پت جھڑ میں کِھلتے گلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شِفا نام تیرا تری ہر ہُمک۔جانِ لختِ جگر! زندگی کی گُمک ،فرح و آرام میرا شب و روز کی سر گرانی، غبارِ غمِ رایگانی جھٹکنے کی رَو میں یہی کام میرا کہ زنجیرِ معمول کو توڑ کر ، سوچ کے ہر سروکار کو چھوڑ کر میں ترے پاس آئوں تجھے پھول سا جھُولنے سے اُٹھائوں ترے ساتھ معصوم و بے ربط باتیں کروں اپنے اندر کا بالک جگائوں تری موہنی ، مست مُسکان کی چاندنی میں جِیئوں وقت کی دُھوپ سامانیاں ، سب پریشانیاں…
Read MoreTag: Ali
خواجہ حیدر علی آتش ۔۔۔ توڑ کر تارِ نگہ کا سلسلہ جاتا رہا
توڑ کر تارِ نگہ کا سلسلہ جاتا رہا خاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامانِ یار کب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا خارِ صحرا پر کسی نے تہمتِ دُزدی نہ کی پائوں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا دوستوں سے اس قدر صدمے ہوئے ہیں جان پر دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا جب اٹھایا پائوں آتش مثلِ آوازِ جرس کوسوں پیچھے چھوڑ کر مَیں قافلہ جاتا رہا
Read Moreمیر وزیر علی صبا لکھنوی
لا کر کسی نے پھول جو رکھے ہیں ہجر میں کانٹے بچھا دیے ہیں ہمارے پلنگ پر
Read Moreمیر شیر علی افسوس … جان سے پہلے ہاتھ اُٹھائیے گا
جان سے پہلے ہاتھ اُٹھائیے گا جب کہیں اپنا دل لگائیے گا ہم نے جانا کہ شمع رُو ہیں آپ پر ہمیں کب تلک جلائیے گا مَیں تو جی دینے پر بھی حاضر ہوں کیا مجھے آپ آزمائیے گا رات جاتی ہے اپنی زلفوں کو مکھڑے پر کب تلک بنائیے گا ق کل ہے جی میں کہ جا کے اس کے پاس رو کے احوالِ دل سنائیے گا خواہ وہ مہرباں ہو خواہ نہ ہو اپنا دکھ درد سب جتائیے گا کر کے غیروں سے ربط، اے صاحب! کب تک…
Read Moreمیر شیر علی افسوس
اُس کے اُٹھتے ہی جی پہ آن بنی دیکھیے آگے آگے کیا ہو گا
Read More