نیلے پہاڑ ۔۔۔۔۔۔ پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ دُور اُفُق پر آسمانوں سے ملے سبز پیڑوں کی قطاروں سے پَرے پا پیادہ گائوں کی جانب رَواں سادہ دِل اَنجان بڑھیا کی طرح بادلوں کی گٹھڑیاں سر پر رکھے پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ جانے کب قدموں کی زنجیریں کٹیں جانے کب رستے کی دیواریں ہٹیں قفل ٹوٹیں حاضر و موجود کے جانے کب بادل کے رَتھ پر بیٹھ کر بجلیوں کے تازیانے مارتا بارشوں کے پانیوں میں بھیگتا مَیں اڑائوں آندھیوں کے راہوار پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ
Read MoreTag: خورشید رضوی
ڈاکٹر خورشید رضوی
پھولوں سے، ستاروں سے، شراروں سے گزارا اِک شعلۂ بے تاب میں ڈھالا مجھے آخر
Read Moreزمانے سے باہر ……. خورشید رضوی
زمانے سے باہر ……………. زمانی تسلسل میں مَیں کام کرتا نہیں ہوں زمانے سے باہر کی رَو چاہیے میرے دل کو زمانہ تو اِک جزر ہے مَد تو باہر کسی لازماں، لامکاں سے اُمڈتا ہے قطاروں میں لگنے سے حاصل نہیں کچھ کہ وہ لمحۂ مُنتظر تو کسی اجنبی سمت سے آتے دُم دار تارے کی صورت ۔۔۔ جو صدیوں میں آتا ہے ۔۔۔ آئے گا اور اِن قطاروں میں بھٹکے مداروں کو مقراض کے طور سے جانبِ عرض میں قطع کرتا نکل جائے گا زمانے کے اِس بانجھ پَن…
Read Moreایک خواب ۔۔۔۔۔۔ خورشید رضوی
ایک خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ اگر تم ہوں تو پھر ہم ہنستے ہنستے، چلتے چلتے، دور آکاش کی حد تک جائیں کالی کالی سی دلدل سے تپتا تانبا پھوٹ رہا ہو مکڑی کے جالے کا فیتہ کاٹ کے ہم اُس باغ میں جائیں جس میں کوئی کبھی نہ گیا ہو کوکنار کے پھول کِھلے ہوں بھنورے اُن کو چوم رہے ہوں پتھر سے پانی چلتا ہو مَیں پانی کا چُلّو بھر کر جب ماروں چہرے پہ تمھارے پہلے تم کو سانس نہ آئے اور پھر میرے ساتھ لپٹ کر ایسے چھوٹے…
Read Moreخورشید رضوی
یہ دور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تلے سبھی کو بزم میں دیکھو مگر دکھائی نہ دو
Read Moreخورشید رضوی
کُھل رہی ہے گوشہ گوشہ مجھ پہ چشمِ التفات وہ یہیں پتھر کا ہو جائے تو کیا اچھا لگے
Read Moreخورشید رضوی
دل میں یوں اُترا کسی کی ساعدِ سیمیں کا دھیان شاخِ گُل جس طرح دیوارِ قفس سے آ لگے
Read Moreخورشید رضوی
رمز یہ کُھل جائے تو دنیا میں دل پھر کیا لگے پاس سے دیکھیں تو مٹی، دور سے دریا لگے
Read Moreخورشید رضوی
ذرا میں زخم لگائے، ذرا میں دے مرہم بڑے عجیب روابط مرے صبا سے ہیں
Read Moreخورشید رضوی
یہ جام و بادہ و مینا تو سب دلاسے ہیں لبوں کو دیکھ، وہی عمر بھر کے پیاسے ہیں
Read More