ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ مشرقی چیخیں

عرفی، مرا چہیتا چالیس دن کا بیٹا، آغوش میں ہے میری۔ آنکھیں گھما گھما کر، لاتیں چلا چلا کر جذبے ابھارتا ہے ۔ ہنس کر، ہمک ہمک کر کلکار مارتا ہے ۔ لیکن ذرا سنو تو! کلکار کے عقب سے یہ کون چیختا ہے ۔ عصّو ، مری نہایت خدمت گار بیوی، میں جس کی ہر ادا پر، دل سے فریفتہ ہوں ، عرصے کے بعد، گھر کے جنجال سے بچا کر تھوڑا سا وقت، میرے بستر پہ آ گئی ہے ، سرگوشیوں میں ، پچھلے بارہ برس میں پل…

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی : جھولنا حاتم کے سر کا۔۔۔

اور حاتم طائی نے جب، اسم اعظم پڑ ھ کے ، ان پر دم کیا۔ پیڑ پر لٹکے ہوئے سر، گر پڑے تالاب میں ، اپنے جسموں سے گلے مل کر، نہایت خوش ہوا پریوں کا غول۔ مہ لقاؤں میں جو سب سے خوب تھی، شکریے کے طور پر حاتم سے ہم بستر ہوئی۔ یہ بدن ہی سے بدن کا تھا ملاپ، جسم اور سر کا نہیں ۔ اس واسطے ، اسم اعظم کا اثر جاتا رہا، تب سے ، حاتم طائی کا سر، جھُولتا ہے پیڑ پر۔ اور، دھڑ…

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ رِستا ہوا بوسہ

میں نے اس کے تھر تھراتے ہونٹ پر، کچھ اس طرح آہستگی سے ، رکھ دیے تھے ہونٹ اپنے ، جیسے چوڑی پر کوئی چوڑی بٹھائے ۔ ذہن میں ہلکی سی شیرینی کا خوش کن ذائقہ ہے ۔ سانس میں خوشبو گھلی ہے ، شہد میں دوبی ہوئی چمپا کی پنکھڑیوں کا عالم، پھر مرے احساس میں کیوں …….. کانچ کا ٹکڑا سا چبھ کر رہ گیا ہے ، میرے ہونٹوں پر، یہ سُرخی کس لیے ہے ؟!

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ فیڈنگ پرابلم

شہر میں کرفیو لگا ہے ۔ میری ہمسایہ کے گھر طوفاں بپا ہے ۔ دودھ اس کی چھاتیوں سے بہہ رہا ہے بھوک سے بے حال اس کا بچہ کپڑے نوچتا ہے دودھ کا ٹِن اس طرف خالی پڑا ہے ۔ شہر میں کرفیو لگا ہے

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔۔ ہابیل کی منطق

کوٹھے سے ، حوّا کی بیٹی جھانک رہی تھی۔ اس نے اپنا بٹوہ دیکھا۔ ٹھنڈے دل سے غور کیا۔ پہلے جانے میں پیسے زائد لگتے ہیں ، اور سمَے بھی کم ملتا ہے ۔ لہجے میں ایثار سمو کر، وہ اپنے ساتھی سے بولا: پہلا حق تو تیرا ہے ، بھائی قابیل!

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ڈوبنے جاؤں تو دریا…….

کرارے نوٹ چھن چھن بولتے سکّے ، شیئر، ہُنڈی، چمکتی میز، الماری، نگر کے سیٹھ، افسر اور پھر ان کے حواری، کلرکوں کی زبان پر موٹے موٹے ہندسے جاری، قلم بھاری۔ فضا میں بینک کی ہر سمت اک سنجیدگی طاری۔ نہ جانے کیسے چوکیدار کی آنکھیں بچا کر، نیم خبطی اک بھکاری، کب بڑے صاحب کے کمرے میں در آیا، لگا تھا پیٹھ سے جو پیٹ، دکھلایا۔ کہا: سرکار مل جائے اگر اک نوٹ دس کا، میں چنے لے کر چبا لوں ، پیٹ کا دوزخ بجھا لوں ۔ جواباً…

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ ایک نظم

دن چڑھ آیا، چل ہم زاد، میرے بستر پر تو آ جا۔ کالی نفرت، سُرخ عقیدت، بھوری آنکھوں والی حیرت، بھولی بھالی زرد شرافت، نیلا نیلا اندھا پیار، رنگ برنگے غم کے تار، خوشیوں کے چمکیلے ہار، دھانی، سبز، سپید، سنہرے، اپنے سارے نازک جذبے، پھر دن کو تجھ کو سونپے، مصلحتوں کے شہر میں ان کے، لاکھوں ہیں جلّاد۔ دن چڑھ آیا، چل ہم زاد!

Read More

اکرم سحر فارانی ۔۔۔ چھ ستمبر

ظُلمت کے جزیرے سے اَندھیروں کے رسالے آئے تھے دبے پاؤں اِرادوں کو سنبھالے دُشمن کے قدم کی جو پڑی کان میں آہٹ جاگے تھے مری قوم کے خوابیدہ جیالے توحید کے فرزند رسالت کے مجاہد ٹیپو تھا کوئی اُن میں کوئی طارق و خالد جب شوقِ شہادت میں بڑھی اُن کی سواری شیشے کی طرح کٹ گئے پتھر کے پُجاری گونجی تھی مجاہد کی اَذاں کھیم کرن میں نصرت کی بہار آ گئی گُلزارِ وطن میں رانی کے نشانے پہ گُمنڈی کا جہاں تھا خود اپنی چِتَا بھارتی لشکر…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ سوالیہ اندیشے

سوالیہ اندیشے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس خزاں کی نئی اداسی کا رنگ کتنے برس پرانا ہے؟ زندگی مسکرا کے پوچھتی ہے وہ ممالک کہ جن کے جھنڈوں پر امن کی فاختائیں بیٹھی ہیں جنگ کے گیت گا رہے ہیں وہی اجلی اجلی سی صبح کی تتلی کیوں چپکنے لگی ہے کھڑکی سے؟ جالیاں پوچھتی ہیں شیشوں سے سنگ باراں کی تہہ میں کیا اب بھی کل کی وحشی ہوائیں دبکی ہیں؟ کیا تصادم کا کھیل جاری ہے ! ۔۔۔۔۔۔۔۔

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ امکان (نثری نظم) ۔۔۔ ماہنامہ بیاض اکتوبر ۲۰۲۳)

امکان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کو پیدا ہونے والی تاریکی روشنی کا مطالبہ کرتے ہُوئے گھبرا جاتی ہے جسے غلامی نے جنم دیا ہو وہ آواز آزادی کی صدا لگاتے ہُوئے لڑکھڑا جاتی ہے دیوار کا سہارا لے کر چلتے ہُوئے سائے میں دِیے کی چاپ سننے کی سکت باقی نہیں رہتی اُفق پر ڈوبتا ہُوا سورج ہماری دن بھر کی جمع کی ہُوئی چنگاریاں بجھائے دے رہا ہے آؤ کچھ دیر کے لیے آنکھیں میچ لیں اور اگلی صدی کے آنے تک اپنا سر جسم سے الگ کر کے حفاظت سے…

Read More