اسیری ۔۔۔۔۔۔۔ بلندیوں کی مہیب و خاموش وسعتوں میں کبھی کبھی بادلوں کے روزن سے دیکھتا ہوں ہرے بھرے پیڑ ہم صفیروں کی خوش دلی ندّیوں کا چھل بل مگر اب ان میں کشش نہیں ہے زمین کے سِحر کی حدیں ختم ہو چکی ہیں مری اسیری عجب اسیری ہے میں فقط اپنے بال و پر کا اسیر ہوں اور مرا قفس میری اپنی پرواز کی حدیں ہیں
Read MoreCategory: آج کی نظم
اکرم کُنجاہی … شہر آشوب
شہر آشوب ………. طہارت دل کے کعبوں کی مٹی جاتی ہے یارب کوئی دل تو مقدس ہو کہ جس میں انسانوں کی الفت شمع کی صورت فروزاں ہو مگر ستم ہے کہ جتنے دل ہیں وہ دل سیاہ ہیں دماغ سارے کدورتوں کی اماجگاہ ہیں دکھی دلوں کی جو بے بسی کو نویدِ فتح مبین سمجھیں چبھن ہے کانٹوں سی بانجھ سوچوں کی کھیتیوں میں کون فردِ عمل کو دیکھے کہ جاہلوں کی زباں سچائی کا ہے صحیفہ حسن و خوبی معیار کیسا چھپا دئیے ہیں اندھیرے پردوں میں کور…
Read Moreڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ منیر نیازی کی یاد میں
منیر نیازی کی یاد میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُمید کسی کے آنے کی یا دُور سے بات سنانے کی اَن دیکھی چھب دکھلانے کی ہر بات میں دیر لگانے کی اب ٹوٹ گئی وہ نین نشیلے بند ہوئے وہ صورت ہم سے روٹھ گئی افسردہ سرد اندھیرے میں یہ ایک کرن بھی بجھ گئی ہے اک دُور کے طاق پہ جلتی ہوئی اک شمع انوکھی بجھ گئی ہے
Read Moreڈاکٹر یونس خیال ۔۔۔ خوف
خوف ۔۔۔۔۔ شہر کی دیوار پر لکھے گئے پھر نئی ترتیب سے کالے حروف اس سے پہلے بھی نہ جانے اس طرح کی کالی تحریروں کو پڑھ کر کتنے انسانوں سے بینائی چِھنی ہے اب بھی ایسے ہی کئی خدشوں کی چیخیں مرے اندر سنائی دے رہی ہیں
Read Moreڈاکٹر یونس خیال ۔۔۔ لمحے کی رفاقت
لمحے کی رفاقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحہ کتنا عظیم تر تھا کہ جس کو پانے کی آرزو میں نہ جانے کتنی طویل صدیاں مری وفا کے چراغ لے کر اُداس رستوں پہ منتظر تھیں وہ لمحہ کتنا عظیم تر تھا حسین تر تھا کہ جب ترا نام سب سے پہلے مری زباں سے ادا ہوا تھا
Read Moreاحمد حسین مجاہد ۔۔۔ میں
مَیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ برس دو برس تک مرا نام ایلان کردی رہا ہے مگر اب مرے سینکڑوں نام ہیں میں فلسطین کا مصطفیٰ ہوں پشاور کا گُل شیر ہوں میں نے بڈگام میں جان دی تھی مری قبر بغداد میں ہے کہیں میں روہنگیا کہیں میں ہزارہ کہیں پنڈتوں میں گھرا محض اک آدمی ہوں پشاور کے اسکول میں جو عبارت مرے خوں سے لکھی گئی اس کے معنی کسی پر نہیں کھل سکے مجھ پہ کابل کی مسجد میں اس وقت حملہ ہوا جب میں سجدے میں تھا شام کی…
Read Moreنوید صادق ۔۔۔ غیر مکمل نظمیں
غیر مکمل نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دفتر کے ہنگامے بھی کچھ کم تو نہیں ہیں لیکن گھرکا سناٹا تو جاں لیوا تھا اند ر باہر ہونکتے سائے تنہائی کے مارے گھر کی دیواروں میں دفن خرابے بولتے ہیں خوابوں کی جو قیمت آپ چکا بیٹھے ہیں راشد صاحب! آپ اداکاری میں کتنے یکتا تھے لیکن سالامانکاشاید۔۔۔! آپ سے تھوڑا آگے تھی بات بہت لمبی ہے لیکن میں اس دفتر میں نوکر ہوں میری ذمہ داریاں ۔۔۔۔۔ میری ساری نظمیں ۔۔۔۔ اب تک غیر مکمل ہیں
Read Moreنوید صادق ۔۔۔ سونا چاہتا ہوں
سونا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی تم مجھ سے دور چلے جاؤ گے پہلے کم اُلجھیڑے ہیں جو چاروں اور دھمالیں ڈالتے پھرتے ہیں پہلے پہل مَیں سوچتا تھا اِس دنیا میں میں ہوں، میرے بعد بھی میں ہوں لیکن ! وقت کے اپنے چکر ہیں چکرا دیتے ہیں آدمی نام اور کام کے چکر کو رہ جاتا ہے صرف کہانی چلتی ہے اچھا !تم بھی خوب سمجھتے ہو اِن جھگڑوں کو دریاؤں کا پانی شہر میں داخلہ چاہتا ہے خاموش! ہمارے آنگن میں اِک چڑیا پر پھیلائے…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ دور پیڑوں کے سائے میں
دور پیڑوں کے سائے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دور پیڑوں کے سائے میں حرکت، مسلسل مرا دھیان اس کی طرف اوردل میں کئی واہمے دل کی دھڑکن میں دھڑکیں کئی گردشیں اور میں ہشت پائے کے پنجے میں جکڑا گیا عجب خوف پیڑوں کے سائے میں پلتا ہوا اک تحرک جو کھلتا نہیں اور میں منتظر جو بھی ہونا ہے اب ہو اور اب ایک آہٹ نے دہلادیا بہت دھیمی آہٹ اجل نے چھوا ہو کہ دنیا اندھیرے میں ڈوبی کہیں دور خوشبو میں مہکا سویرا تحرک کی ہچکی سنی اور ہر…
Read Moreفیصل ہاشمی ۔۔۔ نظم ساتھ دیتی ہے
نظم ساتھ دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بارشیں نہ آئیں تو پیڑ سوکھ جائیں تو کھیتیاں نہ بچتی ہوں کھیتیاں بچانی ہوں نظم ساتھ دیتی ہے رات کی روانی میں خوف ناک پانی میں کشتیاں نہ چلتی ہوں کشتیاں چلانی ہوں نظم ساتھ دیتی ہے جنگ کرنے والوں سے بستیاں اجڑ جائیں بستیاں نہ بستی ہوں بستیاں بسانی ہوں نظم ساتھ دیتی ہے دوستوں کی آپس میں چھوٹی موٹی رنجش ہو دوریاں نہ مٹتی ہوں دوریاں مٹانی ہوں نظم ساتھ دیتی ہے گرمیوں کے موسم میں کیکروں کی چھاؤں میں روٹیاں پکانی…
Read More