عطا قدرت نے فرمادی بڑی جاگیر، بسم اللہ ثنائے اہلبیتؑ و ماتمِ شبیر ؑ ، بسم اللہ گراں پتھر، یہ میری راہ کے مجھ سے نہیں ہٹتے مدد کرنا مری اے دستِ خیبر گیر، بسم اللہ مرے قاری تجھے بخشش ہوا ہے لحنِ داؤدی جگا جادو، سنا پھر آیۂ تطہیر، بسم اللہ عزائے شہ ؑ بھی لکھی، مدحتِ شبیرؑ بھی لکھ دی مقدر میں مرے اے داورِ تقدیر، بسم اللہ پیمبرؑ کی طرح جب اکبرِ مہ رُو چلے رن کو لگا افلاک میں ایک نعرۂ تکبیر، بسم اللہ بشاشت چھین…
Read MoreTag: اردو
غلام حسین ساجد ۔۔۔ خاک کی کیمیا
خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے قضیے سے کیا مجھے تو زمیں پر بدلتے ہوئے موسموں سے غرض ہے درختوں کے کٹنے کا غم ہے ہوا گرم ہونے لگی ہے کبھی آگ کے دائرے کھینچتی ہے کبھی ریت کی چادریں تانتی ہے وہ ننھے پرندے جو اپنے لڑکپن میں دیکھے تھے،معدوم ہیں شہر تو پھیلتے جا رہے ہیں مگر سانس لینے کا رقبہ سمٹنے لگا ہے ندّیاں سوکھتی جا رہی ہیں سمندر بپھر نے لگے ہیں کہ وہ صاف پانی…
Read Moreصبا اکبر آبادی ۔۔۔ جو ہمارے سفر کا قصہ ہے
جو ہمارے سفر کا قصہ ہے وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے صبح تک ختم ہو ہی جائے گا زندگی رات بھر کا قصہ ہے دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے کوئی تلوار کیا بتائے گی دوش کا اور سر کا قصہ ہے ہوش آ جائے تو سناؤں گا چشمِ دیوانہ گر کا قصہ ہے چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی صرف سمتِ سفر کا قصہ ہے جیتے جی ختم ہو نہیں سکتا زندگی، عمر بھر کا قصہ ہے…
Read Moreفراق گورکھپوری ۔۔۔ وقت غروب آج کرامات ہو گئی
وقت غروب آج کرامات ہو گئی زلفوں کو اس نے کھول دیا، رات ہو گئی کل تک تو اس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہو گئی اے سوزِ عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا دل کیا دیا غریب کی سوغات ہو گئی کچھ یاد آ گئی تھی وہ زلفِ شکن شکن ہستی تمام چشمۂ ظلمات ہو گئی اہل وطن سے دور جدائی میں یار کی صبر آ گیا…
Read Moreاحمد ادریس
تجھ سے آغاز ہوا حرفِ صداقت کا نصاب تیرے سینے سے چلی جراتِ انکار حسین
Read Moreتابش مہدی ۔۔۔ بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا
بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا کسی دربار سے رشتے نہ رکھنا جوانوں کو جو درسِ بزدلی دیں کبھی ہونٹوں پہ وہ قصے نہ رکھنا اگر پھولوں کی خواہش ہے تو سن لو کسی کی راہ میں کانٹے نہ رکھنا کبھی تم سائلوں سے تنگ آ کر گھروں کے بند دروازے نہ رکھنا پڑوسی کے مکاں میں چھت نہیں ہے مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا نہیں ہے گھر میں مال و زر تو کیا غم وراثت میں مگر قرضے نہ رکھنا رئیسِ شہر کو میں جانتا ہوں کوئی امید…
Read Moreجلی امروہی … ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺮﺟﻮﺵ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺮﺟﻮﺵ ﻣﺮﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﭘﺲِ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﻗﺮﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﮑﺘﻮﺏ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﺱ ﺗﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻠﺦ ﺍﺷﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻻﺯﻣﮧ ﻗﻄﻊِ ﻣﺮﺍﺳﻢ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺗﻔﺮﯾﻖ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﯾﮧ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﻝ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁ ﮔﺌﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮨﻢ ﺗﻮ ﻣﻮﺯﻭﮞ ﺗﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻟﻔﺖ ﮐﮯ ﻟیے ﺯﺭ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﯽؔ ﮐﺎﻡ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
Read Moreجوش ملیح آبادی
کوئی صدمہ ضرور پہنچے گا آج کچھ دل کو شادمانی ہے
Read Moreراحت اندوری
نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
Read Moreاسحاق وردگ
مرے اعصاب پر طاری رہے گا سفر منزل پہ بھی جاری رہے گا
Read More