افتخار شوکت ۔۔۔ اس کی باتیں سنا رہی ہے ہوا

اس کی باتیں سنا رہی ہے ہوا مجھ کو پاگل بنا رہی ہے ہوا بنتے جاتے ہیں نقش پانی پر اپنا جادو دکھا رہی ہے ہوا وا کیے بیٹھا ہوں دریچۂ دل اس کی یادوں کی آ رہی ہے ہوا بات سنتا نہیں کوئی اس کی کب سے در کھٹکھٹا رہی ہے ہوا شور جنگل کا سن کے لگتا ہے مجھ کو شاید بلا رہی ہے ہوا دے رہی ہے تسلی جھوٹی مجھے آنسوؤں کو سکھا رہی ہے ہوا دیر سے بے قرار لگتی ہے خشک پتے اڑا رہی ہے…

Read More

مظہر امام ۔۔۔ دیکھو اس شخص سے اتنی نہ محبت کرنا

دیکھو اس شخص سے اتنی نہ محبت کرنا بھول جائے نہ کہیں ہم سے وہ نفرت کرنا دوستی خوب نبھائی ہمیں تسلیم مگر دشمنی میں بھی نہ اب جان رعایت کرنا مصلحت پیش ہے ورنہ ہمیں سب ہے معلوم سر اٹھائے ہوئے دنیا سے بغاوت کرنا عہد کم ظرف کی باتوں کا برا مت جانو اس کی فطرت میں نہیں کوئی عنایت کرنا یہ برا وقت سہی یہ بھی گزر جائے گا ظلم کے آگے کبھی جھکنا نہ منت کرنا

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی

میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی شبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیں ظالم دہائی ہے ترے زورِ شباب کی منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روزِ حشر چہرے پہ خاک مل کے درِ بوتراب کی صورت پرست میری نگاہوں نے اصل میں دل کیا مرے وجود کی مٹی خراب کی ہر پنکھڑی کے طاق میں ہنس ہنس کے صبح کو شمعیں جلا رہی ہے کرن آفتاب کی

Read More

صفدر صدیق رضی ۔۔۔ نظم

وہاں سب اجنبی ہونگے مسلسل ڈھونڈتے رہ جائیں گے قوم اپنے رہبر کو کوئی امت پیمبر کو کئی ماں باپ بچوں کو کوئی بھائی بہن کو دوست یاروں کو محبت کرنے والے اپنے پیاروں کو کوئی بھی مل نہ پائے گا پر اس عالم میں بھی پہچان کر تجھکو میں تیرا ہاتھ بڑھ کر تھام لوں گا

Read More

خالد احمد खालिद अहमद

اَے دَستِ ہُنر ، تُو نے فقط لفظ جَڑے ہیں سو پُھول پسِ حرف ، تہِ سطر پڑے ہیں ए दस्त-ए हुनर, तू ने फ़क़त लफ़्ज़ जड़े हैंसो फूल पस-ए हर्फ़, तह-ए सत्‍र पड़े हैं

Read More

طاہر ناصر علی ۔۔۔ دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے

دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے چھوڑ کر ہم بھی اپنا گھر آئے ایسا لگتا تھا کر رہے ہوں وداع راہ میں جو گھنے شجر آئے یاد کرتے ہوئے اُسے آخر اُس کے کوچے سے ہم گزر آئے جس کو دیکھو وجود میں اپنے تنہا تنہا یہاں نظر آئے شیشۂ اعتبار کیا ٹُوٹا دل کی مسند سے ہم اُتر آئے جس سے آئیں نئی نئی چیزیں تھے پرانے جو گھر نکھر آئے آسماں اشکبار ہوتا ہے دل کی آہوں میں جب اثر آئے ہو گئے دُور ایک لمحے میں ساتھ…

Read More

محمد ارشاد ۔۔۔۔ رباعیات

بہتی پوشاک بہتی چھوڑے گی کیا یا اپنی طرف لپک کے موڑے گی کیا قابض ہیں گھاٹ پر اُٹھائی گیرے ننگی دھوئے گی کیا نچوڑے گی کیا اے زاہدِ گوشہ گیرہاں اے مزدور اللہ سے لو اور اس کے بندوں سے نفور کیا مُزدِ عبادات یہی ہے کہ ملے دنیا میں پری وگرنہ جنت میں حور اے تُو کہ تری معاش ہے طُرفہِ معاش گُم ڈھیر میں بھُس کے ایک نخمِ خشخاش مت ڈھونڈ خدا کو لامکانی ہے خدا گُم تُو ہے خدا نہیں ہے کر خود کو تلاش ہوتی…

Read More

شبہ طراز ۔۔۔ ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے

ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے ایسا لگتا ہے کہیں کوئی کمی رہتی ہے وقت بھی راکھ ہوا ، خاک ہوئی اس کی لگن کوئی چنگاری مگر دِل میں دبی رہتی ہے تیرے آ جانے کی ساعت نہ کہیں کھو بیٹھوں سوتے سوتے بھی مری آنکھ کھُلی رہتی ہے آئنہ خانے میں اب میَں نہیں تُو بستا ہے تیرے ہونے سے مرے گھر میں خوشی رہتی ہے راستے اب بھی ترے واسطے بچھ رہتے ہیں اور منڈیروں پہ تری یاد جلی رہتی ہے آتا ہے جب بھی…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی

ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی جی کا ملال ، روح کی راحت نہیں ملی صد شکر غم نے رکھ لی مری زندگی کی لاج خوش ہو کے جی لوں ایسی سہولت نہیں ملی میری بھی آرزو تھی کہ دل کھول کے ہنسوں لیکن ترے غموں سے اجازت نہیں ملی رخسارِ یار پر نہیں تمثیلِ گل روا پھولوں کو اس قدر تو صباحت نہیں ملی برسوں کے بعد دیکھا جو سوئے دیارِ دل کوئی وہاں پرانی عمارت نہیں ملی ہر رات مجھ کو لوٹ کے آنا پڑا ہے…

Read More

ظہور چوہان ۔۔۔ اوّلیں اور آخری تنہا

اوّلیں اور آخری تنہا صاحبو ! ایک ہے ’’علی‘‘ تنہا رنگ سب اُڑ گئے ہَواؤں میں پھر تری یاد رہ گئی تنہا تیرگی میں بھی ہے شعاع ِ اُمید اِتنے غم اور اِک خوشی تنہا اُن مکانوں میں پھول کِھلتے ہیں دیکھتا ہے اُنہیں کوئی تنہا اُس سے بچھڑا تو پھر سمجھ آئی کیسے ہوتا ہے آدمی تنہا لوگ سب اپنے کام کاج میں گْم ہوتی جاتی ہے زندگی تنہا سب کو تنہائی سے بچانے لگا اور پھر ہو گیا وہی تنہا میرے چاروں طرف اندھیرا ہے بس یہاں پر…

Read More