پھواریں یہ شرابی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ گل رنگ یہ زرکار سی بھوری کرنیں سیماب سے دھوئی ہوئی نوری کرنیں بلور سی بانہوں پہ دمکتے ہوئے بال مہتاب کی قاشوں پہ ادھوری کرنیں ۔۔۔۔۔۔۔ انگ انگ میں بہتے ہوئے مہ پارے ہیں کس درجہ شرر…

Read More

مامون ایمن ۔۔۔ تعارفِ مامون ایمن بہ قلم خود (رباعیات)

تعارفِ مامون ایمن بہ قلم خود (رباعیات) خود دیس کی ہا و ہُو سے بچھڑا ہوں میں پردیس کی ہا و ہُو میں تنہا ہوں میں مامون نے ایمن سے کہا ہے ہر پَل ہر سانس پہ اک کرب کا چرچا ہوں میں ۔۔ یہ کرب، مری ذات کا سودا بھی ہے سودا ہے کہ شیشہ ہے، جو بکھرا بھی ہے آئینہ نے پوچھا ہے یہ ہنس کر اکثر ’’ تُو خود کو کسی حال میں سمجھا بھی ہے؟‘‘ ۔۔۔ مَیں خود کو سمجھ لیتا، تو اچھا ہوتا منزل کے…

Read More