کالی رات سفر اور مَیں …… ڈاکٹر یونس خیال

کالی رات سفر اور مَیں Download

Read More

ماہ نامہ فانوس: اپریل مئی 2019ء (گوشہ خاص: قاضی ظفر اقبال)

ماہ نامہ فانوس -اپریل مئی 2019ء Download ﷽ فہرست اداریہ شعاعیں: خالد علیم مقالات ’’نور نہایا رستہ‘‘ : ایک مطالعہ: ڈاکٹر مظہر اقبال مرزا یگانہ چنگیزی، خود پرست یا روایت شناس: ڈاکٹر راحت افشاں سیّد آنس معین کی یاد میں: نعیم رضوان نظمیں ایک آسمانی لمحہ: معین نظامی آپ ہمارا مسئلہ سمجھیں: معین نظامی ایمبولینس کے اندر سے: عنبرین صلاح الدین مکالمہ محمد خالد اختر کے ساتھ ایک یادگار مکالمہ: ڈاکٹر اشفاق احمد ورک غزلیں جلیل عالی، لیاقت علی عاصم، آصف ثاقب، ہارون الرشید، ممتاز راشد، خورشید بیگ میلسوی شاہد…

Read More

ماہ نامہ فانوس: مارچ 2019ء (گوشہ خاص: اشرف سلیم)

ماہ نامہ فانوس مارچ 2019ء Download ﷽ فہرست اداریہ شعاعیں: خالد علیم نعتیہ نعت ِ رسولِ مقبول ﷺ: محمد شریف شیوہ مقالات مضمون اور مائیگرین —’نقد ِ نو‘ کے حوالے سے: حقانی القاسمی لائل پور میں میراں بائی کا دوسرا جنم: افتخار شفیع غزلیں جلیل عالی۔ نسیمِ سحر۔ خالداقبال یاسر۔ محسن اسرار۔ یونس متین۔ شاہین عباس۔ آصف شفیع۔ اطہر جعفری۔ خورشید ربانی۔ ارشد عباس ذکی۔ ڈاکٹر فخر عباس۔ کاشف رحمان۔ قاضی ظفر اقبال۔ شاہد ماکلی۔ شاعر علی شاعر نظمیں مٹی ۔۔۔۔ سانپ (ایک منثورہ): پروین سِجل چاندنی کیا تلاش کرتی…

Read More

غزل ۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں ڈوب گیا تھا تو پھر سے اُبھرا کیوں؟

اگر میں ڈوب گیا تھا تو پھر سے اُبھرا کیوں بتا اے موجہء گرداب! یہ تماشا کیوں مجھے پتہ ہے ترے دل کی دھڑکنوں میں ہوں میں ورنہ دُکھ کی کڑی دوپہر میں جلتا کیوں رہِ طلب میں مسلسل تھکن سے خائف ہوں سکوں جو ہاتھ نہ آئے، سفر ہو لمبا کیوں یہ امتحاں تو نمودِ وفا کا جوہر تھا اُسے یقین جو ہوتا، مجھے رُلاتا کیوں یہ پائے زیست میں زنجیرِ بے یقینی کیا رکھا ہے ہم کو لبِ جو بھی اتنا تشنہ کیوں ابھی تو اگلے ہی زخموں…

Read More

خالد احمد

ہاتھ سے لَے نکل گئی، شور میں ضربِ ذات   کے ہم ہی تو گُر تھے، ہم ہی سَم، زمزمۂ حیات   کے کوئی مہک نہ چن سکا، کوئی چٹک نہ سن سکا پھول بھلا دکھائے کیا؟ بھائو سبھائو ذات   کے گھر میں نہ اک چھدام تھا، چاند چراغِ بام تھا چاند کی چھائوں دھر دیا، ہم   نے بھی سوت کات   کے ہم تھے گرفتہ سر اگر، تم تھے شکستہ پر، مگر چل دیے ہاتھ ڈال کر، ہاتھ میں کائنات   کے رقص شعار ہو گئے، رزقِ مدار ہو گئے ہم تو فقط…

Read More

نجیب احمد

پر کشا طائرِ آفات وہی ہیں کہ جو تھے خاک پر رینگتے حشرات وہی ہیں کہ جو تھے نظم تکمیل کے باوصف وہی ہے کہ جو تھی سطر در سطر زحافات وہی ہیں کہ جو تھے ابر اٹھتا ہے مگر کھل کے برستا ہی نہیں شہر پر دشت کے اثرات وہی ہیں کہ جو تھے آج بھی لوٹ گیا در سے تہی دست فقیر کیا کیا جائے کہ حالات وہی ہیں کہ جو تھے آج تک ایک بھی کوزہ نہ بنا مجھ سے نجیب کیا کروں میں کہ مرے ہاتھ …

Read More