خالد احمد

محیطِ حلقۂ آزار دیکھ لیتے ہیں ہم اپنا دائرۂ کار دیکھ لیتے ہیں ہوا کی چال، ستاروں کا رُخ، سکوت کی سمت چراغ، صبح کے آثار دیکھ لیتے ہیں عجائباتِ محبت، تبرکاتِ وفا اب آ گئے ہیں تو اے یار! دیکھ لیتے ہیں یہ دل، یہ زاویۂ غم، یہ گوشۂ حسرت تری نظر سے ہم اک بار دیکھ لیتے ہیں نوازشات و عنایاتِ یار سے پہلے ہم اپنا پیرہنِ تار دیکھ لیتے ہیں قدم گرفتہ، مثالِ غبار بیٹھ رہے بس اُٹھ کے محملِ زرتار دیکھ لیتے ہیں ہم اُس گلی…

Read More

سلام…… احمد ادریس

پھر آئی شامِ  الم خون میں نہائی ہوئی پڑاؤکرتی ہوئی، دھڑکنوں میں چھائی ہوئی خیام جلنے لگے، راکھ ہو گیا سب کچھ پھر اس کے بعد وہ آزار کہ دہائی ہوئی ہم اہلِ گریہ ہیں، اپنا یہی حوالا ہے فضائے کرب و بلا آنکھ میں سمائی ہوئی تمام ہونے لگی مجلسِ شبِ عاشور کہ بارگاہِ امامت تلک رسائی ہوئی وہ شام جو سرِ کربل ملی تھی نوحہ کناں وہ شام آج ہے پلکوں پہ جھلملائی ہوئی بفیضِ شامِ غریباں ملے ہمیں آنسو شعورِ  درد سے صد شکر آشنائی ہوئی

Read More

قاضی حبیب الرحمن ۔۔۔۔۔ خاموش مناظر کی خبر آتی ہے

  خاموش مناظر کی خبر آتی ہے کچھ روز سے آواز، نظر آتی ہے جیسے کوئی بِسری ہوئی آوارہ یاد بے ساختہ سینے میں اُتر آتی ہے دیکھی ہے اک ایسی بھی سلونی صورت خلوت میں کچھ اَور نِکھر آتی ہے کیا جانیے، کیا درد ہے دل کے اندر بیٹھے بیٹھے جو آنکھ بھر آتی ہے یوں ہے کہ وہی ظلمتِ شب ہے اب تک یوں کہنے کو ہر روز سحر آتی ہے ہر صبح کو زندگی بھُلا کر سب کچھ ہر شام کو تھک ہار کے گھر آتی ہے…

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی

سفرِ شام نے رہ رہ کے ڈرایا مجھ کو جی اُٹھے سنگ و شجر دیکھ کے تنہا مجھ کو بڑھ کے احباب سے آنکھیں تو کھلی رکھتا ہوں جانے کیوں خواب نظر آتی ہے دنیا مجھ کو چودھویں شب کے طلسمات بھی ہوتے ہیں عجیب سایۂ شاخ لگا شاخ سے اچھا مجھ کو بہہ گئی عمرِ رواں آبِ رواں کی صورت اور مرے عکس سے تکتا رہا دریا مجھ کو خاک کے پار کا منظر بھی جھلکتا ہے، مگر بار دیتا ہی نہیں خاک کا پردا مجھ کو زور کرتی…

Read More

تابش دہلوی

چھوٹی پڑتی ہے اَنا کی چادر پائوں ڈھکتا ہوں تو سر کھلتا ہے

Read More

مراتب اختر

مرنے کی آرزو مرے دل سے لپٹ گئی جینے کا اِک بہانہ مرے ہاتھ آ گیا

Read More

سلام….. شہاب صفدر

غم ِ حسینؑ سے مشروط زندگی ہے مری بغیر اس کے ادھوری ہر اک خوشی ہے مری چمک رہی ہے جبیں کربلا کی مٹی سے عزا کے اشک سے آنکھوں میں روشنی ہے مری بریدہ دستِ علم دار کی بلندی سے جفا نگر میں نشانِ وفا گلی ہے مری مدار ِ سجدہء عاشور میں ہے دن میرا طواف ِ شام ِ غریباں میں رات بھی ہے مری رواں ہوں توڑ کے احرام سوئے کرب و بلا خدا گواہ مسافت یہ آخری ہے مری ہے ایک گھونٹ پہ کھلتا بھرم فراتوں…

Read More