ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی پھول بالوں میں اک سجانے کو हाथ काँटों से कर लिए ज़ख़्मीफूल बालों में एक सजाने को
Read MoreTag: اردو شاعری
میتھیو محسن ۔۔۔ ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں
ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں قید الفت سے رہا ہو جائیں ہم اندھیروں سے الجھ کر شاید صبحِ ارماں کی ضیا ہو جائیں وہ جنھیں اِذنِ پرستش نہ ملا ان کے ہونٹوں کی دعا ہو جائیں بڑھتی جاتی ہے عقیدت اُن سے یوں نہ ہو وہ بھی خدا ہو جائیں ہم ستم جھیلنے والے محسن اب زمانے کی صدا ہو جائیں
Read Moreخالد احمد खालिद अहमद
اہل زنداں کے لیے تازہ ہوا آنے کو ہے شہر جاناں سے کوئی تازہ نوا آنے کو ہے अहल-ए ज़िंदाँ के लिए ताज़ा हवा आने को हैशहर-ए जाँ से कोई ताज़ा नवा आने को है
Read Moreخالد احمد खालिद अहमद
جدائی میں بھی ہم اک دوسرے کے ساتھ رہے کڈھب رہا نہ وہ خالد سنور گئے ہم بھی जुदाई में भी हम एक दूसरे के साथ रहेक़द्र रहा न वो ख़ालिद, सँवर गए हम भी
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی
یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی نغمے بنے ہیں گریۂ پنہاں کبھی کبھی ہونکی ہیں بادِ صبح کی رو میں بھی آندھیاں ابلا ہے ساحلوں سے بھی طوفاں کبھی کبھی بڑھتا چلا گیا ہوں انہی کی طرف کچھ اور یوں بھی ہوا ہوں ان سے گریزاں کبھی کبھی آنچوں میں گنگناتے ہیں گلزار گاہ گاہ شعلوں سے پٹ گیا ہے گلستاں کبھی کبھی لے سے نکل پڑی ہے کبھی ہچکیوں کی فوج آہیں بنی ہیں راگ کا عنواں کبھی کبھی دامانِ گل رخاں کی اڑا دی ہیں…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی
بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی نہیں بھولتے کسی کو مہ و سالِ آشنائی یہی خواب ہے سفر میں رہے تو سدا نظر میں ہمیں جس طرف اڑائیں پر و بالِ آشنائی کریں جاں نثار تجھ پر کہ فدا ہیں یار تجھ پر جنھیں علم ہے گراں ہے زر و مالِ آشنائی سبھی تجھ پہ مر رہے ہیں یہ گلہ بھی کر رہے ہیں تجھے پاسِ دوستی ہے نہ خیالِ آشنائی کبھی اس سے واسطہ ہے کبھی اُس سے رابطہ ہے ترے زاویے سے ٹھہرا ہے کمالِ آشنائی کس رخ…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ محمد انیس انصاری
آقاؐ کی محبت کا اثر ختم نہ ہو گا مکّہ سے مدینے کا سفر ختم نہ ہو گا مخلوق سدا جھولیاں پھیلائے رہے گی اس پیڑ کی شاخوں پہ ثمر ختم نہ ہو گا مِلتی رہیں گی نِت نئی لفظوں کو قبائیں سرمایۂ اربابِ نظر ختم نہ ہو گا ہر نعت میں گونجے گی ترے عشق کی آواز حسّانؓ ترا حسنِ ہنر ختم نہ ہو گا مت پوچھیئے اُس شہرِ مدارات کا احوال لنگر ہے ، کہ جو شام و سحر ختم نہ ہو گا جُز حرفِ شکیبائی انیسِ دل…
Read Moreافتخار شوکت ۔۔۔ اس کی باتیں سنا رہی ہے ہوا
اس کی باتیں سنا رہی ہے ہوا مجھ کو پاگل بنا رہی ہے ہوا بنتے جاتے ہیں نقش پانی پر اپنا جادو دکھا رہی ہے ہوا وا کیے بیٹھا ہوں دریچۂ دل اس کی یادوں کی آ رہی ہے ہوا بات سنتا نہیں کوئی اس کی کب سے در کھٹکھٹا رہی ہے ہوا شور جنگل کا سن کے لگتا ہے مجھ کو شاید بلا رہی ہے ہوا دے رہی ہے تسلی جھوٹی مجھے آنسوؤں کو سکھا رہی ہے ہوا دیر سے بے قرار لگتی ہے خشک پتے اڑا رہی ہے…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی
میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی شبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیں ظالم دہائی ہے ترے زورِ شباب کی منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روزِ حشر چہرے پہ خاک مل کے درِ بوتراب کی صورت پرست میری نگاہوں نے اصل میں دل کیا مرے وجود کی مٹی خراب کی ہر پنکھڑی کے طاق میں ہنس ہنس کے صبح کو شمعیں جلا رہی ہے کرن آفتاب کی
Read Moreصفدر صدیق رضی ۔۔۔ نظم
وہاں سب اجنبی ہونگے مسلسل ڈھونڈتے رہ جائیں گے قوم اپنے رہبر کو کوئی امت پیمبر کو کئی ماں باپ بچوں کو کوئی بھائی بہن کو دوست یاروں کو محبت کرنے والے اپنے پیاروں کو کوئی بھی مل نہ پائے گا پر اس عالم میں بھی پہچان کر تجھکو میں تیرا ہاتھ بڑھ کر تھام لوں گا
Read More