بہ نوکِ خار می رقصم ۔۔۔ سلمیٰ یاسمین نجمی

بہ نوکِ خار می رقصم (۱) وہ چاروں ڈیلٹا ایر لائن کے ذریعے چند منٹ پہلے اور لینڈ و پہنچی تھیں۔نیلے کانچ کی طرح صاف شفاف آسمان تاحدِّ نظر پھیلا ہوا تھا۔اس میں بادلوں کے سپید پھولے ہوئے گالوں جیسے بادلوں کا انبار لگا ہوا تھا۔ ’’کیوں شمو کتنا خوبصورت آسمان ہے بالکل ہمارے وطن جیسا…‘‘ ’’گرمی بھی ویسی ہے،دم نکلا جا رہا ہے۔‘‘شمو نے اپنی منی سی ناک چڑھائی۔’’مجھے لگتا ہے ساری تفریح نکل جائے گی ،ہمیں اس موسم میں نہیں آنا چاہئے تھا۔‘‘ ’’جب چھٹیاں ہوتی ہں تب…

Read More

ماتم بال و پَر کا … رشید امجد

بات یوں چلی کہ نام اور پہچان کا تعلق جسم سے ہے یا اس بے نام شے سے جو جسم کو وجود بناتی ہے۔ جس کے بغیر جسم بے حِس و حرکت مٹی کا ایک ڈھیر ہے، جسے یا تو کیڑے مکوڑے کھا جاتے ہیں یا خاک کے ساتھ خاک ہوجاتا ہے۔ مٹی ریتیلی ہو تو خاک ہونے میں زیادہ عرصہ نہیں لگتا، چکنی ہو تو دیر لگتی ہے۔ لیکن کیڑے تو ہر جگہ ہوتے ہیں اور انھیں بھوک بھی لگتی ہے تو پھر نام او رپہچان کا تعلق کس…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ دیوار

دیوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نومتحد جرمن شہر برلن کےبرینڈن برگ گیٹ پر اس دن عجب میلے کا سا سماں تھا۔ مشرقی اورمغربی جرمنی کا اتحاد اسی سال موسمِ خزاں میں تو ہوا تھا۔ہم اس وقت شہر کی مشرقی جانب کھڑے تھے یا مغربی ؟ میں اپنے کم گوجرمن نژادہم۔کار ہیرشمٹ ؔ سے پوچھنا چاہتا تھا۔ مگر پھر ایک تویہ سوچ کر چپ ہو رہا کہ کیا فرق پڑتا ہے اب تو یہ ایک ہی ملک اور ایک ہی شہر ہے اور دوسرے یہ کہ میں اپنے ساتھی کو یہ تاثر کیوں دوں…

Read More

رشید امجد … ڈائری کا اگلا صفحہ

جب سے بیوی فوت ہوئی تھی وہ ایک بنجر کھیت تھا،ہریالی کے تصوّر سے بھی خالی بوند بوند پانی کو ترستا ہوا۔زندگی بس گزررہی تھی،صبح ناشتے پر بیٹے بہو اور ان کے بچوں سے مختصر سی گفتگو،پھر دفتر کی بے رنگ باتیں،فائلوں سے اٹھتی عجیب سی بو،آس پاس کے لوگ بھی اسی کی طرح تھکے ہوئے اور بے زار بے زار سے۔پرسنل سیکریٹری بھی اسی کی طرح اکتائی ہوئی۔فائل لے کر اس کے کمرے میں آتی تو لگتا کسی تالاب کی کائی اکھٹی ہوکر جسم بن گئی ہے۔آدھا گھنٹہ سامنے…

Read More

چاچا ناشکرا …. سیمیں کرن

”لو بھئی ایتھوں بنٹھو، ہُن کوئی نئیں گل کرسگدا، جھیڑا کرلے گا اور ھسے گا، تے نالے فتویٰ سنے گا۔“ چاچا نورنے نے اپنی لُنگی سنبھالی اور یہ کہتے ہوئے تیزی سے موقعے سے ٹلنے کو عافیت جانی۔ سامنے سے چاچا ناشکرا آرہا تھا۔ چاچا ناشکرا بھی اپنی جگہ اک بڑی دلچسپ، رونقی اور مجلسی شخصیت تھا۔ بولتا توتوجہ مبذول کرنے کا گفتگو کو دلچسپ رُخ دینے کا ماہر تھا۔ کچھ لوگ اُس بات پر آمناً و صدقاً کہہ دیتے۔ ہاں میں ہاں ملاتے۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو چاچا…

Read More

سر سید احمد خان ۔۔۔ آزادیٔ رائے​

آزادیٔ رائے​ ہم اپنے اس آرٹیکل کو ایک بڑے لایق اور قابل زمانۂ حال کے فیلسوف کی تحریر سے اخذ کرتے ہیں۔ رائے کی آزادی ایک ایسی چیز ہے کہ ہر ایک انسان اس پر پورا پورا حق رکھتا ہے۔ فرض کرو کہ تمام آدمی بجز ایک شخص کے کسی بات پر متفق الرائے ہیں مگر صرف وہی ایک شخص انکے بر خلاف رائے رکھتا ہے تو ان آدمیوں کو اس ایک شخص کی رائے کو غلط ٹھہرانے کیلیئے اس سے زیادہ کچھ استحقاق نہیں ہے جتنا کہ اس ایک…

Read More

توصیف بریلوی ۔۔۔ جیلر

جیلر بہت عجیب تھا۔ ہوتا بھی کیوں نہ…نو عمری میں ہی عہدہ جو سنبھال لیا تھا۔ اس کی جیل میں ہندو مسلم ہر مذہب و ملت کے قیدی تھے۔ جیل میں اتنے نہاں تہ خانے تھے کہ کب کون سا قیدی آیا اور کب کون گیا کسی کو خبر نہیں ہوتی تھی بلکہ کسی قیدی کو اس بات کا علم ہی نہیں ہونے پاتا تھا کہ جیل میں اس کے سوا بھی کوئی قیدی ہے یا نہیں۔ جیلر سخت محتاط تھا۔ جیسا کہ عرض کر چکا ہوں جیلر بہت عجیب…

Read More

شاہین عباس ۔۔۔ ایڈیٹنگ

ایڈیٹنگ   نظم ہو یا افسانہ، کچھ بھی لکھتے ہوئے، مجھے بارہا قطع و برید کے جبر سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ جبر کبھی تو رزمیہ بن جاتا ہے اور کبھی طربیہ۔ میں نے نظم لکھی ، جس کامصرع تھا خدا ایک ہے۔ اگلی ہی جست میں اُسے یوں تبدیل کردیا، لا ایک ہے یا یوں کہیے کہ دونوں مصرعوں کو ایک دوسرے کے متوازی استوار کر دیا کہ بھلے ہی دیرینہ دشمنوں کی طرح گھورتے رہیں ، مگر ٹکرائیں نہیں۔ یوں سوال کا جواب دیا اور جواب پر سوال…

Read More

آصِف عمران ۔۔۔ ہم سُخن ہُوئے خواب

ہم سُخن ہُوئے خواب رات کاپچھلا پہر ہے اور گلی میں سناٹا زرد چاندنی کی چادر اوڑھے گہری نیند سو رہا ہے۔مَیں پلنگ پر لیٹا سوچ رہا ہُوں کہ مجھے نیند کیوں نہیں آرہی۔ یہ نیند کا پرندہ روشندان میں بیٹھا گھر کے دروازے پرنظریں جمائے کِس کے اِنتظار میں ہے جب کہ گھر کے ہر کمرے میں نیند بھری سانسوں کا پکا راگ ہر فردکے پلنگ پر بیٹھا میرے ساتھ جاگ رہاہے۔اِس راگ میں چند سانسوں کی تکرار سماعتوں میں گونج بن کر اپنی لَے پر رقص کر رہی…

Read More

حمزہ حسن شیخ ۔۔۔ رحیمو کی ریڑھی

رحیمو کی ریڑھی پارک میں بہت رش تھا اور ہر سو لوگوں کا ہجوم تھا۔ موسیقی اونچی آواز میں بج رہی تھی اور کتوں کی بھونک اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ ماحول خوشگوار تھا اور ہر چہرہ خوشی سے بھرپور۔ انسانوں اور کتوں کا جمگھٹا آپس میں گھل مل چکا تھا۔ موٹے اور طاقتور مالکان اپنے کتے سنبھالنے میں مگن تھے۔ انھوں نے اپنے کتوں کی ڈوریں سنبھال رکھی تھیں لیکن کتے اتنے بڑے تھے کہ وہ ان کو سنبھالنے میں ناکام نظر آتے تھے۔ پارک کے ایک کونے…

Read More