دُکھوں میں ضبط کی زنجیر تو پہن لوں گامیں اپنا سر کسی دہلیز پر نہ رکھوںگا میں تیرے قرب کے تسکین بخش پہلو میںیہ ایک رات تو کیا ساری عمر جاگوں گا میں اپنا دُکھ نہ سناؤں گا شہر والوں کوترے وقار کی اے دوست لاج رکھوں گا وہ ایک شخص بھی اخلاص سے تہی نکلاوفا کی سرد ترازو میں کس کو تولوں گا شکستِ شیشۂ دل سے تو موت بہتر ہےکوئی بتائے کہ کب تک یہ زہر چاٹوں گا میں ایک شعلۂ احساس ہوں‘ اے شہر سکوت!دماغ و دل…
Read MoreTag: Syed Al e Ahmad
سید آل احمد ۔۔۔ ویران کر دیا بھرا جنگل پڑائو نے
ویران کر دیا بھرا جنگل پڑائو نے رکھا ہے دل میں سبز قدم کس لگائو نے بے لطف دوستی کے سفر نے تھکا دیا ساحل پہ دے کے مارا بھنور سے جو نائو نے اے دوست! زخم تہمتِ تازہ لگا کہ پھر سرسبز کر دیا ہے شجر سکھ کے گھائو نے ان قربتوں کا ہدیۂ اخلاص کچھ تو دے خوش بخت کر دیا تجھے جن کے لگائو نے اُن پستوں کو روح کی نزدیکیوں سے دیکھ کاٹا ہے جن کو دل کی ندی کے بہائو نے…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ شب کی آغوش میں سو جاتا ہوں
شب کی آغوش میں سو جاتا ہوں سنگ ہوں موم بھی ہو جاتا ہوں دل کا دروازہ کھلا مت رکھو یاد آنکھوں میں پرو جاتا ہوں جس کے لہجے میں وفا کھلتی ہو میں تو اُس شخص کا ہو جاتا ہوں دن میں سہتا ہوں بصیرت کا عذاب شام کے شہر میں کھو جاتا ہوں میری خاطر نہ تکلف کیجیے میں تو کانٹوں پہ بھی سو جاتا ہوں گاہے اظہار کو دیتا ہوں ہنر گاہے دیوالیہ ہو جاتا ہوں جب بھی بحران کا رَن پڑتا ہے میں تری ذات میں…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے
دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے تیرا پیار بھی کم نکلا اندازے سے تم جو میری بات سنے بن چل دیتے رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے تیرا دُکھ تو ایک لڑی تھا خوشیوں کی تار الگ یہ کس نے کیا شیرازے سے کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے…
Read Moreسید آل احمد ۔۔ موسم کی طرح رنگ بدلتا بھی بہت ہے
موسم کی طرح رنگ بدلتا بھی بہت ہے ہم زاد مرا قلب کا سادہ بھی بہت ہے نفرت بھی محبت کی طرح کرتا ہے مجھ سے وہ پیار بھی کرتا ہے رُلاتا بھی بہت ہے وہ شخص بچھڑتا ہے تو برسوں نہیں ملتا ملتا ہے تو پھر ٹوٹ کے ملتا بھی بہت ہے خوشحال ہے مزدور بہت عہدِ رواں کا ماتھے پہ مگر اُس کے پسینہ بھی بہت ہے برسا ہے سرِ دشتِ طلب اَبر بھی کھل کر سناٹا مری روح میں گونجا بھی بہت ہے تم یوں ہی شریک…
Read Moreکھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد
کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…
Read Moreآصف شفیع
عجیب ہوتا ہے آزار نارسائی کا یہ ایسا روگ ہے جس کی کسک نہیں جاتی
Read Moreدل کا ہر ایک ناز اٹھانا پڑا مجھے ۔۔۔ آصف شفیع
دل کا ہر ایک ناز اٹھانا پڑا مجھے اُس بے وفا کی دید کو جانا پڑا مجھے دنیا کو اپنا آپ دکھانے کے واسطے گنگا کو الٹی سمت بہانا پڑا مجھے شہرِ وفا میں چار سو ظلمت تھی اس قدر ہر گام دل کا دیپ جلانا پڑا مجھے صحرا سرشت جسم میں صدیوں کی پیاس تھی دریا کو اپنی سمت بلانا پڑا مجھے دیوانگی کو جب مری رستہ نہ مل سکا سوئے دیارِ عاشقاں جانا پڑا مجھے اقرار کر لیا تھا ہزاروں کے درمیاں سو عمر بھر وہ عہد نبھانا…
Read Moreغزل ۔۔۔ منجمد ہو گیا لہو دل کا ۔۔۔ سید آلِ احمد
منجمد ہو گیا لہو دل کا تیرے غم کا چراغ کیا جلتا وہ بھی دن تھے کہ اے سکونِ نظر! تو مری دسترس سے باہر تھا بجھ گئی پیاس آخرش اے دل! ہو گیا خشک آنکھ کا دریا تو مرا پیار مجھ کو لوٹا دے جانے والے! اُداسیاں نہ بڑھا پاسِ خاطر ہے شہر میں کس کو کون کرتا ہے اعترافِ وفا تیری خواہش، بھنور بھنور ساحل میری منزل، سکوت کا صحرا پوچھتی تھی خزاں بہار کا حال شاخ سے ٹوٹ کر گرا پتا کیسے ٹھہرے ہو سوچ میں احمدؔ…
Read Moreدوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی ….. سید آلِ احمد
دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی خوشبو اُڑی تو رات بہت دُور تک گئی بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپ شب‘ رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہر برقِ تبسمات بہت دُور تک گئی خورشید کی تلاش میں نکلا جو گھر سے مَیں تاریکیٔ حیات بہت دور تک گئی احمدؔ سفر کی شام عجب مہرباں ہوئی اک عمر میرے سات بہت دور تک گئی
Read More