بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read MoreCategory: آ
آرزو لکھنوی
آشوبِ جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیں آنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجیالی راتیں ہوتی ہیں
Read Moreآشفتہ چنگیزی
عرصے سے اس دیار کی کوئی خبر نہیں مہلت ملے تو آج کا اخبار دیکھ لیں
Read Moreخالد احمد
آج دل کی وہ چھب ، وہ دھج نہ سہی ہجر میں داغ دار سا ، کچھ ہے
Read Moreعمران فرحت
آج بھی تیشۂ فرہاد ہے سرگرمِ عمل آج بھی سنگ کے سینے سے لہو جاری ہے
Read Moreرضا ہمدانی
آلام سے ہی بنتے ہیں رضا خوشیوں کے تانے بانے بھی
Read Moreجلال
آہ لیتی تھی آسماں کی خبر سانس بھی اب تو لی نہیں جاتی
Read Moreمیکش اکبر آبادی
آپ کی میری کہانی ایک ہے کہیے اب میں کیا سناؤں، کیا سنوں
Read Moreبہزاد لکھنوی
آہ کرتا ہوں اس لئے ہر دم میرے غم کا ، خدا گواہ رہے
Read Moreقابل اجمیری
آؤ اپنی زمیں کو چمکائیں چاند تاروں کا اعتبار نہیں
Read More