حبیب جالب

اے دل! وہ تمہارے لیے بے تاب کہاں ہیں دھندلائے ہوئے خواب ہیں، احباب کہاں ہیں

Read More

حبیب جالب ۔۔۔ دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں بیت گیا ساون کا مہینہ، موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا، جن کے لیے بدنام ہوئے آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک…

Read More

اربابِ ذوق ۔۔۔ حبیب جالب

اربابِ ذوق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر سے نکلے کار میں بیٹھے، کار سے نکلے دفتر پہنچے دن بھر دفتر کو ٹرخایا شام کو جب اندھیارا چھایا محفل میں ساغر چھلکایا پھول پھول بھنورا لہرایا، رات کے ایک بجے گھر پہنچے گھر سے نکلے کار میں بیٹھے، کار سے نکلے دفتر پہنچے غالب سے ہے ان کو رغبت میر سے بھی کرتے ہیں الفت اور تخلص بھی ہے عظمت گھر اقبال کے کھانے دعوت چھوٹی عمر میں اکثر پہنچے گھر سے نکلے کار میں بیٹھے، کار سے نکلے دفتر پہنچےحلقے میں اتوار منانا…

Read More

عبیداللہ علیم

جو چاہے سجدہ گزارے جو چاہے ٹھکرا دے پڑا ہوا میں زمانے کی رہ گزر میں ہوں

Read More

عبیداللہ علیم ۔۔۔ جوانی کیا ہوئی اِک رات کی کہانی ہوئی

جوانی کیا ہوئی اِک رات کی کہانی ہوئی بدن پُرانا ہوا، روح بھی پرانی ہوئی کوئی عزیز نہیں ماسوائے ذات ہمیں اگر ہوا ہے تو یوں جیسے زندگانی ہوئی نہ ہوگی خشک کہ شاید وہ لوٹ آئے پھر یہ کشت گزرے ہوئے ابر کی نشانی ہوئی تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اُڑوں وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئی میں اُس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیا تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی کہاں تک اور بھلا جاں کا…

Read More

چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں … عبیداللہ علیم

چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ميرے خدايا! ميں  زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں يہ ميرا چہرہ، يہ ميری آنکھيں بُجھے ہوئے سے چراغ جيسے جو پھر سے جلنے کے منتظر ہوں وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں وہ مہرباں سايہ دار زلفيں جنہوں نے پيماں کيے تھے مجھ سے رفاقتوں کے، محبتوں کے کہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رہِ وفا کے جہاں بھی جائے گا ہم بھی آئيں گے ساتھ تيرے بنيں گے راتوں ميں چاندنی ہم تو دن ميں سائے بکھير ديں گے وہ چاند چہرہ،…

Read More

برسات ۔۔۔۔ منیر نیازی

برسات ۔۔۔۔۔۔ آہ ! یہ بارانی رات مینہ، ہوا، طوفان، رقصِ صاعقات شش جہت پر تیرگی اُمڈی ہوئی ایک سناٹے میں گم ہے بزم گاہِ حادثات آسماں پر بادلوں کے قافلے بڑھتے ہوئے اور مری کھڑکی کے نیچے کانپتے پیڑوں کے ہات چار سو آوارہ ہیں بھولے، بسرے واقعات جھکڑوں کے شور میں جانے کتنی دور سے سُن رہا ہوں تیری بات

Read More

میرزا محمد رفیع سودا

مجھ صیدِ ناتواں کے احوال کو نہ پوچھو محروم ذبح سے ہوں، مردود ہوں قفس کا

Read More

ڈاکٹر شفیق آصف ۔۔۔۔۔۔ شبِ غم جو سورج اُگانے لگا ہے

شبِ غم جو سورج اُگانے لگا ہے وہ خوابوں سے مجھ کو جگانے لگا ہے جو خود ایک دن کوڑیوں میں بکا تھا وہ اب میری قیمت لگانے لگا ہے یہاں حال جس سے بھی پوچھا ہے میں نے وہی اک کہانی سنانے لگا ہے وہ مہتاب جس کا ہے اُس کا رہے گا تو اپنا دیا کیوں بجھانے لگا ہے جو ناراض تھا آسمانوں سے آصف وہ ٹھوکر سے مٹی اُڑانے لگا ہے

Read More

حسرت موہانی

بر سرِ ناز وہ ازراہِ کرم پہنچا تھا شب عجب لطف کا سامان بہم پہنچا تھا

Read More