کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عجب دن تھے وہ جھاڑیاں آگ کے جھنڈ کائی زدہ تال جن کے کنارے ہزاروں برس سے کھڑے جنڈ اور ون کے ڈھانچے پھلائی کے پھرواں کے جنگل جو دھرتی پہ بچھ سے گئے تھے اداسی ہوا بن کے پھرتی تھی اور سنت سادھو پرانے درختوں کے نیچے بچھی گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے تھے خود اپنے ہی اندر کے تاریک جنگل کا حصہ بنے تھے عجب دن تھے وہ جب بھی کچھ کہنا چاہا گھسے مردہ لفظوں کی کوئی کمک تک نہ آئی جو آئی…
Read MoreCategory: آج کی نظم
وزیر آغا ۔۔۔ چٹکی بھر روشنی
چٹکی بھر روشنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہونا تھا یہ ہونا تھا کہ میں نے اک عجب اسرار کے اندر چلے جانے کی خواہش کی جہاں خستہ چٹانیں جا بجا بکھری پڑی تھیں شجر پتھرا گئے تھے کلس مینار گنبد بھر چکے تھے جہاں اک دھند کا بے انت لمبا غار تھا جس میں نہیں کی بادشاہت تھی میں کھنچتا جا رہا تھا غار کی جانب اترتا جا رہا تھا اک عجب اسرار کے اندر جہاں اک پر تھا ٹھنڈی روشنی کا جو ہونے کی انوکھی داستاں اندھے خلا کی لوح پر…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں
کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں ……………… کہانی یہیں ختم ہوتی نہیں میاں راج آنند جب مہرباں تھے بہت بھاری بوٹوں کی قیمت ادا کرکے وہ شہرِ گریاں سے نکلے تھے صحرا کی تپتی جھلستی ہوئی ریت کا تجربہ اصل مقصود تھا لیکن افسو س ہے، ان کو صحرا نشینوں کے اونٹوں کو پانی پلانے پہ مامور رکھا گیا تھا انھیں شہرِ گریاں سے نکلے ہوئے ایک مدّت ہوئی تھی میاں راج آنند جب مہرباں تھے سجیلے جواں تھے کسی روز وہ لوٹ کر شہرِ گریاں میں آئے تو اشکوں کی…
Read Moreوزیر آغا ۔۔۔ سفر کا دوسرا مرحلہ
سفر کا دوسرا مرحلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلی کب ہوا کب مٹا نقش پا کب گری ریت کی وہ ردا جس میں چھپتے ہوئے تو نے مجھ سے کہا آگے بڑھ آگے بڑھتا ہی جا مڑ کے تکنے کا اب فائدہ کوئی چہرہ کوئی چاپ ماضی کی کوئی صدا کچھ نہیں اب اے گلے کے تنہا محافظ ترا اب محافظ خدا میرے ہونٹوں پہ کف میرے رعشہ زدہ بازؤں سے لٹکتی ہوئی گوشت کی دھجیاں اور لاکھوں برس کا بڑھاپا جو مجھ میں سما کر ہمکنے لگا مجھ کو ماضی سے کٹنے…
Read Moreوزیر آغا ۔۔۔ کہاں سے تم آئے ہو بھائی
کہاں سے تم آئے ہو بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سفیدے کے سنبل کے اور پوپلر کے چھریرے شجر مری جوہ میں آئے تھے جب مری سبز دھرتی کا اک بھی پرندہ انہیں دیکھنے ان کی شاخوں میں آرام کرنے کو تیار ہرگز نہیں تھا کبھی کوئی پھولے پروں والی اک پھول سی فاختہ ان کی شاخوں کی جانب امنڈتی تو بو سے پریشان ہو کر فلک کی طرف تیر بن کر کچھ اس طور جاتی کہ جیسے وہ واپس زمیں پر نہیں آئے گی اور اب حال یہ ہے پھلا ہی کے…
Read Moreسید فخرالدین بلے ۔۔۔ نزول ِقرآن
نزول ِقرآن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چار سو جلوۂ لَولَاکَ لَما رقص میں ہے والقلم ! سلسلۂ ارض و سما رقص میں ہے لیلۃ القدر میں خورشید بکف ہے جبریلؑ جبل النْور پہ خود نورِ ہدیٰ رقص میں ہے صبحِ تہذیبِ طریقت کی اذاں سے پہلے ہمہ تن کار گہِ قدر و قضا رقص میں ہے عرشِ اعیان کی لے فرشِ زمیں تک پہنچی سازِ اقرا پہ شبستانِ حرا رقص میں ہے وجد میں عالمِ امکاں ہی نہیں ہے ، والعصر اپنے نغمات پہ خود نغمہ سرا رقص میں ہے عالمِ وجد میں…
Read Moreمحمد ندیم صادق ۔۔۔ فلسطین اور ہم
فلسطین اور ہم ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ کو نیند نہیں آتی مجھے فلسطینی بچوں کی صدائیں سنائی دیتی ہیں لاشیں بکھری ہیں ہر جانب گلیوں میں، بازاروں میں چوکوں میں چوراہوں میں ڈھیر لگے ہیں ملبے کے بھیڑ مچی ہے لاشوں کی کوئی سکول بچے ہیں نہ ہی شفا خانے ظالم کے گولوں سے اگلی نسل ہماری ختم ہو رہی ہے اور ہم …………
Read Moreعقیدت ۔۔۔ اعجاز دانش
عقیدت زہے صبا! کہ ہے تیرا گزر مدینے میں مرا بھی حال وہاں عرض کر مدینے میں فلک پہ ہے جو مقام ان کا وہ خدا جانے ہے اس زمیں پہ محمدؐ کا در مدینے میں حضورِ سیدِ کونین مجھ سے پہلے مری ہے کیا نصیب کہ پہنچے خبر مدینے میں مدینہ آئینۂ روز و شب ہے اور یہ زیست ہے کیا ہی خوب کہ ہو خود نگر مدینے میں نہ بے مراد رہوں میں نہ در بدر ہی پھروں جو عمر اُن کے ہو در پہ بسر مدینے میں…
Read Moreسعادت سعید … (قلب ماہیت) مشرقی پاکستان کے لیے ایک نظم
قلب ماہیت (مشرقی پاکستان کے لیے ایک نظم) ………. تمہارے سائے مری تمنا کے جنگلوں میں بھٹک گئے ہیں ابھی ہواؤں کی آستینوں میں خواہشوں کے کنول دھڑک کر ہر ایک شے کو غبارِ باراں کی ٹھنڈکوں کا لباس دیں گے ابھی تمہارے نقوشِ نگراں میں ریت ہوتے مسافروں کے حواس پھیلیں گے سایہ سایہ سمندروں سے بھی گہری آنکھیں پلک پلک پر اداس خوشبو کے آئنوں میں سکوتِ آتش ابل پڑے گا میں زیرِ لب خامشی میں کھوئے حروفِ بیدار جانتا ہوں جہانِ تیرہ میں کرنیں چننے کی آرزو…
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ عقیدت
عقیدت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سے ہے دینِ قَیِم، آپ کی نسبت سے ہم یہ نشاں قائم تو کس کو عُقبیٰ و دنیا کا غم یا رسول اللہ محبت آپ کی دل پر رقم یا رسول اللہ محبت آپ کی ہم کو انم یا رسول اللہ ہے اُسوہ آپ کا دوزخ نجات یا رسول اللہ ہے اُسوہ آپ کا جنت قدم یا نبی یا احمدِ مختار یا خیر البشر آپ کی نسبت سے امت کا لقب خیر الامم دل کی ہر اک ضرب ہے صلِ علیٰ صلِ علیٰ اور لب پر یا…
Read More