کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی تشنگی پھر بھی کم نہیں ہوتی اتنا ارزاں لہو ہے آدم کا کوئی بھی آنکھ نم نہیں ہوتی راہِ ہستی بڑی کٹھن ہی سہی چاہ جینے کی کم نہیں ہوتی میں ہی عادی سا ہو گیا یا پھر بے رُخی کچھ ستم نہیں ہوتی سبھی کچھ ہے روا سیاست میں اس میں کوئی قسم نہیں ہوتی کون سی بات ہے مری محسن جو کسی جا رقم نہیں ہوتی
Read MoreTag: اردو
شاہد فرید ۔۔۔ کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے
کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے جِس اُور بڑھا ہوں میں ، وہ در کھلتا گیا ہے یوں گھورتے ہیں مجھ کو ترے شہر کے باسی جیسے کہ محبت نہیں کی ، جرم کیا ہے میں جال میں الجھا ہوا تھا اور اچانک صیاد مرے پاؤں میں خود آن گرا ہے یہ عشق ‘ محبت تو ہے ایمان کا حصہ شک ذہن میں در آیا ، مرا جرم بڑا ہے آہٹ کوئی محسوس ہوئی ہے سرِ دہلیز دستک کی ضرورت نہیں ‘ دروازہ کُھلا ہے میں کچھ بھی…
Read Moreخالد احمد
ناقدوں نے مجھے پرکھا، خالد! خاک صحراؤں نے چھانی میری
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ بہار آنے کا مژدہ ہمیں سنا دیا ہے
بہار آنے کا مژدہ ہمیں سنا دیا ہے شجر نے آخری پتہ بھی کل گرا دیا ہے اب اتنے اڑتے ہو ئے جگنوؤں کا کیا ہو علاج دیا تو بس میں تھا اپنے، دیا بجھا دیا ہے اسے بتا دیا ہے، اب وہ اپنی حد میں رہے اور اس کی حد ہے کہاں تک ، اسے بتا دیا ہے قدم قدم پہ مجھے روکتا تھا، ٹوکتا تھا ضمیر جاگا ہوا تھا اسے سلا دیا ہے نکل نہ پائے گا اک جال سے نکل کر بھی اک اور جال ہے جو…
Read Moreزین علی رضوی ۔۔۔ ہم نے ایک کاغذ پر لکھ دیا خدا حافظ
ہم نے ایک کاغذ پر لکھ دیا خدا حافظ دوستوں کے ہاتھوں میں ہے دیا ‘ خُدا حافظ وحشتوں سے اب جس کی ڈر رہے ہیں وحشی بھی ایسے دشت کی جانب میں چلا ‘ خُدا حافظ مجھ کو جس کا مدت سے انتظار تھا لوگو! قافلہ … مجھے لینے… آگیا ‘ خُدا حافظ میں نے جس کو برسوں سے اپنے دل میں پالا تھا غم وہی… مرے دل کو ‘ کھا گیا‘ خُدا حافظ وہ کہ جس کے آنے سے پھول کھلنے لگتے تھے زین! موسمِ خوشبو ‘ وہ…
Read Moreعمر قیاز قائل ۔۔۔ دو غزلیں
اوجِ فلک پہ میرا ستارا نہ تھا کبھی وہ اِس لیے کہ بخت سنوارا نہ تھا کبھی خُوددار اِس قدر تھا کہ ڈُوبی ہزار ناؤ ساحل پہ دوستوں کو پُکارا نہ تھا کبھی جب تک وہ بے وفا مرا بازو بنا رہا میں تو کسی محاذ پہ ہارا نہ تھا کبھی ہم اُس کو بُھول جاتے اُسی شخص کی طرح اِس دِل پہ اختیار ہمارا نہ تھا کبھی کچھ اِس طرح چلی ہیں زمانے کی آندھیاں لگتا ہے اب وہ شخص بھی پیارا نہ تھا کبھی قائل مجھے قبول ہی…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے
نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے گماں سرشت زمانہ ہی سارا ایسا ہے میں جانتا ہوں کہ ہم تم ہیں اک فسانۂ خواب ہمارے نام یہی استعارہ ایسا ہے نہ کیوں ہو جلوۂ حیرت مری نگاہ کا رنگ کئی دنوں سے اُفق کا کنارہ ایسا ہے ارادے ٹوٹتے جاتے ہیں ایک اک کرکے کہ اب کے برجِ فلک میں ستارہ ایسا ہے چلو نکل چلیں خوشبو رسیدہ لمحوں میں سحر کا دامنِ گل پارہ پارہ ایسا ہے وجودِ زندہ ہے یہ دل، کوئی فسانہ نہیں یہ اور بات مقدر…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا
زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا رات بہت طویل تھی، درد بہت زیادہ تھا دونوں کی ایک قدر تھی اور تھی مشترک بہت حُسن بھی خود نہاد تھا، عشق بھی بے ارادہ تھا ایک لباسِ مفلسی، ایک فریبِ دل لگی ایک تھا میرا پیرہن، ایک ترا لبادہ تھا وقت کی اپنی چال تھی اور مجھے خبر نہ تھی رات کی منزل اور تھی، صبح کا اور جادہ تھا ایک جنونِ خام تھا، ایک سرابِ ناتمام رخشِ ہوا پہ تم سوار اور میں پا پیادہ تھا تیرا جمالِ کم…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں!
تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں! تُو تو ادا شناس ہے، تیری خطا؟ نہیں نہیں! میرے سخن سے کب ہوئیں تیری جفائیں عکس ریز آئنہ خود ہی بول اُٹھا، میں نے کہا؟ نہیں نہیں! میں ہوں کہاں اَنا پرست ، عجز مری سرشت ہے مجھ سے بھی ہو گیا خفا میرا خدا؟ نہیں نہیں! تیز ہَوا کا شور و شر میری سماعتوں میں تھا کاٹ گئی مرا بدن تیری صدا؟ نہیں نہیں! ساعتِ جاں ہے منجمد رات کے سرد طاق میں اور رہے گی صبح…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ آنکھ اُس کی آج آئنہ دارِ نظارہ ہے
آنکھ اُس کی آج آئنہ دارِ نظارہ ہے کیا دل کا اعتبار کہ بارِ نظارہ ہے دیکھیں اگر تو چشمِ تصور میں وہ نگاہ حُسنِ نظر ہے اور شمارِ نظارہ ہے جل جل کے بجھ رہا ہے دریچوں میں عکسِ گل یہ شامِ ہجر ہے کہ بہارِ نظارہ ہے ہر سمت ہیں سراب کے منظر کھنچے ہوئے کیا خوب تیری راہ گزارِ نظارہ ہے تارے بجھے ہوئے ہیں، سسکتی ہے چاندنی یہ رات ہے کہ سر پہ غبارِ نظارہ ہے گرتی ہے قطرہ قطرہ شفق صبحِ ہجر میں نم دیدۂ…
Read More