فرحت پروین ۔۔۔ تمھارے چار سو میں ہوں

’’کبوتر کے پروں پر لکھ کے جو پیغام بھیجا تھا ملا تم کو؟‘‘ ابھی تو رنگ بھرنے تھے بہت سے میں نے لفظوں میں بھلا بیٹھی جو عجلت میں سو تتلی کو روانہ کر دیا ہے اس تعاقب میں مگر پھر ناگہاں دل میں خیال آیا مرا سوزِ دروں شاید عیاں پھر بھی نہ ہو پائے تمہاری سمت اب محوِ سفر ہے ایک بلبل بھی مگر وہ ہوک جو رہ رہ کے اٹھتی ہے مرے دل سے تڑپ اس کی سما پائے گی کیا بلبل کے نغمے میں سو لازم…

Read More

خورشید رضوی ۔۔۔ سات سمندر پار وطن کی یاد​

سات سمندر پار وطن کی یاد​ ……………………………………………………………………………….. اے میرے وطن اے پیارے وطن جب اسکولوں کے گیٹ کھلیں جب بچوں‌کا ریلا آئے پتھر کی سڑک پر پھول کِھلیں خوشبوؤں کا دریا آئے جب ایک سی وردی پہنے ہوئے بچوں کو گھر والے بھولیں جب سائیکلوں اور تانگوں پر بستے لٹکیں، تھرمس جھولیں تب سات سمندر طے کر کے اُن کی چاپیں مجھ کو چھو لیں اور دل مین درد کی ہوک اُٹھے اے میرے وطن اے پیارے وطن جب رنگ بھرا ہو شاموں میں جب بور لدا ہو آموں میں…

Read More

شاہین عباس ۔۔۔   اے تصویر انسان​

اے تصویر انسان​ (۱) کوئی کوئی دن سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں کبھی کبھی کا جھونکا سا دن کئی کئی دن چلتا ہے سِن اندرسِن سال اندرسال قرنوں اندر قرن الٹتا قرن پلٹتا بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا جسم ہیولوں سا اک چولا دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ، تو جیسے دنیا کے نقشے پر گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے دن جیسے…

Read More

سعید دوشی ۔۔۔ کوکھ جلا سیارہ​

کوکھ جلا سیارہ​ یہ سیارہ جو بالکل بیضوی کشکول جیسا ہے گلوبی گردشیں ساری ہمیشہ سے اسی کے گرد گھومی ہیں جو مقناطیس، مقناطیسیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو پھر کمپاس کیا سمتیں بتائیں یہاں دل ہی نہیں گھٹتا بدن کا وزن بھی تفریق در تفریق ہوتا مثبتوں سے منفیوں کے دائروں میں گھومتا محسوس ہوتا ہے مسلسل گردشوں پر گر کوئی نظریں جمائے گا تو پھر چکر تو آئیں گے یہاں املی نہیں ملتی فقط ناپید جیون ہی کے کچھ آثار ملتے ہیں گہر ہونے کی خواہش میں برسنے…

Read More

عزیز فیصل ۔۔۔ دل کو دل سے رہ ہوتی ہے (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )

دل کو دل سے رہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک دن اس نے فون پہ پوچھا: ’’کیسے ہو؟‘‘ میں ششدر حیران ہوا تھا زندہ کیا امکان ہوا تھا؟ وہ پھر بولی: ’’میں نے پوچھا کیسے ہو کیا ویسے کے ویسے ہو؟‘‘ لفظ کہاں تھے جو دل کے ارمانوں کی تصویر بناتے اور بتاتے تنہائی کے اک گھنٹے میں کتنے سال سما جاتے ہیں روح میں کیسے درد پرانے در آتے ہیں وہ پھر بولی: ’’ کیسے ہو بولو، فیصل !اور بتاؤ دس برسوں کا لمبا عرصہ کیسے گزرا ، کیونکر کاٹا‘‘…

Read More

مجید امجد ۔۔۔ التماس

التماس مری آنکھ میں رتجگوں کی تھکاوٹ مری منتظر راہ پیما نگاہیں مرے شہرِ دل کی طرف جانے والی گھٹاؤں کے سایوں سے آباد راہیں مری صبح تیرہ کی پلکوں پہ آنسو مری شامِ ویراں کے ہونٹوں پہ آہیں مری آرزوؤں کی معبود! تجھ سے فقط اتنا چاہیں، فقط اتنا چاہیں کہ لٹکا کے اک بار گردن میں میری چنبیلی کی شاخوں سی لچکیلی بانہیں ذرا زلفِ خوش تاب سے کھیلنے دے جوانی کے اک خواب سے کھیلنے دے

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ صور اسرافیل

اب تو بستر کو جلدی سے تہہ کر چکو لقمہ ہاتھوں میں ہے تو اسے پھینک دو اپنے بچوں کی جانب سے منھ پھیر لو اس گھڑی بیویوں کی نہ پروا کرو راہ میں دوستوں کی نظر سے بچو اس سے پہلے کہ تعمیل میں دیر ہو سائرن بج رہا ہے ۔ چلو دوستو!

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ دوسری جلاوطنی

جب گیہوں کا دانا جنس کا سمبل تھا، اس کو چکھنے کی خاطر، میں جنت کو ٹھکرا آیا تھا۔ اب گیہوں کا دانہ، بھوک کا سمبل ہے ۔ جس کو پانے کی خاطر، میں اپنی جنت سے باہر ہوں !

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ مشرقی چیخیں

عرفی، مرا چہیتا چالیس دن کا بیٹا، آغوش میں ہے میری۔ آنکھیں گھما گھما کر، لاتیں چلا چلا کر جذبے ابھارتا ہے ۔ ہنس کر، ہمک ہمک کر کلکار مارتا ہے ۔ لیکن ذرا سنو تو! کلکار کے عقب سے یہ کون چیختا ہے ۔ عصّو ، مری نہایت خدمت گار بیوی، میں جس کی ہر ادا پر، دل سے فریفتہ ہوں ، عرصے کے بعد، گھر کے جنجال سے بچا کر تھوڑا سا وقت، میرے بستر پہ آ گئی ہے ، سرگوشیوں میں ، پچھلے بارہ برس میں پل…

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی : جھولنا حاتم کے سر کا۔۔۔

اور حاتم طائی نے جب، اسم اعظم پڑ ھ کے ، ان پر دم کیا۔ پیڑ پر لٹکے ہوئے سر، گر پڑے تالاب میں ، اپنے جسموں سے گلے مل کر، نہایت خوش ہوا پریوں کا غول۔ مہ لقاؤں میں جو سب سے خوب تھی، شکریے کے طور پر حاتم سے ہم بستر ہوئی۔ یہ بدن ہی سے بدن کا تھا ملاپ، جسم اور سر کا نہیں ۔ اس واسطے ، اسم اعظم کا اثر جاتا رہا، تب سے ، حاتم طائی کا سر، جھُولتا ہے پیڑ پر۔ اور، دھڑ…

Read More