صغیر احمد صغیر ۔۔۔ سکھائی جس کو دانائی

Read More

عاصم بخاری ۔۔۔ راحتیں ڈھونڈتا ہے دل وہ ہی

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ کہانی کچھ ایسے بنائی گئی ہے

Read More

اکمل حنیف ۔۔۔ تیرے جیسے ترے کمال کے دکھ

Read More

محمد افضال انجم ۔۔۔ دو غزلیں

Read More

عبدالحمید عدم

مفلسوں کو امیر کہتے ہیں آبِ سادہ کو شیر کہتے ہیں اے خدا! تیرے باخرد بندے بزدلی کو ضمیر کہتے ہیں

Read More

عزیز فیصل

کودے ہیں اُس کے صحن میں دو چار شیر دل ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے

Read More

ہاجر دہلوی ۔۔۔۔ آپ جب سامنے بیٹھے ہیں تو حال اچھا ہے  

سوچتا ہوں کبھی حوروں کا خیال اچھا ہے کبھی کہتا ہوں کہ اس بت کا جمال اچھا ہے مجھ سے کہتے ہیں کہو عشق میں حال اچھا ہے چھیڑ اچھی ہے یہ اندازِ سوال اچھا ہے نہ ادائیں تری اچھی نہ جمال اچھا ہے اصل میں چاہنے والے کا خیال اچھا ہے دیکھ کر شکل وہ آئینہ میں اپنی بولے کون کہتا ہے کہ حوروں کا جمال اچھا ہے جو ہنر کام نہ آئے تو ہنر پھر کیسا کام جو وقت پر آئے وہ کمال اچھا ہے وہ جوانی وہ…

Read More

نظر لکھنوی ۔۔۔ موسمِ گل تو یہ بس سال بہ سال اچھا ہے ۔ (دو غزلہ)  

فتنہ زا فکر ہر اک دل سے نکال اچھا ہے آئے گر حسنِ خیال اس کو سنبھال اچھا ہے میرے احساسِ خودی پر نہ کوئی زد آئے تو جو دے دے مجھے بے حرف سوال اچھا ہے آپ مانیں نہ برا گر تو کہوں اے ناصح صاحبِ قال سے تو صاحب حال اچھا ہے بے خیالی نہ رہے خام خیالی سے بچو دل میں بس جائے جو ان کا ہی خیال اچھا ہے تیرے رخ پر ہو مسرت تو مرا دل مسرور تیرے چہرے پہ نہ ہو گردِ ملال اچھا…

Read More

جلیل مانک پوری … نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے

نہ خوشی اچھی ہے‘ اے دل! نہ ملال اچھا ہے یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے دلِ بیتاب کو پہلو میں مچلتے کیا دیر سن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں اب کے پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے صحبت آئینے سے بچپن میں خدا خیر کرے وہ ابھی سے کہیں سمجھیں نہ جمال اچھا ہے مشتری دل کا یہ کہہ کہہ کے بنایا ان کو چیز انوکھی ہے‘ نئی جنس ہے…

Read More