ذکر اچھا نہیں برائی کا تذکرہ تم کرو بھلائی کا چار دن کے بخاری جیون میں فائدہ کیا کسی ، لڑائی کا اس جوانی کے دور میں اکثر شوق ہوتا ہے خود نمائی کا اپنی سنتا تو کوئی کیا سنتا تیری جانب تھا رخ خدائی کا نوکری بھی ہے نوکری لیکن لطف اپنا ہے اک پڑھائی کا وقت نے بادشہ بنایا ہے پاس کچھ تو کرو خدائی کا جرم عاصم ہمارا تھا اتنا شکوہ ہم سے ہوا نہ بھائی کا
Read MoreTag: عاصم
لیاقت علی عاصم… کچھ تو تسکین نارسائی دے
مناجات ۔۔۔ لیاقت علی عاصم
مناجات ۔۔۔۔ دیارِ تشنہ کو ابرِ شمال دے مولا سلگتی آنکھ میں آنسو ہی ڈال دے مولا مری اُداس نظر مطمئن نہیں ہے ابھی فضا میں اور ستارے اُچھال دے مولا گذشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی گذشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا وہ آ ملے مرا کردار ختم ہونے تک یہ اتفاق کہانی میں ڈال دے مولا لپیٹ دوں نہ کہیں میں یہ بسترِ امکاں اب اس قدر بھی نہ کربِ محال دے مولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Read Moreکیا تھا استخارہ، سو گیا تھا ۔۔۔ لیاقت علی عاصم
کیا تھا استخارہ، سو گیا تھا کنارے پر مَیں پیاسا سو گیا تھا مری آنکھوں میں تھا وہ خوابِ راحت مرے قدموں میں رستا سو گیا تھا چٹانوں پر گزاری رات مَیں نے مری کشتی میں دریا سو گیا تھا تھکن کس کی تھی، کس کو نیند آئی مرے سینے پہ صحرا سو گیا تھا مَیں اُس دن فرش پر سویا سکوں سے مرے بستر پہ بیٹا سو گیا تھا یہ بستی رات بھر جاگی تھی اُس دن کہانی کہنے والا سو گیا تھا سبھی کے چاند تھے بے دار…
Read More