سوچ کی دستک نہیں، یادوں کی خوشبو بھی نہیں زیست کے بے خواب گھر میں کوئی جگنو بھی نہیں نااُمیدی! تیرے گھیرائو سے ڈر لگنے لگا دھڑکنوں کے دشت میں اک چشمِ آہو بھی نہیں جسم کے حساس پودے کو نمو کیسے ملے قرب کی ٹھنڈی ہوا کیا، کرب کی لو بھی نہیں ہم سفر ہیں مصلحت کا خول سب پہنے ہوئے دوستی کیا اب کوئی تسکیں کا پہلو بھی نہیں ضبط کے گہرے سمندر کو تموج بخش دے پیار کی جلتی ہوئی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں وقت نے…
Read MoreTag: Syed Al e Ahmad
سید آلِ احمد
شاید مَیں تیرے دھیان میں پھر سے اُبھر سکوں مَیں اجنبی سہی، مجھے پہچان کے تو دیکھ
Read Moreغزل ۔۔۔ میں ڈوبتے خورشید کے منظر کی طرح ہوں ۔۔۔ سید آلِ احمد
غزل ۔۔۔۔ میں ڈوبتے خورشید کے منظر کی طرح ہوں زندہ ہوں مگر یاد کے پتھر کی طرح ہوں آثار ہوں اب کہنہ روایاتِ وفا کا اک گونج ہوں اور گنبدِ بے دَر کی طرح ہوں اک عمر دلِ لالہ رُخاں پر رہا حاکم اب یادِ مہ و سال کے پیکر کی طرح ہوں کس کرب سے تخلیق کا در بند کیا ہے مت پوچھ کہ صحرا میں بھرے گھر کی طرح ہوں بپھرے تو کنارے نظر آتے نہیں جس کے میں ضبط کے اُس ٹھہرے سمندر کی طرح ہوں…
Read Moreسید آلِ احمد
کس مسافت کے بعد پہنچا ہے تیرے رُخسار پر مرا آنسو
Read More