گزرے تھے حسین ابنِ علی رات ادھر سے ہم میں سے مگر کوئی بھی نکلا نہیں گھر سے
Read MoreTag: Urdu adab
عبیداللہ علیم
جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب! تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
Read Moreجمال احسانی
چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے
Read Moreمحسن اسرار
مجھے تو خیر سے مارا گیا ہے مگر وہ لوگ جو خود مر گئے ہیں
Read Moreلالہ مادھو رام جوہر
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
Read Moreآنس معین
تب ہوگی خبر کتنی ہے رفتارِ تغیر جب شام ڈھلے لوٹ کے آئے گا کوئی اور
Read Moreعرفان صدیقی
رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
Read Moreارشد نعیم
گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ
Read Moreارشد نعیم ۔۔۔ پڑے ہوئے تھے جو ہم تیرے نقشِ پا کے ساتھ
پڑے ہوئے تھے جو ہم تیرے نقشِ پا کے ساتھ بکھر گئے ہیں کسی اجنبی ندا کے ساتھ ترا سوال میں اس سے کروں تو کیسے کروں مکالمہ بھی نہیں ہے مرا خدا کے ساتھ یہ دیکھتے ہی منڈیروں کے خواب ٹوٹ گئے مرے چراغ جو بجھنے لگے ہوا کے ساتھ گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ رواں ہیں کشتیاں صبحِ مراد کی جانب الجھ رہے ہیں مرے بادباں ہوا کے ساتھ
Read Moreناصر علی سید ۔۔۔ یہ حرف و لفظ کی کشتی، یہ آب کاغذ پر
یہ حرف و لفظ کی کشتی، یہ آب کاغذ پر بناتا رہتا ہوں اب تو سراب کاغذ پر مہک اُٹھی تری خوشبو سے رات تنہائی جو تیرے نام کا لکھا گلاب، کاغذ پر عجیب طرح کی تعبیر دوست کھینچتے ہیں کبھی جو بُنتا ہوں دو چار خواب کاغذ پر دکاں لگاتا ہوں زخموں کی جب بھی رات گئے اُترنے لگتے ہیں پھر ماہتاب کاغذ پر ترے جمال کی تصویر بن نہیں پاتی لکھے پڑے ہیں کئی انتساب کاغذ پر اُدھار تیری کہانی کا بھی چُکا لوں گا میں نقدِ جاں…
Read More