آنکھ اُس کی آج آئنہ دارِ نظارہ ہے کیا دل کا اعتبار کہ بارِ نظارہ ہے دیکھیں اگر تو چشمِ تصور میں وہ نگاہ حُسنِ نظر ہے اور شمارِ نظارہ ہے جل جل کے بجھ رہا ہے دریچوں میں عکسِ گل یہ شامِ ہجر ہے کہ بہارِ نظارہ ہے ہر سمت ہیں سراب کے منظر کھنچے ہوئے کیا خوب تیری راہ گزارِ نظارہ ہے تارے بجھے ہوئے ہیں، سسکتی ہے چاندنی یہ رات ہے کہ سر پہ غبارِ نظارہ ہے گرتی ہے قطرہ قطرہ شفق صبحِ ہجر میں نم دیدۂ…
Read MoreTag: Urdu literature
غلام حسین ساجد ۔۔۔ خدا ہے اور کہیں ناخدا ہے اور کہیں
خدا ہے اور کہیں ناخدا ہے اور کہیں سفر ہے اور کہیں راستہ ہے اور کہیں نگاہ ہے کہ مسلسل بھٹکتی پھرتی ہے چراغ اور کہیں آئنہ ہے اور کہیں قریب آئیں تو سانسیں اُکھڑنے لگتی ہیں درخت اور کہیں ہیں، ہَوا ہے اور کہیں بہت تضاد ہے جنّت میں اور جہنّم میں عدن ہے اور کہیں، نینوا ہے اور کہیں مِرے وجود میں شامل ہے روشنی جس کی مِرے گمان سے کچھ ماورا ہے اور کہیں اِسی نواح میں موجود تھا کہیں وہ بھی کئی دنوں سے مگر کھو…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا
اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا ضم ہُوا آئنے میں مِرا عکس تو مَیں دِکھائی دیا مجھ سے غافل تھا کیوں کہ مکمّل تھا مَیں اور اکمل تھا مَیں اور ظاہر ہُوا جب مِرا نقص تو مَیں دِکھائی دیا میری پہچان پر کوئی قدغن نہ تھی پھر بھی ممکن نہ تھی جب الگ ہو گیا مجھ سے ہر شخص تو مَیں دِکھائی دیا بے ضرر جان کر مجھ سے غافل تھا وہ، کیسا عامل تھا وہ کچھ ہُوا جب توقّع کے برعکس تو مَیں…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں
کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں خواب کا اسیر ہوں، نیند کی خبر نہیں حق کی بات کہتا ہوں اور مزے میں رہتا ہوں اب تو کوئی غم نہیں، اب تو کوئی ڈر نہیں آپ کا اسیر ہوں، آپ کا سفیر ہوں بات مختصر سی ہے اور مختصر نہیں کس کی خواب گہ ہے یہ، کون سی جگہ ہے یہ سر پہ آسماں نہیں، دامِ بحر و بر نہیں سب سے بدگمان تھا جب مجھے گمان تھا مجھ سا دوسرا کوئی فرشِ خاک پر نہیں جانتے نہیں…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں
دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں مَیں اپنی ذات کے حجرے سے کم نکلتا ہُوں دیارِ ہند سے باغِ عدن کو جاتا ہُوں کبھی حجاز سے سوئے عجم نکلتا ہُوں سحر کو کھینچ کے لاتا ہُوں اِس خرابے میں مَیں آج رات ترے ہم قدم نکلتا ہُوں ازل کی کوئی ضرورت نہ اب ابد سے لاگ مَیں اب کی بار ورائے عدم نکلتا ہُوں بکھرتا رہتا ہُوں شب بھر مگر بوقتِ سحَر سمیٹ لیتا ہُوں خود کو، بہم نکلتا ہُوں اِسی لیے تو تری روشنی میں رہتا ہُوں مَیں…
Read Moreمحمد یعقوب آسی ۔۔۔ سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟
سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟ مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے؟ کم مائیگیٔ حرفِ تشکر مجھے بتلا یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے؟ جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو بوڑھے شجر کو ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے؟ ڈر تھا کہ وہ بچھڑا تو تبسم سے گئے ہم کیا جانیے اس ہجر میں اب رو بھی سکیں گے؟ اک بار کا اظہار وہ صد خونِِ انا تھا اس داغِ تمنا کو کبھی دھو بھی سکیں گے؟
Read Moreحمیدہ شاہین ۔۔۔ خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں
خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں قید رکھتی ہیں خواہشات ہمیں ہم نے مانگی سکون کی چادر رنج بولے کہ بیٹھ ، کات ہمیں کچھ تو عادت ہے بے یقینی کی اور کچھ ہیں تحیّرات ہمیں اِس تعلّق کا سچ قبول کیا جوڑتی ہیں ضروریات ہمیں آنکھ کا آئنہ عطا کر کے اس نے دے دی ہے کائنات ہمیں بس کہ جھگڑا طویل ہوتا گیا سوجھتی جا رہی تھی بات ہمیں لاکھ رستا بدل بدل کے چلیں مل ہی جائیں گے حادثات ہمیں
Read Moreانور شعور ۔۔۔ کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا
کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا نادان ہے دل، اے خدا! جو ہو گیا سو ہو گیا قربان ہونا تھا جنھیں قربان تم پر ہو گئے اب کیا تلافی، کیا صلہ جو ہو گیا سو ہو گیا آپس میں اے دل! اے جگر! رنجش سے اچھی درگزر موقع نہیں تفصیل کا، جو ہو گیا سو ہو گیا چپ چاپ کیوں ہو دیوتا، ایسی بھی کیا گھمبیرتا آؤ، ہنسیں بولیں ذرا، جو ہو گیا سو ہو گیا بندہ معافی مانگ کر شرمندہ ہوتا ہے شعورؔ اب کیا…
Read Moreشاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو دائیں بائیں بھر کر بیٹھ جاتاہو ں قیامت بازیوں کا گھاگ لپکا ہے یہ دائیں بائیں کا ٹپکا میں دو چھینٹوں کا اِک چھینٹا بناتا ہوں قیامت اور قیامت کے تناسب سے یہ چھینٹا مجھ پہ پڑتا ہے تو خانہ دار، اُدھر اُس پار تم بھی بھیگ جاتے ہو ! درازی لہر کی ہو ، قہر کی ہو ہونٹ سے پھر ہونٹ جا چپکا اِدھر آدھا ابال آدھا اُدھر حلقوم میں حلقوم کا دھارا…
Read Moreشاہین عباس ۔۔۔ تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا
تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا شمار کی مجھے دُھن ہے، شمار کر کے دکھا میں عشق ٹھیک،بہت ٹھیک کرنا چاہتا ہوں سو میرا عشق مجھے ایک بار کر کے دکھا نہ جانے کب تجھے تنہا یہ کام کرنا پڑے تو میرے ساتھ مرا انتظار کر کے دکھا بنا تو پھرتا ہے پیراک اپنے آپ میں تُو ذرا خرابۂ دُنیا بھی پار کر کے دکھا تُو جلتا بجھتا ہوا ہی نظر میں ٹکتا ہے یہ روشنی ہی مجھے بار بار کر کے دکھا پتا چلے کہ میں…
Read More