شبنم شکیل ۱۹۶۰ ء کے عشرے میں جو شاعرات اُردو ادب میں سامنے آئیں، اُن میں ایک اہم نام شبنم شکیل کا بھی ہے۔ابتدائی طور پر کالج کے مشاعرے اُن کی پہچان بنے۔وہ اچھا شعر کہنے کے ساتھ خوش آواز بھی تھیں۔ ممکن ہے اِس میں ریڈیو سے اُن کی وابستگی کا بھی حصہ رہا ہو۔جہاں اُن کی تربیت میں صوفی غلام مصطفی تبسم، مصطفی ہمدانی،قتیل شفائی، انور سجاد نے بھی کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کیا۔اگرچہ وہ سیّد عابد علی عابد جیسے بلند قامت شاعر ، مفکر، دانش…
Read MoreTag: Akram Kunjahi
اکرم کنجاہی … مرگِ آرزو
مرگِ آرزو …………… اے دل! مرگِ آرزو کا تم کبھی ماتم نہ کرنا یہ وہ اندوہِ پنہاں ہے کہ جس پر کوئی بھی اظہارِ تعزیت نہیں کرتا یہ مانا کارِ ہستی لینے کچھ دینے سے چلتا ہے مگر دنیا میں پیارے لوگ ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو دنیا سے کسی بھی جنس کی صورت کچھ نہیں لیتے وہ خود تقسیم کرتے ہیں اپنی محنت کے ثمر اور صلے کی آرزو مندی نہیں کرتے اِس لیے، دل درد آشنا میرے اندوہِ ناکامی کا مداوا کر لینا ہی بہتر ہے تم…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ اس محبت کے دئیے کرب کے پہلو کتنے
اس محبت کے دئیے کرب کے پہلو کتنےدرد جاگے، تو جگا جاتا ہے آنسو کتنے اپنی مٹھی میں لیے اورمرے رستوں کےدیکھ! سورج نے فنا کر دئیے جگنو کتنے زندگی جون کی جب دھوپ بنی،یاد رہےسایہ سایہ سے ہمہ وقت تھے گیسو کتنے آنکھ جھپکی تھی، خطا تھی کہ کوئی بھول سی تھی روز اِس رو ح کے عنقا ہوئے آہو کتنے کتنے ظالم ہیں گزرتے ہوئے ایّام کہ اب آئنہ توڑ کے خوش باش ہیں کم رو کتنے ذات میری ہو کہ تیری، ہے یہاں بکھری پڑی ہم محبت…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم …. اکرم کنجاہی
نظر ہی آدمی کی جب نہ حالِ زار تک پہنچےجو آنسو قیمتی ہے وہ مری سرکار تک پہنچےبھری دنیا میں خیمہ زن خزائیں دیکھ کر مولاعنادل سب مدینے کے گُل و گُلزار تک پہنچےکوئی میں آہ کھینچوں درد سے لب ریز ہو شاہا!ترے پیارے مدینے کے در و دیوار تک پہنچےبلالیؓ عشق ہے میرا نہیں تاثیر سے خالیاذاں میری سحر والی اُفُق کے پار تک پہنچےزمین و آسماں تک جو حسین و خوب صورت ہےجہانِ آب و گِل میں کب ترے شہکار تک پہنچےکوئی بھی راز تیرا دو جہاں میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بیگم شاہین زیدی
بیگم شاہین زیدی سیدہ شاہین زیدی ۳۰؍ جولائی ۱۹۶۶ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ وہ شاعرہ، افسانہ نگار، ناول نگار،کالم نگار، سفرنامہ نگار،مدیرہ اورمحقق ہیں۔ اُن کا خاندان ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ سسر اور پھوپھا پروفیسر ڈاکٹر نظیر حسنین زیدی ایک علمی و ادبی شخصیت تھ۔۱۹۹۷ء میں اُن کی شادی سید محمد مسعود الحسنین زیدی کے ساتھ ہوئی۔مسعود زیدی ۲۰۰۸ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ایک بیٹا محمد تابش مسعود ہے،جس کے ساتھ وہ اچھی زندگی گزار رہی ہیں۔ابتدا میں انہوں نے ’’روزنامہ مشرق‘‘میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ صائمہ نفیس
صائمہ نفیس صائمہ نفیس اِن دنوں کراچی ریڈیو اسٹیشن سے’’ادب سرائے‘‘ کے نام سے ایک ادبی پروگرام کر رہی ہیں۔معروف ادبی جریدے ’’دنیائے ادب‘‘ کی نائب مدیرہ ہیں۔آرٹس کونسل کراچی کی بہت فعال رکن ہیں اور وہاں منعقد ہونے والی تقریبات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’رودالی‘‘ کے نام سے ۲۰۰۶ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ کتاب میں کُل 16 افسانے شامل تھے۔افسانہ نگار کا اسلوبِ بیاں شائستہ، رواں، سادہ اور عام فہم تھا۔کہیں کوئی علامت اور تجرید نہیں تھی۔عدم ابلاغ کا…
Read Moreراغب مراد آبادی (چند جہتیں): اکرم کنجاہی ۔۔۔ نوید صادق
میرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ راغب مراد آبادی (چند جہتیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکرم کنجاہی سے خوش گوار تعارف ان کی شاعری اور ماہ نامہ غنیمت کے حوالہ سے توایک عرصہ سے ہے ، ان کے کچھ مضامین بھی زیرِمطالعہ رہے لیکن راغب صاحب پر ان کی یہ تصنیف میرے علم میں نہ تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن فروری ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا اور اب دوسرا ایڈیشن جنوری ۲۰۲۰ء میں رنگِ ادب پبلی کیشنز ، کراچی سے اشاعت پذیر ہواہے۔ اکرم کنجاہی نے ’عرضِ مصنف‘ میں اس کتاب کو راغب شناسی کے حوالہ سے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔۔۔ عمر بھر درد کا جو بارِ گراں ڈالتے ہیں
عمر بھر درد کا جو بارِ گراں ڈالتے ہیں بعد مرنے کے بہت آہ و فغاں ڈالتے ہیں کون اُٹھا ، کبھی قسمت پہ بھروسہ کر کے مردہ تن میں یہ ارادے ہیں جو جاں ڈالتے ہیں ضعف بازو ہی کا ہوتا ہے جو لڑتے لڑتے جنگ جُو تیغ و تبر، تیر و کماں ڈالتے ہیں تیری جنت میں جو رتھ فاؤ نہیں ہے، مولا ! پاک روحوں کو فرشتے یہ کہاں ڈالتے ہیں کون نکلا ہے سرابوں سے تیقّن لے کر دشت سوچوں میں مسافر کی گماں ڈالتے ہیں…
Read More