سید آلِ احمد

خوب آدمی تھا وہ شہر کی اُداسی پر خامۂ تبسم سے دن کو رات لکھتا تھا

Read More

نعتؐ ۔۔۔ ریاض ندیم نیازی

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم جہاں میں اُنؐ کی طرح خوش خصال کوئی نہیں وہ بے مثال ہیں اُنؐ کی مثال کوئی نہیں مدینے پاک میں جو بھی گیا خدا کی قسم وہ خوش نصیب ہے اُس سا نہال کوئی نہیں یوں آفتاب و قمر کہہ رہے ہیں ، اُنؐ جیسا حَسین کوئی نہیں پُرجمال کوئی نہیں ہر ایک بات محمدؐ کی کر رہی ہے اثر جہاں میں آپؐ سا شیریں مقال کوئی نہیں نہیں ہے دوسرا کوئی جو چاند کو توڑے ہُنر میں اُنؐ کی طرح باکمال…

Read More

ڈاکٹر اختر شمار ۔۔۔۔ میرا دشمن بھی خاندانی ہو

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ خزاں میں غم ذرا کچھ کم کیا کر

خزاں میں غم ذرا کچھ کم کیا کر بہاروں میں بھی آنکھیں نم کیا کر دلوں میں قید کر رکھا ہے جن کو وہ باتیں بھی کبھی باہم کیا کر تمنا ہے کہ زہری چپ کے گیسو لبوں کے دوش پر برہم کیا کر ہر آنگن میں سحر کب بولتی ہے سکوتِ شام کا دُکھ کم کیا کر تعلق خواب ہے قدرت نہیں ہے شکستِ دل کا مت ماتم کیا کر کہیں بہتر ہے جابر سے بغاوت سرِ تسلیم یوں نہ خم کیا کر حرارت ڈھونڈ مت مہتابِ جاں میں…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ دھوپ اور چھاؤں کا کربِ ذات لکھتا تھا

دھوپ اور چھاؤں کا کربِ ذات لکھتا تھا دیدہ ور تھا دوری کو اختلاط لکھتا تھا زخم زخم گنتا تھا روشنی میں جگنو کی حرف حرف پلکوں پر سچی بات لکھتا تھا میں بھی ان خلاؤں میں ایک لحظہ پہلے تک خواب کا مسافر تھا‘ خواہشات لکھتا تھا صبحِ جاں کی شبنم ہو‘ دُھوپ ہو بدن کی تم سچ بتاؤ یہ جملے کس کا ہات لکھتا تھا برگِ زرد ہونے تک میں ہوا کی تختی پر منتظر نگاہوں سے التفات لکھتا تھا پوچھتے ہیں بام و در‘ کون‘ شہر ناپرساں!…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا

حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا حوصلے کا آئینہ ہے دلِ زبوں اپنا تیرا دھیان بھی جیسے کعبۂ تقدس ہو تیرے بعد بھی رکھا ہم نے سرنگوں اپنا رخشِ وصل کی باگیں دستِ شوق کیا تھامے فصلِ انبساط آگیں حال ہے زبوں اپنا فاصلوں کی دوپہریں رنگِ رُخ اُڑاتی ہیں خون خشک کرتا ہے دور رہ کے کیوں اپنا عقل بیٹھ جاتی ہے تھک کے جب دوراہے پر کام آ ہی جاتا ہے جذبۂ جنوں اپنا تجھ پہ بار کیوں گزرا میری چپ کا سناٹا تو جو خود…

Read More

سید آلِ احمد ۔۔۔ اے مرے پیارے سپاہی!

سید آلِ احمد اے مرے پیارے سپاہی! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے مرے پیارے سپاہی! مرے جوشیلے جواں! میری دھرتی کے محافظ! مرے انمول سپوت! میرے خوابوں، مرے جذبے کے تقدس کے امیں! تو نے بدلا ہے مرے دیس کی مٹی کا مزاج میں ترے واسطے لایا ہوں عقیدت کا خراج ۔۔ ایک لمحہ کو مری قوم پہ بجلی بن کر ایسے آیا تھا کہ جیسے ہوں خزاں کا موسم سرخ پھولوں کی مہکتی ہوئی خوشبو کا حریف سبز پتوں سے لہکتی ہوئی شاخوں کے خلاف چہچہاتی ہوئی چڑیوں کی خوشی کا قاتل…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ اُمید کے صحرا میں جو برسوں سے کھڑا ہے

اُمید کے صحرا میں جو برسوں سے کھڑا ہے حالات کی بے رحم ہواؤں سے لڑا ہے رُسوائی سے بھاگے تو یہ محسوس ہوا ہے تنہائی کی منزل کا سفر کتنا کڑا ہے ہیرے کی کنی ہو تو تبسم بھی بہت ہے لو سامنے اک کانچ کا مینار کھڑا ہے یوں ذہن پہ برسا ہے تری یاد کا بادل جیسے کہ کوئی کوہِ الم ٹوٹ پڑا ہے گزرے ہوئے لمحے کبھی واپس نہیں آتے کیوں صورتِ دیوار اندھیرے میں کھڑا ہے اک اخترِ مبہم ہوں بظاہر میں اُفق پر کہتے…

Read More