ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی پھول بالوں میں اک سجانے کو हाथ काँटों से कर लिए ज़ख़्मीफूल बालों में एक सजाने को
Read MoreDay: جولائی 26، 2025
میتھیو محسن ۔۔۔ ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں
ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں قید الفت سے رہا ہو جائیں ہم اندھیروں سے الجھ کر شاید صبحِ ارماں کی ضیا ہو جائیں وہ جنھیں اِذنِ پرستش نہ ملا ان کے ہونٹوں کی دعا ہو جائیں بڑھتی جاتی ہے عقیدت اُن سے یوں نہ ہو وہ بھی خدا ہو جائیں ہم ستم جھیلنے والے محسن اب زمانے کی صدا ہو جائیں
Read Moreراحت سرحدی ۔۔۔ کسی مطرب نہ مسیحا نہ ادا کار کے ساتھ
کسی مطرب نہ مسیحا نہ ادا کار کے ساتھ شام دیتی ہے مزہ یارِ طرح دار کے ساتھ شوق سے سر پہ پہن اس کو مگر یاد رہے لوگ لٹکا بھی دیا کرتے ہیں دستار کے ساتھ مجھ کو حیرت سے نہ دیکھو کہ میں تصویر نہیں غم لگا دیتا ہے انسان کو دیوار کے ساتھ جان بھی اس میں چلی جائے تو افسوس نہیں کوئی سمجھوتا نہ ہو گا کبھی معیار کے ساتھ یوں مرے گرد اٹھائی ہیں فصیلیں اس نے دائرہ کھینچا ہو جیسے کسی پرکار کے ساتھ…
Read Moreخالد احمد खालिद अहमद
اہل زنداں کے لیے تازہ ہوا آنے کو ہے شہر جاناں سے کوئی تازہ نوا آنے کو ہے अहल-ए ज़िंदाँ के लिए ताज़ा हवा आने को हैशहर-ए जाँ से कोई ताज़ा नवा आने को है
Read Moreخالد احمد खालिद अहमद
جدائی میں بھی ہم اک دوسرے کے ساتھ رہے کڈھب رہا نہ وہ خالد سنور گئے ہم بھی जुदाई में भी हम एक दूसरे के साथ रहेक़द्र रहा न वो ख़ालिद, सँवर गए हम भी
Read Moreنوید صادق ۔۔۔ کچھ خاص خواہشات سے صرفِ نظر کیا
کچھ خاص خواہشات سے صرفِ نظر کیا خود سے گریز بنتا نہیں تھا، مگر کیا خود داریوں کی اوٹ میں کیا جانے کس طرح ہم نے بھی ایک ساتھ بہت دن سفر کیا سورج نے یہ جو ہم سے رعایت کبھی نہ کی صحرا نے کون روز یہاں درگذر کیا کیا کہیے کون لوگ تھے منظر کی اوٹ میں دیوانہ وار ہم نے سفر در سفر کیا آہٹ سی کوئی دھیان میں گونجی تھی ایک روز دل نے کسی گماں میں ہمیں در بہ در کیا اہلِ زمانہ اور طرف…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی
یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی نغمے بنے ہیں گریۂ پنہاں کبھی کبھی ہونکی ہیں بادِ صبح کی رو میں بھی آندھیاں ابلا ہے ساحلوں سے بھی طوفاں کبھی کبھی بڑھتا چلا گیا ہوں انہی کی طرف کچھ اور یوں بھی ہوا ہوں ان سے گریزاں کبھی کبھی آنچوں میں گنگناتے ہیں گلزار گاہ گاہ شعلوں سے پٹ گیا ہے گلستاں کبھی کبھی لے سے نکل پڑی ہے کبھی ہچکیوں کی فوج آہیں بنی ہیں راگ کا عنواں کبھی کبھی دامانِ گل رخاں کی اڑا دی ہیں…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی
بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی نہیں بھولتے کسی کو مہ و سالِ آشنائی یہی خواب ہے سفر میں رہے تو سدا نظر میں ہمیں جس طرف اڑائیں پر و بالِ آشنائی کریں جاں نثار تجھ پر کہ فدا ہیں یار تجھ پر جنھیں علم ہے گراں ہے زر و مالِ آشنائی سبھی تجھ پہ مر رہے ہیں یہ گلہ بھی کر رہے ہیں تجھے پاسِ دوستی ہے نہ خیالِ آشنائی کبھی اس سے واسطہ ہے کبھی اُس سے رابطہ ہے ترے زاویے سے ٹھہرا ہے کمالِ آشنائی کس رخ…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ محمد انیس انصاری
آقاؐ کی محبت کا اثر ختم نہ ہو گا مکّہ سے مدینے کا سفر ختم نہ ہو گا مخلوق سدا جھولیاں پھیلائے رہے گی اس پیڑ کی شاخوں پہ ثمر ختم نہ ہو گا مِلتی رہیں گی نِت نئی لفظوں کو قبائیں سرمایۂ اربابِ نظر ختم نہ ہو گا ہر نعت میں گونجے گی ترے عشق کی آواز حسّانؓ ترا حسنِ ہنر ختم نہ ہو گا مت پوچھیئے اُس شہرِ مدارات کا احوال لنگر ہے ، کہ جو شام و سحر ختم نہ ہو گا جُز حرفِ شکیبائی انیسِ دل…
Read Moreخالد احمد खालिद अहमद
دائرہ دائرہ قوسوں میں گھرا ہوں کب سے کتنے ڈورے ہیں کہ اُلجھے ہیں مری آنکھوں سے दायरा दायरा क़ोसों में घिरा हूँ कब सेकितने डोरे हैं कि उलझे हैं मेरी आँखों से
Read More