میر تقی میر ۔۔۔ مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کا

مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کاخاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کاسیکڑوں طرحیں نکالیں یار کے آنے کی لیکعذر ہی جاہے چلا اس کے دلِ بد خواہ کاگر کوئی پیرِ مغاں مجھ کوکرے تو دیکھےپھرمے کدہ سارے کا سارا صرف ہے اللہ کاکاش تیرے غم رسیدوں کو بلاویں حشر میںظلم ہے اک خلق پر آشوب اُن کی آہ کا

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا

  کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنایا تو بیگانے ہی رہیے ہو جیے یا آشناپائمالِ صد جفا ناحق نہ ہو اے عندلیبسبزۂ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشناکون سے یہ بحرِ خوبی کی پریشاں زلف ہےآتی ہے آنکھوں میں میرے موجِ دریا آشنا(ق)بلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاش کےیک مژہ رنگِ فراری اس چمن کا آشناجس کی میں‌ چاہی وساطت اُس نے یہ مجھ سے کہاہم تو کہتےگر میاں! ہم سے وہ ہوتا آشناداغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میرہونجات اس کو بچارا ہم…

Read More

غلام حسین ساجد…. بیاں اس بزم میں میری کہانی ہو رہی ہے

بیاں اُس بزم میں میری کہانی ہو رہی ہے ادائے خاص سے رنگیں بیانی ہو رہی ہے مہک آتی ہے اِک سیلی ہوئی آزردگی کی کوئی شے ہے جو اِس گھر میں پرانی ہو رہی ہے نظر آتے نہیں اَب شام کو اُڑتے پرندے تو کیا اِس شہر سے نقل مکانی ہو رہی ہے؟ بُلاوا آ گیا ہے اب کسے کوہِ ندا سے مری اطراف میں کیوں نوحہ خوانی ہو رہی ہے؟ لبوں پر ہے کسی شیریں دہن کے ذکر میرا خزاں کی شام ہے اور گل فشانی ہو رہی…

Read More