سید آل احمد ۔۔۔ یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے

یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے اور پھر ترکِ تعلق سے ڈرائے گا مجھے آپ مسمار کرے گا وہ گھروندے اپنے اور پھر خواب سہانے بھی دکھائے گا مجھے مجھ کو سورج کی تمازت میں کرے گا تحلیل اور مٹی سے کئی بار اُگائے گا مجھے اپنی خوشبو سے وہ مانگے گا حیا کی چادر زیبِ قرطاسِ بدن جب بھی بنائے گا مجھے ربِ ایقان و عطا! عمر کے اس موڑ پہ کیا راستے کرب کے ہموار دکھائے گا مجھے میں کڑی دھوپ کا سایہ ہوں کڑے…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ بہشتِ دل میں خوابیدہ پڑی ہے

بہشتِ دل میں خوابیدہ پڑی ہے وہ اک حسرت جو میری زندگی ہے بہت خوش ہوں میں فن کی سرزمیں پر مری نیکی بدوں نے لوٹ لی ہے دریچے کھول دیتا ہوں طلب کے مجھے جب بھی شرارت سوجھتی ہے سیاست اب کہاں زنجیر ہوگی یہ کشتی اب کنارے لگ رہی ہے بہت نامطمئن ہے دل کی دھڑکن کتابِ شوق تسکیں سے بھری ہے مہینوں بعد دیکھا ہے تبسم بہت دن میں غزل تازہ کہی ہے بدن اب تک تر و تازہ ہے لیکن سفر کی دھول آنکھوں میں جمی…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ تو بے سبب ہے مری ذات سے خفا‘ کچھ سوچ

تو بے سبب ہے مری ذات سے خفا‘ کچھ سوچ ہے اس خرابے میں دل کس کا آئنہ‘ کچھ سوچ دماغ پر ہے مسلّط سکوت سا کچھ‘ سوچ ہے شام ہی سے یہ دل کیوں بجھا بجھا‘ کچھ سوچ خفا نہ ہو کہ کڑی دوپہر میں آیا ہوں میں تنہا کیسے یہ لمحے گزارتا‘ کچھ سوچ تھا جس کی لو سے منور یہ خواہشوں کا مکاں وہ اک چراغ بھی تو نے بجھا دیا‘ کچھ سوچ یہ اجتناب‘ یہ خط فاصلے کا کیسے کھنچا وہ جذبہ ختم بھلا کیسے ہو…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے

ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ  گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت  سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ میں ڈوبتے خورشید کے منظر کی طرح ہوں

میں ڈوبتے خورشید کے منظر کی طرح ہوں زندہ ہوں مگر یاد کے پتھر کی طرح ہوں آثار ہوں اب کہنہ روایاتِ وفا کا اک گونج ہوں اور گنبد ِبے در کی طرح ہوں اک عمر دلِ لالہ رُخاں پر رہا حاکم اب یادِ مہ و سال کے پیکر کی طرح ہوں کس کرب سے تخلیق کا در بند کیا ہے مت پوچھ کہ صحرا میں بھرے گھر کی طرح ہوں بپھرے  تو کنارے نظر آتے نہیں جس کے میں ضبط کے اُس ٹھہرے سمندر کی طرح ہوں بجھ جائے…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہمارے گھر کے آنگن میں گھٹا کس روز آئے گی

ہمارے گھر کے آنگن میں گھٹا کس روز آئے گی سکوتِ شامِ ویرانی بتا‘ کس روز آئے گی بہت دن ہو گئے ہم پر کوئی پتھر نہیں آیا شکستِ شیشۂ دل کی صدا کس روز آئے گی دُکھوں کے جلتے سورج کی تمازت جان لیوا ہے مرے حصے میں خوشیوں کی ردا کس روز آئے گی مسلسل حبسِ قید ِلب سے دم گھٹنے لگا اب تو اسیرانِ قفس! تازہ ہوا کس روز آئے گی مری پلکوں پہ ظرفِ ربِ مفلس جھلملاتا ہے مری ماں جب یہ کہتی ہے‘ دوا کس…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے

زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہےفن کو تہذیب کی بارش سے جِلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیںکرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیںکوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورتتیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیںہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں  کا سفرخواہش قربِ بدن…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ دشتِ غم میں کھلا پھول جذبات کا

دشتِ غم میں کھلا پھول جذبات کا کتنا سندر تھا رنگِ حنا ہات کا جس جگہ ہر خوشی غم کا عنواں بنے کون مہماں ہو ایسے محلات کا بھولی بسری ہوئی یاد کے بادلو مینہ نہ برسے گا اب پھر ملاقات کا بعدِ ترکِ تمنا بھی میلے رہے شہر سونا  ہوا کب خیالات کا زندگی کو نگل جائے گی تیرگی سر پہ سورج نہ آئے گا حالات کا ہجر کی زُلف بکھرے تو احمدکبھی ختم ہوتا نہیں سلسلہ رات کا

Read More