اکرم کنجاہی ۔۔۔ ہاجرہ مسرور

ہاجرہ مسرور ہاجرہ مسرور ۱۷ ؍جنوری ۱۹۲۹ ء کے روز لکھنو میں پیدا ہوئیں۔اُن کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔وہ ممتاز فکشن نگار خدیجہ مستور اور نام ور شاعر خالد احمد کی بہن تھیں۔اُن کی افسانہ نگاری کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔تقسیمِ ہند سے پہلے اُن کے مجموعے ’’چرکے‘‘ اور ’’’’چاند کے اُس پار‘‘ شائع ہوئے جب کہ ’’ہائے اللہ‘‘، چھپے چوری، تیری منزل، وہ لوگ، اندھیرے اجالے اور سب افسانے میرے تقسیمِ ہند کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ اُن کے ابتدائی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ فہمیدہ اختر

فہمیدہ اختر تقسیمِ ہند سے پہلے موجودہ خیبر پختونخوا میں کوئی بڑا افسانہ نگار پیدا نہیں ہوا۔ ایک نام نصیر الدین نصیر کا سامنے آتا ہے جو ۱۹۳۰ ء تک افسانے لکھتے رہے۔اُن کے افسانے زیادہ تر اصلاحی رنگ میں اور وعظ و نصیحت پر مبنی تھے۔اُن کے افسانے ادبی جرائد میں تو شائع ہوتے رہے مگر کوئی مجموعہ طبع نہیں ہوا۔ فہمیدہ اختر خیبر پختونخوا کی اُن نمایاں افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جن کی کہانیوں کے پلاٹ آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے محنت کش اور غریب مگر…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ام عمارہ

ام عمارہ امِ عمارہ خیبر پختونخوا کی ایک با شعور افسانہ نگار ہیں۔ہر مسئلے کو ایک غیور پاکستانی کی حیثیت سے دیکھتی، سوچتی اور پرکھتی ہیں۔۱۹۹۰ء میں جب اُن کے افسانوی مجموعہ ’’درد روشن ہے‘‘ اور آگہی کے ویرانے‘‘ شائع ہوئے تو نہ صرف فکشن نگاروں نے بل کہ ادب کے قاری نے بھی اُن کو سراہا۔ اُنہوں نے بنگلادیش سے ہجرت کاکرب سہا تھا،وہ وہاں سے یہاں خیبر پختونخوا میں آباد ہوئیں۔ سقوطِ ڈھاکہ ہمارے قومی تاریخ کا الم ناک سانحہ ہے جو ہر محبِ وطن کے مغموم کر…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ جمیلہ ہاشمی

جمیلہ ہاشمی جمیلہ ہاشمی ۱۷؍ جنوری ۱۹۲۹ء کے روز امرتسر (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئیں۔تقسیمِ ہند کے بعدساہیوال میں آ کر آباد ہوئیں۔اُن کے افسانوی مجموعے ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ میں تین افسانے زہر رنگ، لہو رنگ اور شبِ تار رنگ شامل ہیں۔ اپنا پنا جہنم کو ناولٹ بھی کہا جاتاہے۔ اِس کے علاوہ آپ بیتی جگ بیتی اور رنگ بھوم شامل ہیں۔اُن کے افسانوں کی چند اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:سماجی شعور میں وسعت،شہروں اور دیہاتوں میں پرورش پانے والے کرداروں کی ذہنی کیفیات، مسائل اور الجھنوں کا بیان،جنسی موضوعات…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ عنبرین حسیب عنبر

عنبرین حسیب عنبر عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت خُلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے پہلو دار تفہیم کا حامل یہ شعر عنبریں حسیب عنبر کا ہے جو ہمارے عہد کی ایک مقبول شاعرہ، مدیرہ، معروف نظامت کار اور سنجیدہ محقق ہیں۔اِن دنوںاندرون ملک اور بیرون ملک مشاعروں میں اِ نہیں توجہ سے سنا جا رہا ہے۔پہلے ایک غزل ’’تم بھی ناں‘‘ کا بڑا چرچا رہا۔ ابھی داد و تحسین نہیں تھمی تھی کہ ایک اور غزل ’’توبہ ہے‘‘کا ڈنکا بجنے لگا۔ نہایت پُر اعتماد…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔ پروین فنا سید

پروین فنا سید پروین فنا سید ایک ایسی شاعرہ تھیں جنہوں نے جدت کے نام پر شعری بدعتیں قبول نہیں تھیں۔ لہٰذا اُن کی شاعری اعتدال، انسان دوستی، حسن و جمال اور اعتماد کی شاعری ہے۔اُن کا پہلامجموعۂ کلام ’’حرفِ وفا‘‘ اُن کی بیس برس کی شعری ریاضت کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ کتاب کافلیپ تحریر کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے لکھا: ’’پروین فنا سیّد کی شاعری عفتِ فکر اور پاکیزگیِ احساس کی شاعری ہے۔غزل کی سی صنفِ شعر میں بھی جس میں اکثر شاعروں نے علامت اور…

Read More

عصرِ رواں کا نمایندہ تنقید نگار: اکرم کنجاہی ۔۔۔ شاعر علی شاعر

عصرِ رواں کا نمایندہ تنقید نگار: اکرم کنجاہی جناب اکرم کنجاہی سے میری پہلی ملاقات نیشنل بینک آف پاکستان، کراچی میں منعقدہ ایک مشاعرے میں ہوئی۔ دو تین ملاقاتوں کے بعد اُن کا چوتھا شعری مجموعہ ’’دامنِ صد چاک‘‘ اپنے اشاعتی ادارے ’’رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی‘‘ سے شایع کرنے کی سعادت بھی ملی۔ دامنِ صد چاک سے قبل اُن کے تین شعری مجموعے ’’ہجر کی چتا‘‘، ’’بگولے رقص کرتے ہیں‘‘ اور ’’محبت زمانہ ساز ہے‘‘ شایع ہو چکے تھے۔ دامنِ صد چاک کو دنیائے اُردو ادب میں اتنی پذیرائی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ طاہرہ اقبال (مضمون)

طاہرہ اقبال طاہرہ اقبال اِن دنوںگورنمنٹ کالج فار ویمن یونی ورسٹی، فیصل آباد میں صدر شعبۂ اُردو، ایک محقق، نقاد،اور فکشن نگار ہیں۔اِس وقت اُن کا شمار اہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ طاہرہ اقبال نے چار افسانوی مجموعے سنگ بستہ، ریخت، گنجی بار، ایک ناولٹ مٹی کی سانجھ، نگین گم گشتہ سفر نامے تنقیدی کتب منٹو کااسلوب، پاکستانی اُردو افسانہ اور دو ناول نیلی بار اور گراں لکھے ہیں۔ اُن کے افسانے دیگر فکشن نگاروں کی نسبت قدرے طویل ہوتے ہیں کیوں کہ وہ اکثر دیہات کے پس منظر…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ جب بھی تتلی نے کسی پھول پہ پَر چھوڑ دیا

جب بھی تتلی نے کسی پھول پہ پَر چھوڑ دیا اشک بے کل نے مری آنکھ کا گھر چھوڑ دیا درد و احساس بھی لشکر ہے کہ جس نے، اکثر کرکے دل زار مرا زیر و زبر چھوڑ دیا خود کو پتوں میں چھپاتے ہیں وہ پنچھی ، جن کو آگ جنگل میں لگی کاٹ کے پر چھوڑ دیا میرے یاروں کی طرح تیز ہوا میں دیکھو خشک پتّوں نے ثمربار شجر چھوڑ دیا ضعفِ بازو نہ سمجھ اور محبت پہچان تیغ نفرت کی بھی چھوڑی تھی تبر چھوڑ دیا…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شہناز شورو (مضمون)

شہناز شورو یہ الفاظ افسانہ نگار ڈاکٹر شہناز شورو کے ہیں: ’’افسانہ ابتدا ہے، افسانہ انتہا ہے،افسانہ قاتل ہے، افسانہ مقتول ہے، افسانہ بنائے زندگی، افسانہ بقائے زندگی، افسانہ راز، افسانہ بے خودی، افسانہ ہوش مندی، افسانہ نگاہ، افسانہ نشتر، افسانہ واردات، افسانہ خلق اور افسانہ خدا ہے۔‘‘ اِن الفاظ سے افسانہ نگار کی سوچ اور فکر کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔یہ ایک ایسے تخلیق کار کی سوچ ہے جو افسانہ نگاری کوکارِ بیکارخیال نہیں کرتا۔اُن کے نزدیک افسانہ زندگی اور بقائے زندگی ہے۔ افسانہ ہوش مندی سے ناسوروں…

Read More