دل کو، اے عشق! سوئے زلفِ سیہ فام نہ بھیج رہ زنوں میں تو مسافر کو سرِ شام نہ بھیج
Read MoreTag: اردو کی بہترین شاعری
خواب ۔۔۔۔۔ نوشی گیلانی
خواب ۔۔۔۔۔ سفر آسان لگتا تھا دلِ برباد!تجھ کو یہ سفر آسان لگتا تھا ادھر تو سوچتا تھا اور ادھر آنکھوں سے کوئی خواب چہرہ آن لگتا تھا مگر خوابوں میں رہنا خواب جیسی بے حقیقت خوشبوئے صحرا میں رہنا ہے کناروں سے جو ہو محروم اس دریا میں رہنا ہے دلِ برباد!ہم نے تو کہا تھا یہ سفر آسان لگتا ہے مگر آنکھیں بدن سے چھین لیتا ہے
Read Moreخرم آفاق ۔۔۔۔۔۔ ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اُس کے
ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اُس کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے اُس کے یہی نہ ہو کہ توجہ ہٹا لے وہ اپنی زیادہ دیر نہ بچنا نشانے سے اُس کے وہ مجھ سے تازہ محبت پہ راضی ہے، لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانے سے اُس کے وہ تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے اُس کے وہ چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں آفاق سرک رہا تھا مرا ہاتھ شانے سے اُس کے
Read Moreمرزا عبدالقادر بیدل
مت پوچھ دل کی باتیں، وہ دل کہاں ہے، ہم ہیں اس تخمِ بے نشاں کا حاصل کہاں ہے، ہم ہیں
Read Moreشاہ حاتم
مثالِ بحر موجیں مارتا ہے لیا ہے میں نے اس جگ سے کنارا
Read Moreبانی ۔۔۔۔ میں ایک بے برگ و بار منظر کمر برہنہ میں سنسناہٹ تمام یخ پوش اپنی آواز کا کفن ہوں
میں ایک بے برگ و بار منظر کمر برہنہ میں سنسناہٹ تمام یخ پوش اپنی آواز کا کفن ہوں محاذ سے لوٹتا ہوا نیم تن سپاہی میں اپنا ٹوٹا ہوا عقیدہ اب آپ اپنے لیے وطن ہوں میں جانتا تھا گھنے گھنے جنگلوں کے سینے میں دفن ہے جومتاعِ نم وہ کسی طرح بھی نہ لا سکوں گا میں پورے دن کی چتا جلا کر چلا ہوں گھر کو کہ جیسے سورج کے پیٹ میں ٹوٹتی ہوئی آخری کرن ہوں مرا کوئی خواب تھا جسےمیں سجا چکا ہوں بڑی نفاست…
Read Moreقلندر بخش جرات
ہم گلشنِ جہاں میں جوں آتشیں انار اک دم کی زندگی کا تماشا دکھا گئے
Read Moreشناور اسحاق ۔۔۔۔۔۔ زمیں سنولا گئی تھی، آسماں گہنا گیا تھا
زمیں سنولا گئی تھی، آسماں گہنا گیا تھا قلم گم ہو گیا تھا اور دہن پتھرا گیا تھا ہم اپنے منتشر سامان پر بیٹھے ہوئے تھے نئی ترتیب کا پیغام غالب آ گیا تھا بس اتنا یاد ہے ہم بالکونی میں کھڑے تھے اور ان دیکھی زمینوں سے بلاوا آ گیا تھا ہم اک بارہ دری کی سیڑھیوں پر سو گئے تھے اور اک دریا ہمارے خواب سے ٹکرا گیا تھا الجھ پڑتا تھا، اکثر بے سبب، بے وقت ہم سے نظرانداز رہنے سے بدن سٹھیا گیا تھا
Read Moreآپ ہمارا مسئلہ سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معین نظامی
آپ ہمارا مسئلہ سمجھیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب، خیال کے جنگل میں اک ہاتھی دانت کا تاج محل ہے صندل والی دیوی کا جو اندھی، گونگی، بہری بھی ہے دل کی بے حد گہری بھی ہے اُس کے گرد فصیلیں ہیں کچھ شیشے کی، کچھ سونے کی کچھ چاندی کی، کچھ ہیرے کی اُس جنگل کے اک ننگ دھڑنگ قبیلے والے جنسی وحشی اُس کو ’’ماتا‘‘ کہتے ہیں اور نیزوں، بھالوں، برچھیوں والے پہرے دار فصیلوں پر ہر وقت چوکنّے رہتے ہیں اُس جنگل میں جب گندم پکنے لگتی ہے تو پورے…
Read Moreانشاء اللہ خان
بندہ اُسے جب نظر پڑا ہے بولا ہے ’’ چل اُٹھ، کدھر پڑا ہے‘‘
Read More