چلو، رسمِ وفا ہم بھی اُٹھا دیں کوئی دن شہر میں چرچا رہے گا
Read MoreMonth: 2019 دسمبر
علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔۔ بدل رہا ہوں مسلسل لہو کو پانی میں
بدل رہا ہوں مسلسل لہو کو پانی میں کچھ ایسا کرب تھا اُس شخص کی کہانی میں کمر خمیدہ ہیں حالاتِ نا مساعد سے ضعیف ہونے لگے لوگ نو جوانی میں کوئی چراغ نہ جلنے دیا خرابوں میں ہوا تھی تیرگیِ شب کی حکمرانی میں خیال بہتے رہے اس میں خاروخس کی طرح گذشتہ شب کہ تھا دریا بڑی روانی میں امیرِ وقت! کبھی خود ملاحظہ فرما گداگروں کے اضافے کو راجدھانی میں وہ سو گیا تو بہر سمت خاک اڑنے لگی جو فرد خاص تھا گلشن کی پاسبانی میں…
Read Moreاجنبی ۔۔۔۔۔۔ پروین شاکر
اجنبی ۔۔۔۔ کھوئی کھوئی آنکھیں بکھرے بال شکن آلود قبا لُٹا لُٹا انسان ! سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا ہے، لیکن کسی جگہ مل جائے تو گھبرا کے مُڑ جاتا ہے اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے کون ہے یہ؟
Read Moreبانی ۔۔۔۔ تیرگی بلا کی ہے، میں کوئی صدا لگاؤں
تیرگی بلا کی ہے، میں کوئی صدا لگاؤں ایک شخص ساتھ تھا، اُس کا کچھ پتا لگاؤں بہتے جانے کے سوا، بس میں کچھ نہیں تو کیا دشمنوں کے گھاٹ ہیں، ناؤ کیسے جا لگاؤں وہ تمام رنگ ہے، اس سے بات کیا کروں وہ تمام خواب ہے، اُس کو ہاتھ کیا لگاؤں کچھ نہ بن پڑے تو پھر ایک ایک دوست پر بات بات شک کروں، تہمتیں جُدا لگاؤں منظر آس پاس کا ڈوبتا دکھائی دے میں کبھی جو دور کی بات کا پتا لگاؤں ایسی تیری بزم کیا،…
Read Moreسراج اورنگ آبادی
لذت شبِ وصال کی مت پوچھ صبح کوں رہتا نہیں فجر کو مجھے شب کا خواب یاد
Read Moreآخری ملاقات ۔۔۔۔۔ ظہور نظر
آخری ملاقات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ریزہ ریزہ ہو کر گرتی تھر تھر کرتی اک دیوار کا سایہ کڑی دھوپ میں عجب روپ میں میری جانب آیا میں نے اُس کو اُس نے مجھ کو سینے سے لپٹایا دھوپ ڈھلی تو شامِ وفا نے عجب سوال اٹھایا مجھ سے اور دیوار سے پوچھا کس نے کسے بچایا وہ تو تھی دیوار سو چپ تھی میں بھی بول نہ پایا
Read Moreدل کی دنیا ۔۔۔۔۔ عصمت چغتائی مع تجزیہ : ڈاکٹر شریف احمد
دل کی دنیا ۔۔۔۔۔ عصمت چغتائی مع تجزیہ DOWNLOAD
Read Moreمبشر سعید
تو نہیں مانتا مٹی کا دھواں ہو جانا تو ابھی رقص کروں ، ہو کے دکھائوں تجھ کو؟
Read Moreمبشر سعید
رات ، زلفوں میں ڈوب جاتی ہے دن نکلتا ہے اس کی آنکھوں میں
Read Moreمبشر سعید
میں کنارے سے دیکھ سکتا ہوں کوئی دریا ہے اس کی آنکھوں میں
Read More