باقی ہے اب بھی ترکِ تمنا کی آرزو کیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھے
Read MoreCategory: ب
آکاش اتھرو
بانٹ لیا کرتے تھے دونوں گھر کا دکھ وہ بھی دفتر تھوڑا جلدی آتی تھی
Read Moreاستاد قمر جلالوی
باغباں توہینِ گلشن چار تنکوں کے لئے برق سے کہہ دے بنا جاتا ہے کاشانہ ابھی
Read Moreخالد احمد
بند دروازہ تھا خالد ، یا عبادت گاہ تھی اس کے دَر پر سارے بے کس ، سارے بے گھر سو گئے
Read Moreقابل اجمیری
بھڑک اٹھی ہیں شاخیں، پھول شعلے بنتے جاتے ہیں ہمارے آشیانوں سے کہاں تک روشنی ہوتی
Read Moreمرزا غالب
بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
Read Moreکشور ناہید
بارش کا بدن تھا اس کا ہنسنا غنچے کا خصال اس کا حق تھا
Read Moreقابل اجمیری
بہت دلچسپ ہیں ناصح کی باتیں بھی مگر قابل محبت ہو تو اندازِ بیاں کچھ اور ہوتا ہے
Read Moreفراق گورکھپوری
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے، اے زندگی! ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
Read Moreخالد احمد
بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے لب رسیلے نہ رہے ، نین نشیلے نہ رہے
Read More