ڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ

کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ ہوئی سارے زمانے کی خبر آہستہ آہستہ ہمیشہ کروٹیں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے زمیں محور سے ہٹتی ہے مگر آہستہ آہستہ کسی آہٹ سے کب کوئی مکاں مسمار ہوتا ہے چٹخ کر ٹوٹتے ہیں بام و در آہستہ آہستہ بلندی کی طرف اُن کو ہوائیں لے کے جاتی ہیں بناتے ہیں پرندے رہگزر آہستہ آہستہ ہوا تبدیلیوں کی چل پڑی موسم بدلنے سے ملیں گے اب نئے شام و سحر آہستہ آہستہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی کب…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے

عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے چھاننے دو دیوانہ ان کا خاک جو در در چھانے ہے کوئی کسی کو کیا سمجھائے کون کسی کی مانے ہے میں اور مے خانے میں بیٹھا شیخ ارے ٹک توبہ کر مردِ خدا میں جانوں نہ تانوں مجھ کو تو کیوں سانے ہے مے خانے میں دنیا دنیا آئے دنیا سے کچھ کام نہیں جام اسی کو دے گا ساقی جس کو ساقی جانے ہے جام نہ دینے…

Read More

احمد فراز … شگفتہ دل ہیں کہ غم بھی عطا بہار کی ہے​

شگفتہ دل ہیں کہ غم بھی عطا بہار کی ہے​ گلِ حباب ہیں، سر میں ہَوا بہار کی ہے​ ​ ہجومِ جلوۂ گل پر نظر نہ رکھ کہ یہاں​ جراحتوں کے چمن پر رِدا بہار کی ہے​ ​ کوئی تو لالۂ خونیں کفن سے بھی پوچھے​ یہ فصل چاکِ جگر کی ہے یا بہار کی ہے​ ​ میں تیرا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں​ کہ آپ اپنا تعارف ہَوا بہار کی ہے​ ​ شمار زخم ابھی سے فراز کیا کرنا​ ابھی تو جان مری ابتدا بہار کی ہے​

Read More

سعید الزماں عباسی

تم کیا اسیرِ رسم و روایات ہو گئے دنیا رہینِ گردشِ حالات ہو گئی ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید

Read More

قاضی زبیر بیخود

لڑیں ساقی سے نظریں ، دور میں جامِ شراب آیا سنبھل اے گردشِ ایام اب تیرا جواب آیا ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید

Read More

شاہین بدر

جلتا ہے چمن آتشِ لالہ کے شرر سے کچھ دیر تو گھنگور گھٹا ٹوٹ کے برسے ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید

Read More

مجید شاہد ۔۔۔ کس شہرِ خرابی میں سرگرمِ تگ و تاز

کس شہرِ خرابی میں ہو سرگرمِ تگ و تازہوتے ہیں یہاں صرف بگولے ہی سرافراز کانٹوں کی زباں نغمۂ گل چھیڑ رہی ہےسائے نظر آتے ہیں سرِ مسندِ اعزاز پانی کی روانی کو ترستے ہیں سمندرحالانکہ ہیں بہتے ہوئے دریاؤں کے ہمراز کتنی ہی امیدوں کا لہو ان میں رچا ہےعنوانِ بہاراں ہیں بظاہر جو لبِ ناز کچھ قدر ہماری بھی کر، اے دوست! کہ ہم نےتیرے لیے خود کو بھی کیا ہے نظر انداز بیٹھے ہیں خبر بن کے رہِ بے خبری میںہم خاک نشینوں کا ہے ادنیٰ سا…

Read More

شکیب جلالی ۔۔۔ رباعیات

تقدیسِ شباب سے شرارے پھوٹے انگڑائی کہ جیسے ماہتابی چھوٹے یوں اُٹھ کے گریں وہ شوخ بانہیں گویا اک ساتھ فلک سے دو ستارے ٹوٹے ۔۔۔۔۔۔۔ مے خانہ بدوش یہ گلابی آنکھیں زلفیں ہیں شبِ تار تو خوابی آنکھیں مستی کے جزیروں سے پکارا کوئی ساون کی پھواریں یہ شرابی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ گل رنگ یہ زرکار سی بھوری کرنیں سیماب سے دھوئی ہوئی نوری کرنیں بلور سی بانہوں پہ دمکتے ہوئے بال مہتاب کی قاشوں پہ ادھوری کرنیں ۔۔۔۔۔۔۔ انگ انگ میں بہتے ہوئے مہ پارے ہیں کس درجہ شرر…

Read More

خلیل رام پوری ۔۔۔ پانی سمندروں میں نہیں کیا گھٹا اٹھے

پانی سمندروں میں نہیں، کیا گھٹا اٹھے کوئی خدا شناس بدستِ دعا اٹھے آواز دے کہ دوڑ پڑے زندگی کہ لہر مردہ بھی خاک سے جو اٹھے، بولتا اٹھے ایسے میں روئے، چونک پڑا جس طرح کوئی دریا کے درمیان سے ڈوبا ہوا، اٹھے کوئی تو نقش ابھرے خلا کا نگاہ میں منظر کوئی تو خاک سے لے کر ہوا اُٹھے نرغے میں دشمنوں کے کھڑا سوچتا ہے کیا آواز تو لگا، کوئی مردِ خدا اُٹھے دم گھٹ رہا ہے ساری فضا کا ہوا بغیر ایسے میں میری گرد کا…

Read More