تاثیر نقوی ۔۔۔ عشق کی پھر سے داستاں لکھوں

عشق کی پھر سے داستاں لکھوں ان بہاروں کو میں خزاں لکھوں قدرِ انساں بدل رہی ہے یہاں کیوں زمیں کو میں آسماں لکھوں چھا گئے ہیں جہاں پہ سناٹے کس طرح حالِ بے اماں لکھوں ظلم اور جبر ہر طرف ہے یہاں کیسے انساں کی داستاں لکھوں ہو گیا ہے لہو لہو گلشن زندگی کو میں خونچکاں لکھوں قتل ارمان کا ہوا ہے جہاں اُس کو میں کیسے گُلستاں لکھوں کاٹے کٹتی نہیں یہ تنہائی ہجر کو کس کی میں زباں لکھوں میرا وجدان جگمگا اُٹھے جب مکاں کو…

Read More

علی اصغر عباس ۔۔۔ قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے

قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے اور آسماں کی حاشیہ آرا زمین ہے دستِ کرشمہ ساز کے جو ہاتھ میں ہے گیند خشکی تری کا گویا کہ گولا زمین ہے عرشِ بریں کہ تخت سا بہتا تھا آب پر پھر اوج سے فراز نے بولا زمین ہے نقش و نگار کھینچ کے لوحِ دوام پر خاکہ سا کیسا خاک بنایا زمین ہے مٹی جو اپنی خاک اڑانے لگی تو پھر گردوغبارِ طور نے جانا زمین ہے بُرجوں کا کھیل جاری و ساری ہے اک طرف ردوبدل میں گھومتا چرخا زمین…

Read More

اعجاز دانش ۔۔۔ لباسِ تیرگی پہنا ہوا ہے

لباسِ تیرگی پہنا ہوا ہے ہتھیلی پر دیا رکھا ہوا ہے قیامت ہے کسی کو بھول جانا مگر یہ فیصلہ اچھا ہوا ہے نہیں مجنوں کا اب کوئی مقلد مزاجِ عاشقاں بدلا ہوا ہے مسافر لوٹ کر گھر آگئے ہیں ہر اک چہرہ مگر اُترا ہوا ہے کسی سہمے ہوئے بچے کی صورت پرندہ پیڑ سے لپٹا ہوا ہے ترا غم بھی مجھے لگتا ہے جیسے کوئی مہمان گھر آیا ہوا ہے مری تشنہ لبی دھوکہ نہ کھائے وہ بادل ہے مگر برسا ہوا ہے ہمارا دل بھی اب اعجاز…

Read More

میتھیو محسن ۔۔۔ کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی

کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی تشنگی پھر بھی کم نہیں ہوتی اتنا ارزاں لہو ہے آدم کا کوئی بھی آنکھ نم نہیں ہوتی راہِ ہستی بڑی کٹھن ہی سہی چاہ جینے کی کم نہیں ہوتی میں ہی عادی سا ہو گیا یا پھر بے رُخی کچھ ستم نہیں ہوتی سبھی کچھ ہے روا سیاست میں اس میں کوئی قسم نہیں ہوتی کون سی بات ہے مری محسن جو کسی جا رقم نہیں ہوتی

Read More

شاہد فرید ۔۔۔ کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے

کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے جِس اُور بڑھا ہوں میں ، وہ در کھلتا گیا ہے یوں گھورتے ہیں مجھ کو ترے شہر کے باسی جیسے کہ محبت نہیں کی ، جرم کیا ہے میں جال میں الجھا ہوا تھا اور اچانک صیاد مرے پاؤں میں خود آن گرا ہے یہ عشق ‘ محبت تو ہے ایمان کا حصہ شک ذہن میں در آیا ، مرا جرم بڑا ہے آہٹ کوئی محسوس ہوئی ہے سرِ دہلیز دستک کی ضرورت نہیں ‘ دروازہ کُھلا ہے میں کچھ بھی…

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ بہار آنے کا مژدہ ہمیں سنا دیا ہے

بہار آنے کا مژدہ ہمیں سنا دیا ہے شجر نے آخری پتہ بھی کل گرا دیا ہے اب اتنے اڑتے ہو ئے جگنوؤں کا کیا ہو علاج دیا تو بس میں تھا اپنے، دیا بجھا دیا ہے اسے بتا دیا ہے، اب وہ اپنی حد میں رہے اور اس کی حد ہے کہاں تک ، اسے بتا دیا ہے قدم قدم پہ مجھے روکتا تھا، ٹوکتا تھا ضمیر جاگا ہوا تھا اسے سلا دیا ہے نکل نہ پائے گا اک جال سے نکل کر بھی اک اور جال ہے جو…

Read More

زین علی رضوی ۔۔۔ ہم نے ایک کاغذ پر لکھ دیا خدا حافظ

ہم نے ایک کاغذ پر لکھ دیا خدا حافظ دوستوں کے ہاتھوں میں ہے دیا ‘ خُدا حافظ وحشتوں سے اب جس کی ڈر رہے ہیں وحشی بھی ایسے دشت کی جانب میں چلا ‘ خُدا حافظ مجھ کو جس کا مدت سے انتظار تھا لوگو! قافلہ … مجھے لینے… آگیا ‘ خُدا حافظ میں نے جس کو برسوں سے اپنے دل میں پالا تھا غم وہی… مرے دل کو ‘ کھا گیا‘ خُدا حافظ وہ کہ جس کے آنے سے پھول کھلنے لگتے تھے زین! موسمِ خوشبو ‘ وہ…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ دو غزلیں

اوجِ فلک پہ میرا ستارا نہ تھا کبھی وہ اِس لیے کہ بخت سنوارا نہ تھا کبھی خُوددار اِس قدر تھا کہ ڈُوبی ہزار ناؤ ساحل پہ دوستوں کو پُکارا نہ تھا کبھی جب تک وہ بے وفا مرا بازو بنا رہا میں تو کسی محاذ پہ ہارا نہ تھا کبھی ہم اُس کو بُھول جاتے اُسی شخص کی طرح اِس دِل پہ اختیار ہمارا نہ تھا کبھی کچھ اِس طرح چلی ہیں زمانے کی آندھیاں لگتا ہے اب وہ شخص بھی پیارا نہ تھا کبھی قائل مجھے قبول ہی…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے

نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے گماں سرشت زمانہ ہی سارا ایسا ہے میں جانتا ہوں کہ ہم تم ہیں اک فسانۂ خواب ہمارے نام یہی استعارہ ایسا ہے نہ کیوں ہو جلوۂ حیرت مری نگاہ کا رنگ کئی دنوں سے اُفق کا کنارہ ایسا ہے ارادے ٹوٹتے جاتے ہیں ایک اک کرکے کہ اب کے برجِ فلک میں ستارہ ایسا ہے چلو نکل چلیں خوشبو رسیدہ لمحوں میں سحر کا دامنِ گل پارہ پارہ ایسا ہے وجودِ زندہ ہے یہ دل، کوئی فسانہ نہیں یہ اور بات مقدر…

Read More