مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک یہ سارے سخنور…
Read MoreTag: Urdu literature
رشید آفرین ۔۔۔ نہیں انسان کے کوئی برابر
نہیں انسان کے کوئی برابر ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر کوئی آئے جواں ایسا دِلاور بچا لے آدمیت کو جو آ کر جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر طلب میری کرم کی بھیک ہر پل درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر اُبھر کر جا لگا آخر کنارے تھا جو…
Read Moreوسیم جبران ۔۔۔ کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے
کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے…
Read Moreمیتھیو محسن ۔۔۔ کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی
کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی تشنگی پھر بھی کم نہیں ہوتی اتنا ارزاں لہو ہے آدم کا کوئی بھی آنکھ نم نہیں ہوتی راہِ ہستی بڑی کٹھن ہی سہی چاہ جینے کی کم نہیں ہوتی میں ہی عادی سا ہو گیا یا پھر بے رُخی کچھ ستم نہیں ہوتی سبھی کچھ ہے روا سیاست میں اس میں کوئی قسم نہیں ہوتی کون سی بات ہے مری محسن جو کسی جا رقم نہیں ہوتی
Read Moreشاہد فرید ۔۔۔ کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے
کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے جِس اُور بڑھا ہوں میں ، وہ در کھلتا گیا ہے یوں گھورتے ہیں مجھ کو ترے شہر کے باسی جیسے کہ محبت نہیں کی ، جرم کیا ہے میں جال میں الجھا ہوا تھا اور اچانک صیاد مرے پاؤں میں خود آن گرا ہے یہ عشق ‘ محبت تو ہے ایمان کا حصہ شک ذہن میں در آیا ، مرا جرم بڑا ہے آہٹ کوئی محسوس ہوئی ہے سرِ دہلیز دستک کی ضرورت نہیں ‘ دروازہ کُھلا ہے میں کچھ بھی…
Read Moreخالد احمد
دستِ ہَوا سے پرتوِ ادراک ہو گئے بادل بکھر کے دامنِ صَد چاک ہو گئے
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے
نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے گماں سرشت زمانہ ہی سارا ایسا ہے میں جانتا ہوں کہ ہم تم ہیں اک فسانۂ خواب ہمارے نام یہی استعارہ ایسا ہے نہ کیوں ہو جلوۂ حیرت مری نگاہ کا رنگ کئی دنوں سے اُفق کا کنارہ ایسا ہے ارادے ٹوٹتے جاتے ہیں ایک اک کرکے کہ اب کے برجِ فلک میں ستارہ ایسا ہے چلو نکل چلیں خوشبو رسیدہ لمحوں میں سحر کا دامنِ گل پارہ پارہ ایسا ہے وجودِ زندہ ہے یہ دل، کوئی فسانہ نہیں یہ اور بات مقدر…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا
زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا رات بہت طویل تھی، درد بہت زیادہ تھا دونوں کی ایک قدر تھی اور تھی مشترک بہت حُسن بھی خود نہاد تھا، عشق بھی بے ارادہ تھا ایک لباسِ مفلسی، ایک فریبِ دل لگی ایک تھا میرا پیرہن، ایک ترا لبادہ تھا وقت کی اپنی چال تھی اور مجھے خبر نہ تھی رات کی منزل اور تھی، صبح کا اور جادہ تھا ایک جنونِ خام تھا، ایک سرابِ ناتمام رخشِ ہوا پہ تم سوار اور میں پا پیادہ تھا تیرا جمالِ کم…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں!
تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں! تُو تو ادا شناس ہے، تیری خطا؟ نہیں نہیں! میرے سخن سے کب ہوئیں تیری جفائیں عکس ریز آئنہ خود ہی بول اُٹھا، میں نے کہا؟ نہیں نہیں! میں ہوں کہاں اَنا پرست ، عجز مری سرشت ہے مجھ سے بھی ہو گیا خفا میرا خدا؟ نہیں نہیں! تیز ہَوا کا شور و شر میری سماعتوں میں تھا کاٹ گئی مرا بدن تیری صدا؟ نہیں نہیں! ساعتِ جاں ہے منجمد رات کے سرد طاق میں اور رہے گی صبح…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ حضورِ شاہ چلیں گے، صدا کریں گے ہم
حضورِ شاہ چلیں گے، صدا کریں گے ہم جو کوئی زخم سے چیخ اُٹھا، کیا کریں گے ہم فضا کے محبسِ بے رنگ سے نکلنے کو بہت ہُوا تو پرندے رہا کریں گے ہم ہمارا ظرف اگر آزمانا چاہتا ہے وہ ابتدا تو کرے، انتہا کریں گے ہم کسی بلا سے محبت گزرنا چاہتی ہے خراج اس کو مگر کیا ادا کریں گے ہم نہ دیکھ مرتی ہوئی رات کی یہ آخری سانس نہ دن ہی نکلا تو سورج کو کیا کریں گے ہم ہزار داغِ شبِ غم، گُلِ سحر…
Read More