Category: Uncategorized
خاور اعجاز ۔۔۔ ہائیکو تراجم
ہائیکو تراجم Masaoka Shiki ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ In our parting, between boat and shore Comes the willow-tree ہم بچھڑے تھے یوں کشتی اور ساحل کے بیچ تھا بیدِ مجنوں ……………… The leaves of the willow fall, Scraps of vegetables Floating donw the brook گِرتے ہیں پتّے یا ندّی کی آنکھوں میں خوابوں کے ٹکڑے ……………… The morning-glory Trails over the ground Of the empty house صبحِ طرح دار خالی گھر کے آنگن میں پھِرتی ہے بے کار
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی
آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟ آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی کس سے پوچھیں گے وہ میرے رات کے مرنے کا حال…
Read Moreسعدیہ وحید … اعلیٰ صحافتی اقدار کے امین __ ارشاد احمد حقانی
اعلیٰ صحافتی اقدار کے امین …ارشاد احمد حقانی اب حرفِ تمنا کو سماعت نہ ملے گی بیچو گے اگر خواب تو قیمت نہ ملے گی سوچا ہی نہ تھا یوں بھی اُسے یاد رکھیں گے جب اُس کو بھلانے کی بھی فرصت نہ ملے گی (پیر زادہ قاسم) صحافی، کالم نویس اور دانشور ارشاد حقانی6 ستمبر 1928ء کو قصور میں پیدا ہوئے۔ارشاد احمد حقانی علم وادب کا ذخیرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے باک اور نڈر صحافی تھے ۔ پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور تاریخ میں ایم اے کی…
Read Moreاردو میں نعت گوئی کی روایت … احمد عمار صدیقی
اردو میں نعت گوئی کی روایت معنی و مفہوم نعت کو عام طور پر دیگر اصنافِ سخن (مثلاً حمد، منقبت اور مدح وغیرہ) کے ہم معنی خیال کیا جاتا ہے۔ جہاں لغوی طور پر ان کے مطالب میں اختلاف پایا جاتا ہے، وہیں نعت کو (ماسوائے حمد) ان سب اصناف پر برتری بھی حاصل ہے۔ نعت کا مقصد نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعریف کے ذریعے سے اﷲ کی رضا حاصل کرنا اور اشاعتِ دین کا کام لینا ہے۔ جیسا کہ اِرشاد شاکر اعوان اپنی کتاب ’’عہدِ رسالت…
Read Moreحمدیہ قصیدہ ۔۔۔ قاضی حبیب الرحمٰن
زوروں پر ہے چشمۂ نور اپنا ظرف، اپنا مَقدور شمسِ حقیقت کے ہوتے سارے وہم و گماں کا فور! ایک، ہوا کی آہٹ پر ناچ اُٹھا شہرِ مَزموَر! کسی خیال کی لذّت میں رہتا ہے غم بھی مَسرور ایک خلا کی نِسبت سے دل ہے خلوت سے معمور جیسے ہے ہر چیز … یہاں اپنے نشے میں مخمور سو بھی کم کم کھلتا ہوں حسبِ اِسقعدادِ ظُہور خود سے چُھپتا پھِرتا ہوں (اپنے انور اک مفرور) پردے کا ہے سارا کھیل ورنہ۔ مَیں کیا، کون حضور! اک دریا کی لہریں…
Read Moreکرشن کمار طور کا گل گفتار … پروفیسر قیصر نجفی
غزل کو اردو شاعری کی آبرو بننے میں کتنا عرصہ لگا، یہ جاننے کے لئے سو پچاس سال کی نہیں صدیوں کی تقویم درکار ہے۔ کون جانتا تھا کہ عربی قصیدہ کی پیش گاہ، ایک روز جلوہ گاہ غزل کہلائے گی، اور پھر غزل ایک روز فارسی ادب کے دوش پر سوار برصغیر ہندو پاک میں وارد ہوگی اور یہاں کے اکثر باشندوں کے دل و دماغ دونوں کو مسخر کرلے گی۔ گزشتہ دنوں ہندوستان کے ایک قریہ¿ شاداب دھرم شالہ سے غزل کی خوشبو میں ڈوبا ہوا ہوا کا…
Read Moreدعا ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی
اے خُدا ، سب کے خُدا ، میرے خُدا مانگا ہے تیرے کرم کا واسطہ حوصلہ قائم ہو ، نیّت نیک ہو ہے طلب خیرِ عمل کا راستہ غیرتِ فکر و شرف حاصل رہے دل بھی ہو روشن ، حمیّت یافتہ وہ نہیں ڈرتا کسی بھی غیر سے جو خُدا کے خوف سے ہے کانپتا علم کے دریا بہیں چاروں طرف بحرِ دانش سے نہ ٹوٹے رابطہ کاروبارِ روزمرّہ ہو روا بدنما صورت نہ ہو آراستہ خار کوئی راہ میں حائل نہ ہو پُھول تک جانے کا پائوں حوصلہ ناروائی…
Read Moreمحمد حسین آزاد کی تصانیف
نیرنگِ خیال: (حصہ اول 1880، حصہ دوم 1923) مجموعہ نظمِ آزاد: 1896 ڈرامہ اکبر: (بعد از وفات1922) سخندانِ فارس: (حصہ اول 1887، حصہ دوم 1907) قصص ہند: (جلد دوم 1868) تذکرہ سنین الاسلام: (حصہ اول 1874، حصہ دوم 1876) دربارِ اکبری: 1898 آبِ حیات: (1879) نگارستانِ فارس: 1866 اور 1872 کے درمیان لکھی گئی (مرتبہ آغا محمد طاہر، 1922) سیرِ ایران (مرتبہ آغا محمد طاہر) دیوانِ ذوق: (اشاعت 1922) نصیحت کا کرن پھول: (1864میں لکھی گئی ، آغا محمد طاہر نے 1917میں شائع کیا فلسفہ الہیات مکتوباتِ آزاد (مرتبہ جالب…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ سہ سطریاں
پاکستان، جو ہم سب کی اُمّیدوں کا سرمایا ہے پاکستان، کہ جس سے ہم نے جو کچھ چاہا، پایا ہے ہم سے پوچھ رہا ہے، ہم نے اس کو کیا لوٹایا ہے؟ ٭ کبھی یہ غور تو کرناسبب ہے کیا اس کا؟ وفا کے ذکر پہ سب میری بات کرتے ہیں جفا کے ذکر پہ سب تیری بات کرتے ہیں ! ٭ شہر کے مرکزی چوراہے پر چاروں سگنل ہی سُرخ رہتے ہیں اور ٹریفِک بلاک رہتی ہے ! ٭ اب تو ایسا لگتا ہے جتنی سانسیں باقی ہیں اتنی…
Read More