شمع خالد شمع خالد ۳؍ اپریل ۱۹۴۷ ء کے روز راول پنڈی میں پیدا ہوئیں۔ بہت عرصہ تک ریڈیو پاکستان میں سینئر پروڈیوسر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔چوں کہ ریڈیو سے وابستہ رہی ہیں تو بچوں کی کہانیاں اور ڈرامے بھی لکھے۔قلم سے رشتہ استوار کیے اُنہیں کئی دہائیاں بیت چکی ہیں اور اُن کا شمار کہنہ مشق فکشن نگاروں میں کیا جاتا ہے۔مزید براں ایک معروف کالم نگار بھی ہیں۔اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’پتھریلے چہرے‘‘ کے نام سے ۱۹۸۲ء میں منظر عام پر آیا۔ بعد ازاں…
Read MoreTag: Akram Kunjahi
اکرم کنجاہی ۔۔۔ تنویر انور خان ( مضمون)
تنویر انور خان کراچی میں مقیم معروف افسانہ نگار تنویر انور خان ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔اُن کے شریکِ حیات ڈاکٹر محمد انور خان بھی ایک با ذوق شخصیت اور جانے پہچانے آئی سرجن ہیں۔حال ہی میں اُن کی دو تازہ افسانوی کتب کانچ کے ٹکڑے اور ٹوٹا پتہ کے نام سے منظر عام پر آئی ہیں۔ قبل ازیں اُن کے آٹھ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں زنجیریں، پرچھائیں اور عکس، پانی کا بلبلہ،میت رے،ہلالی کنگن، بے قیمت،شگون کے پھول، وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیرا رحمان (مضمون)
حمیرا رحمان ۱۹۷۰ء کے عشرے میں ادبی منظر نامے پر ابھرنے والی شاعرات میںسے ہیں۔کالج کے مشاعرے اورریڈیو پاکستان ملتان سے بی بی سی اور پھر وہاں سے ہوتی ہوئیں نیو یارک میں جا بسیں۔ ایک شاعرہ کی حیثیت سے تیزی سے ادبی منظر نامے پر ابھری تھیں مگر امریکا منتقل ہو گئیں۔اُن کا پہلا مجموعۂ غزل و نظم ’’اندمال‘‘ ۱۹۸۵ء میں اشاعت پذیر ہوا۔ جب کہ ’’انتساب‘‘ (۱۹۹۷ء) میں منظر عام پر آیا۔انہوں نے لہجے اوراسلوب کو بر قرار رکھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ شعر گوئی میں ایک…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ڈاکٹر راحت افشاں (مضمون)
ادب اور تاریخ کا رشتہ زندگی کا اصول اصلی حرکت اور تغیر ہے۔ اس حرکت و تغیر کے حالات کو مرحلہ وار قلم بند کرنا تاریخ ہے۔ تغیر کی دو سطحیں ہوتی ہیں۔ پہلی سطح پر تغیر ذہنِ انسانی سے آزاد خارجی دنیا میں اپنے طور پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ مثلاً رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا ہونا، موسموں میں معمول کے مطابق تبدیلی آنا اور اسی طرح کی بے شمار تبدیلیاں ہیں جو نوعِ انسانی کو متاثر کرتی ہیں۔ خارجی دنیا کی یہ تبدیلیاں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ الطاف فاطمہ (تعارف)
الطاف فاطمہ الطاف فاطمہ اُردو کی ممتاز فکشن نگار، مترجم، محقق اور ماہرتعلیم تھیں۔وہ ۱۹۲۹ء میں لکھنو میں پیدا ہوئیں۔قیامِ پاکستان کے بعد اپنے عزیزوں کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں۔گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین میں درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔۲۰۱۸ء میں انتقال ہوا۔اُن کا پہلا افسانہ ۱۹۶۲ء میں موقر ادبی جریدے ادبِ لطیف، لاہور میں شائع ہوا۔اُن کے افسانوی مجموعوں میں تار عنکبوت، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں اور وہ جسے چاہا شامل ہیں مزید براں انہوں نے جاپانی افسانہ نگار خواتین کے ترجمہ کے ساتھ برصغیر کی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نسائی فکشن کا ارتقا
نسائی فکشن کا ارتقا داستان، ناول اور افسانہ کہانی کی مختلف شکلیں ہیں، فکری و اسلوبیاتی حوالے سے جن کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔طلسماتی فضائیں تشکیل دینے،فوق الفطر ت اور محیر العقل قصے بیان کرنے میں داستان کا ثانی نہیں۔ناول ہمارے ماحول اور معاشرت سے جڑا ہوا ہے۔ وہ جنوں کے بادشاہ، پریوں کے دیس، شہزادوں اور شہزادیوں کی رومانی داستانیں بیان نہیں کرتا بل کہ ہماری اور ہماری عہد کی زندگی کے مثبت و منفی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔افسانہ وحدتِ تاثر کی حامل مختصر کہانی ہے جو ناول…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ تسنیم کوثر (مضمون)
تسنیم کوثر لاہور میں مقیم معروف شاعرہ اور افسانہ نگارہ تسنیم کوثر کے افسانوی کردار عمومی طور پرمختلف ہوتے ہیں۔جیسے اُن کے افسانے ’’لینڈ لیڈی‘‘ کا مرکزی کردار ’’زینی‘‘ یا پھر ’’بھاری قیمت‘‘ کا مرکزی کردار ’’بھاگاں۔‘‘ اُن کے ہاں تانیثیت بھی جھلکتی ہے۔مرد اساس معاشرے میں عورت کی مجبوریوں کی عکاسی خوب ہے۔عورت کا شوہر کس طرح اُس کی وفا داری اور قربانیوں کو فراموش کر کے بے حس پتھر بن جاتا ہے۔نسائی مسائل کو انہوں نے اِس حوالے سے اعتدال اورمتوازن انداز میں پیش کیا ہے کہ اُس…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بسمل صابری (مضمون)
بسمل صابری وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہےعجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے اُردو ادب سے دلچسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے یہ شعر نہ سنا ہو۔بسمل صابری کے اِس شعر نے مقبولیت کا بڑا سفر طے کیا ہے۔ اس شعر میں محبت کا والہانہ پن، ہجر و فراق کا کرب، نا تمامی و بے ثمری کا سوز و گداز اور جذبے کی صداقت قاری پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ موصوفہ ساہیوال میں مقیم ہیں۔ کبھی مشاعرے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ صالحہ عابد حسین (مضمون)
صالحہ عابد حسین صالحہ عابد حسین نے زندگی کے کھیل اور نقشِ اول جیسے ڈرامے بھی لکھے مگر انہیں شہرت ناول نگاری سے حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ ’’یادگارِ حالی‘‘، ’’خواتینِ کربلا کلامِ انیس کے آئینے میں‘‘ اور ’’جانے والوں کی یاد آتی ‘‘ہے ان کی اہم تصانیف ہیں لیکن انہیں دائمی شہرت ایک ناول نگار کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔مصنفہ کا پہلا ناول عذر ا ۱۹۴۲ء میں شائع ہوا۔ پھر آزادی کے بعد ان کے ناولوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔آتش خاموش،قطرے سے گہر ہونے تک، راہ عمل، اپنی…
Read Moreاکرم کنجاہی
قد نکلتا ہے یہاں شہر عداوت کس کا اب تو دستار کے ہم ساتھ ہی سر کاٹتے ہیں
Read More