خالد احمد

زندگی کے دکھ ازل سے زندگی کے ساتھ ہیں لوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں

Read More

خالد احمد

کوئی ستم نیا نہیں ، کوئی کرم نیا نہیں مرکزِ التفات بھی ، جاں ، ہدفِ خدنگ بھی

Read More

خالد احمد

تنہائی سی تنہائی تھی ، کرتا بھی تو کیا میں سو ، شہر میں صحرا کی طرح پھیل گیا میں

Read More

خالد احمد

تہِ آسمانِ دنیا ، سرِ خاک دانِ دُنیا مرے ساتھ ساتھ رہنا ، مجھے سائے سائے رکھنا

Read More

خالد احمد ۔۔۔ اسی غم کی اوٹ ملا تھا وہ مجھے پہلی بار یہیں کہیں

اسی غم کی اوٹ ملا تھا وہ مجھے پہلی بار یہیں کہیں کسی چشمِ تر میں تلاش کر اُسے میرے یار یہیں کہیں یہ جو سمتِ عشق میں جھیل ہے ، یہ جو سمتِ غم میں پہاڑ ہیں مری راہ دیکھ رہا نہ ہو مرا شہ سوار یہیں کہیں مرے دل کے باب نہ کھولنا، مرے جان و تن نہ ٹٹولنا کسی زاویے میں پڑ ا نہ ہو، وہ بتِ نگار یہیں کہیں گلِ شام! اے گلِ سُرمگیں ! وہ خدنگِ ربطِ گُل آفریں مری جان دیکھ ہوا نہ ہو،…

Read More

خالد احمد

ہر سو تھے ہمی غبار فرما تو تھا کہ ہوا کا قہقہہ تھا

Read More

خالد احمد

رُتوں کے قافلے چلتے رہیں گے دکھ اپنے وقت پر پَھلتے رہیں گے

Read More