سر و سامانِ سفر مانگ لیا قاصدِ شام نے سر مانگ لیا
Read MoreMonth: 2025 فروری
ماجد صدیقی ۔۔۔ دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا کچھ نہیں جن میں معانی…
Read Moreمحسن اسرار
مرے وجود کے اندر اِدھر اُدھر کچھ ہے خبر نہیں یہ گماں ہے کہ ڈر مگر کچھ ہے
Read Moreاقبال کوثر
جانے وفا میں لغزشِ پا دیکھ کر مری آ جاتا ہے کہاں سے کوئی تھامنے مجھے
Read Moreسید تیمور کاظمی ۔۔۔ دستار دیکھتے ہیں تو سر دیکھتے نہیں
دستار دیکھتے ہیں تو سر دیکھتے نہیں خانہ بدوش لوگ ہیں گھر دیکھتے نہیں اِک عمر سے کھڑا ہوں کہ دیکھے مجھے کوئی میری طرف کیوں اہلِ نظر دیکھتے نہیں رفتار سست کرتا ہے زادِ سفر کا بوجھ رختِ سفر کو وقتِ سفر دیکھتے نہیں رونق ہے دیکھنے سے ہی سارے جہان میں کس کام کی ہے دنیا اگر دیکھتے نہیں کن پنچھیوں کو دیکھنے آئے ہو تم یہاں خالی پڑے ہوئے ہیں شجر دیکھتے نہیں بے کار دیکھتے ہیں اِدھر کو اُدھر کو ہم جس سمت دیکھنا ہو اُدھر…
Read Moreوزیر آغا ۔۔۔ کہانی
کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عجب دن تھے وہ جھاڑیاں آگ کے جھنڈ کائی زدہ تال جن کے کنارے ہزاروں برس سے کھڑے جنڈ اور ون کے ڈھانچے پھلائی کے پھرواں کے جنگل جو دھرتی پہ بچھ سے گئے تھے اداسی ہوا بن کے پھرتی تھی اور سنت سادھو پرانے درختوں کے نیچے بچھی گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے تھے خود اپنے ہی اندر کے تاریک جنگل کا حصہ بنے تھے عجب دن تھے وہ جب بھی کچھ کہنا چاہا گھسے مردہ لفظوں کی کوئی کمک تک نہ آئی جو آئی…
Read Moreشیخ امداد علی بحر
آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے ان کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے
Read Moreآفتاب خان ۔۔۔ وہ جس کی لگائی ہوئی ہر شرط کڑی ہے
وہ جس کی لگائی ہوئی ہر شرط کڑی ہے اُس حسنِ بَلاخیز سے یہ آنکھ لڑی ہے کہنے کو بہت کم ہے ہتھیلی پہ حِنا رنگ انگشت مگر اُس کی نگینے سے جڑی ہے نِت روز تماشا کرے خلقت سرِ بازار اور زیست کسی چوک میں حیران کھڑی ہے فرما دیا جو مَیں نے حقیقت ہے وہی بس ہاں دُکھ ہے یہی ، خلقِ خدا ضد پہ اڑی ہے ویسے تو سرِ بزم دکھائی نہ دیں آنسُو پلکوں کے دوروں خانہ تو ساون کی جھڑی ہے اولاد کا ہے فرض…
Read Moreاکرم جاذب ۔۔۔ بلا سے دشت چمن کے قریں سمجھتے ہو
بلا سے دشتِ چمن کے قریں سمجھتے ہو وہی حسیں ہے جسے تم حسیں سمجھتے ہو خود اپنے چار طرف بھی اگرچہ خود ہی ہو کہیں کہیں تو مجھے بھی کہیں سمجھتے ہو یہ خاک زادے ستارے ہیں کہکشاؤں کے یہ آسماں ہے جسے تم زمیں سمجھتے ہو ہمیشہ پکڑے گئے ہو فریب دیتے ہوئے زیادہ خود کو ذہین و فطیں سمجھتے ہو کسی بھی آئنے کو منہ نہیں لگاتے تم جو نکتہ بیں ہے اسے نکتہ چیں سمجھتے ہو براہِ راست تخاطب کی راہ ڈھونڈنے کو فسانہ سن کے…
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نبیل احمد نبیل
اُنؐ کے ہی لُطف و کرم سے، رہنمائی سے ہوا یہ جہاں روشن جمالِ مصطفائی سے ہوا کُھلتے کُھلتے کُھل گیا مجھ پر درِ خُلدِ بریں معجزہ یہ آپؐ کی مدحت سرائی سے ہوا مجھ فقیرِ رہ گُزر کو ہیچ ہیں تخت و کُلاہ یہ کرم اؐن کا ہے اور اْن کی گدائی سے ہوا اُنؐ کی رحمت جوش میں آ کر مدد کو آ گئی کام مجھ سے بے نوا کا بے نوائی سے ہوا اُن کی رحمت نے سنوارے میرے دُنیا اور دِیں دوجہانوں میں بَھلا ان کی…
Read More