شاہ حاتم

مثالِ بحر موجیں مارتا ہے لیا ہے میں نے اس جگ سے کنارا

Read More

بانی ۔۔۔۔ میں ایک بے برگ و بار منظر کمر برہنہ میں سنسناہٹ تمام یخ پوش اپنی آواز کا کفن ہوں

میں ایک بے برگ و بار منظر کمر برہنہ میں سنسناہٹ تمام یخ پوش اپنی آواز کا کفن ہوں محاذ سے لوٹتا ہوا نیم تن سپاہی میں اپنا ٹوٹا ہوا عقیدہ اب آپ اپنے لیے وطن ہوں میں جانتا تھا گھنے گھنے جنگلوں کے سینے میں دفن ہے جومتاعِ نم وہ کسی طرح بھی نہ لا سکوں گا میں پورے دن کی چتا جلا کر چلا ہوں گھر کو کہ جیسے سورج کے پیٹ میں ٹوٹتی ہوئی آخری کرن ہوں مرا کوئی خواب تھا جسےمیں سجا چکا ہوں بڑی نفاست…

Read More

قلندر بخش جرات

ہم گلشنِ جہاں میں جوں آتشیں انار اک دم کی زندگی کا تماشا دکھا گئے

Read More

شناور اسحاق ۔۔۔۔۔۔ زمیں سنولا گئی تھی، آسماں گہنا گیا تھا

زمیں سنولا گئی تھی، آسماں گہنا گیا تھا قلم گم ہو گیا تھا اور دہن پتھرا گیا تھا ہم اپنے منتشر سامان پر بیٹھے ہوئے تھے نئی ترتیب کا پیغام غالب آ گیا تھا بس اتنا یاد ہے ہم بالکونی میں کھڑے تھے اور ان دیکھی زمینوں سے بلاوا آ گیا تھا ہم اک بارہ دری کی سیڑھیوں پر سو گئے تھے اور اک دریا ہمارے خواب سے ٹکرا گیا تھا الجھ پڑتا تھا، اکثر بے سبب، بے وقت ہم سے نظرانداز رہنے سے بدن سٹھیا گیا تھا

Read More

آپ ہمارا مسئلہ سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معین نظامی

آپ ہمارا مسئلہ سمجھیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب، خیال کے جنگل میں اک ہاتھی دانت کا تاج محل ہے صندل والی دیوی کا جو اندھی، گونگی، بہری بھی ہے دل کی بے حد گہری بھی ہے اُس کے گرد فصیلیں ہیں کچھ شیشے کی، کچھ سونے کی کچھ چاندی کی، کچھ ہیرے کی اُس جنگل کے اک ننگ دھڑنگ قبیلے والے جنسی وحشی اُس کو ’’ماتا‘‘ کہتے ہیں اور نیزوں، بھالوں، برچھیوں والے پہرے دار فصیلوں پر ہر وقت چوکنّے رہتے ہیں اُس جنگل میں جب گندم پکنے لگتی ہے تو پورے…

Read More

انشاء اللہ خان

بندہ اُسے جب نظر پڑا ہے بولا ہے ’’ چل اُٹھ، کدھر پڑا ہے‘‘

Read More

نظیر اکبر آبادی ۔۔۔۔۔ ہم اشکِ غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے

ہم اشکِ غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے مژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے رہیں وہ شخص جو بزمِ جہاں کی رونق ہیں ہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے مجھے ہے نزع وہ آتا ہے دیکھنے اب آہ کہ اُس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے بقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغِ مزار ہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ رہے ملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم بہ نوکِ گیاہ مثالِ قطرۂ شبنم رہے…

Read More

پناہ کہیں ۔۔۔۔ بانی

پناہ کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شب کی آوارہ ہوا ایک ڈائن کی طرح! آسمانوں سے چرا لائی ہے گم گشتہ صدائیں عرصۂ آفاق کا تاریک شور اجنبی دیسوں کے پیڑوں سے اُڑا لائی ہے پتے سسکیاں بھرتے ہوئے تھک چکی ہے اور باقی شب سکوں سے کاٹنے کے واسطے چاہتی ہے اپنے شانوں سے اُتارے زہر آلودہ صدائوں، چیختے پتّوں کا بوجھ! ڈھونڈتی ہے کوئی دروازہ کھلا کوئی کھڑکی ادھ کھلی کوئی بستر جو کسی کے واسطے خالی پڑا ہو! …………………… ( حرف معتبر)

Read More

ظفر اقبال

چمک اٹھی ہے شبِ تار تیرے ہونے سے یہ روشنی ہے لگاتار تیرے ہونے سے

Read More

اظہر فراغ ۔۔۔۔۔ کچھ تو آواز سے شک پڑتا ہے

کچھ تو آواز سے شک پڑتا ہے پھر وہ کنگن بھی کھنک پڑتا ہے پہلے کرتا ہے طلب پہلی نشست پھر اسی بس سے لٹک پڑتا ہے کیسے ساحل سے سمندر دیکھوں میرے زخموں پہ نمک پڑتا ہے راز دار ایک کنواں تھا اپنا آج کل وہ بھی چھلک پڑتا ہے چھوٹے چھوٹے سے ہیں رشتے لیکن واسطہ قبر تلک پڑتا ہے اشک جیسے مرا ہمسایہ ہو وقت بے وقت ٹپک پڑتا ہے اس کے سائے پہ نہ رہنا، مرے دوست! یہ شجر بیچ سڑک پڑتا ہے

Read More