اے یوسف ِ گم گشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا علم کہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ ہو شاد جہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ سکھ میں ہے کہ دُکھ میں ہے معلوم نہیں ہم کو مدت سے نہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ مشکل ہے بہت مشکل جینا تیری دوری میں سرمایہِ جاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ ہر چند ہوا غائب یعقوب کی نظروں سے پر دل پر عیاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ گرگوں سے فزوں نکلے تیرے لیے بھائی بھی بے امن و اماں…
Read MoreCategory: آج کی نظم
عنبرین صلاح الدین ۔۔۔ بار
بار ……… بار کے سامنے دوست ہنستے ہیں جب تیز گاڑی کے پہیے، سڑک کی رگڑ سے پگھلتے ہیں جلنے کی بو اور چنگھاڑتی تیز رفتار گاڑی اچانک قریب آ کے جھٹکے سے رکتی ہے پہیوں کی چیخوں میں لپٹی ہوئی گالیوں کی صدائیں ابھرتی ہیں اور آنے والے کہانی سناتے ہیں ’’فٹ پاتھ نے آج روکا، وگرنہ یہ گاڑی کہیں نہر میں جا نہاتی مگر کیا کریں، زندگی، سالی یہ تو تبھی لطف دیتی ہے جب گاڑی اڑنے لگے ورنہ کیا زندگی!‘‘ بار کی میز پر چند اوندھے پڑے،…
Read Moreڈاکٹر وزیر آغا ۔۔۔ امید
امید ۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی تیرہ غار کے مانند اور میں روشنی کا شیدائی کانپتی اونگھتی سی دیواریں پتھروں پر سجی ہوئی کائی گیلی گیلی سیہ چٹانوں پر گرتی بوندوں کی نغمہ پیرائی تیرگی اور ہزار آوازیں دل رہینِ فریبِ تنہائی ہر قدم لغزشوں کا افسانہ ہر نفس وقفِ ناشکیبائی دور لیکن وہ نور کا نقطہ پیکرِ سیم گوں کی رعنائی طشتِ گردوں میں جیسے نجمِ سحر شب کی آنکھوں میں جیسے بینائی
Read Moreمرزا آصف رسول ۔۔۔ آئینۂ صفات حق
آئینۂ صفاتِ حق ان سے وفا کی ابتدا صل علی محمدٍ ان پہ وفا کی انتہا صل علی محمدٍ صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنَا پڑھ دل و جاں سے وہ درود گونجے افق افق صدا صل علی محمدٍ عشق کے ماسِوا ہے کیا ؟ عشق سے بھی سَوا ہے کیا ؟ سب نہیں اس میں کیوں سَوا صل علی محمدٍ ہم تھے عدم میں کالعدم ، ان پہ درود کے لئے لائی وجود میں قضا صل علی محمدٍ ان پہ درود القلم ، ان پہ درود الکتاب ان پہ درود الھدیٰ صل…
Read Moreسارا شگفتہ ۔۔۔ خالی آنکھوں کا مکان
خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو آگ کا ذائقہ چراغ ہے اور نیند کا ذائقہ انسان مجھے پتھروں جتنا کس دو کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو میں خدا کی زبان منہ میں رکھے کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا زنجیروں کی رہائی دو کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے مجھے تنہا مرنا ہے سو یہ آنکھیں یہ دل کسی خالی انسان کو دے…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ ہیچ ہے (مولانا حالی کے ایک شعر پر تضمین)
ہیچ ہے (مولانا حالی کے ایک شعر پر تضمین) جس طرح اک صید‘ صیادوں کے آگے ہیچ ہے شاعری میری سب اُستادوں کے آگے ہیچ ہے جانتا ہوں میں کہ یہ میری دکانِ شیشہ گر وقت کے آئینہ آبادوں کے آگے ہیچ ہے یہ مرا فکرِ سخن آثار‘ اندازِ جدید فکر و فن کی کہنہ بنیادوں کے آگے ہیچ ہے سنگ زارِ فن پہ میرے لفظ کی تیشہ زنی کوہسارِ فن کے فرہادوں کے آگے ہیچ ہے جانتا ہوں‘ یہ مرا طرزِ ادا‘ رنگِ صدا مانیوں کے اور بہزادوں کے…
Read Moreنسیم نازش ۔۔۔ دائرہ در دائرہ
دائرہ در دائرہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہر ایک قسمت میں لکھا ہے مسلسل دائروں میں گھومتے رہنا سفر سارے سفر یونہی کٹے ہیں ہماری زندگی بھی ایک ہی مرکز کے چکر کاٹتی ہے وہ مرکز صرف تھوڑی سی محبت اور عزت اور اک نانِ جویں کی آرزو ہے کبھی جو مل نہ پائے ایک ایسے ہم سفر کی جستجو ہے میں برسوں سے کسی آندھی کے جھکڑ کی طرح اس دائرے کے رقصِ پیہم سے بہت گھبرا گئی ہوں کہ میں چکرا گئی ہوں مگر یہ تو ازل کا سلسلہ ہے…
Read Moreانور مسعود ۔۔۔ نظم (بیادِ امجد اسلام امجد)
نظم (بیادِ امجد اسلام امجد) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے انور ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے؟ غم و اندوہ کی شِدّت نہ پوچھو یہ لگتا ہے بہت کچھ کھو گیا ہے زبانِ خلق دیتی ہے گواہی وہ جنّت کی طرف ہی تو گیا ہے رہو چُپ چاپ امجد کے سرہانے ابھی کچھ لِکھتے لِکھتے سو گیا ہے
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ گاؤں والا
گاؤں والا میں یاری دوستی کا ذوق رکھوں پسندیدہ ہے میری آشنائی میں بیلے پر کبڈی کھیل کھیلوں جو لہروں نے مجھے تیزی سکھائی میں نغمہ بار کھیتوں میں پھرا ہوں بھری فصلوں نے بخشی ہے رسائی اطاعت گاؤں کے بچّوں سے سیکھی بزرگوں نے سکھائی ہے بڑائی میں لکھوں خوش خطی کاغذ پہ ایسے مرے دل میں ہے روشن روشنائی ملے پنگھٹ سے نینوں کو ستارے بھلی ہے آنچلوں کی رونمائی گھنے تھے گاؤں میں والد کے سائے بڑی میٹھی تھی جنت مامتائی ستارہ وار میں گلیوں میں گھوموں…
Read Moreزعیم رشید ۔۔۔ بلوغت کی ایک نظم
کھل جاسم سم کھل جاسم سم…. کھل جاسم سم کہنے سے بھی غار دہانہ کب کھلتا ہے! میں نے اپنے تشنہ، ترسے گرم لبوں سے نیند کے ماتے تن پر ہلکے ہلکے دستک دی تو کوئی نہیں تھا کنڈلی مار کے بیٹھی دھوپ سے خود کو ڈسوانے کی لذت اب شہوت میں بدل گئی تھی جسم کی وحشت الماری میں اِک ہینگر سے لٹک رہی تھی اس کھڑکی کی انگڑائی میں ایک خزانہ دہک رہا تھا ایک برہنہ مست کنواری خواہش تھی جو اب دو مونہی ناگن بن کرپھن پھیلائے…
Read More