اُس تیسرے کا روگ ……. شاہین عباس

اُس تیسرے کا روگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلوس ‘ دو کے درمیاں جلوس … ماتمی جلوس! ایک تو اَزل اَبد ہیں دو کہ جب کبھی بھی محرمانہ سرکشی میں ایک دوسرے کو آنکھ مار کر کھنک اتار کر دہن میں سہو کی ذرا جو کاج کف کی بے حسی پہ ہاتھ جا پڑا بٹن اِدھر اُدھر ہوئے گلے کو کاٹتی ہوئی زِپیں نشانِ لا نشان سے سرک گئیں تو بے لحاظ اِک ہجوم اُمنڈ پڑا : نہیں‘ ابھی سمے نہیں یہ بیچ بیچ کے بگل یہ درمیاں کا    جَل ‘ یہ…

Read More

ظفر اقبال

فضا میں اور ہی تصویر بن رہی تھی کوئی مجھے اک اور تماشا دکھائی دینے لگا

Read More

ایمبو لینس کے اندر سے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنبرین صلاح الدین

ایمبو لینس کے اندر سے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیوں جیسے پل کانوں میں سر سر کرتا ہے وقت کا مایہ جل گُونجے ہر آواز ایک چنگھاڑ طواف کرے اور کھولے سارے راز پیچھے رہ گیا گھر بیٹھی ہوں میں سانسیں روکے گود میں تیرا سر! رستے ہٹتے جائیں پہییے چیخیں گرم سڑک پر سگنل کھُلتے جائیں کتنی دُور نگر سو سو بار اِک پل میں سوچوں کتنا اور سفر! اندر سب گُم صُم کھڑکی سے باہر کی دُنیا اپنی دُھن میں گُم لفظ نہیں بن پائیں ہاتھوں پیروں میں بے چینی سانسیں…

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔۔۔۔ کسی گماں کسی امکان پر تو لکھوں گا

کسی گماں کسی امکان پر تو لکھوں گا میں رحلِ شب پہ بھی ناِم سحر تو لکھوں گا فگار انگلیاں ہو یا پھٹی ہوئی آنکھیں میں لکھنے والا ہوں تازہ خبر تو لکھوں گا کہانیوں سے میں آنکھیں چراؤں گا کب تک؟ چلو زیادہ نہیں ، مختصر تو لکھوں گا سلگ رہاہے تہ ِ فکر جو خیال اسے میں آگ کر نہیں پایا شرر تو لکھوں گا جو میرے قلب سے ابھرا ، نظر میں ٹھہرا ہے یہ ماہتاب کسی چرخ پر تو لکھوں گا ابھی تو دشتِ نظر میں…

Read More

نجیب احمد

وہ چاندنی، وہ سمندر، وہ رخ بدلتی ہوا وہ شور تھا کہ تلاطم سے ڈر گئے ہم بھی

Read More

کون روک سکتا ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔ نوشی گیلانی

کون روک سکتا ہے! …………………… لاکھ ضبطِ خواہش کے بے شمار دعوے ہوں اس کو بھول جانے کے بے پنہ ارادے ہوں اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا فیصلہ سنانے کو کتنے لفظ سوچے ہوں دل کو اس کی آہٹ پر برملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے پھر وفا کے صحرا میں اس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی خوشبوئوں کو چھونے کی جستجو میں رہنے سے روح تک پگھلنے سے ننگے پائوں چلنے سے کون روک سکتا ہے آنسووں کی بارش میں چاہے دل…

Read More

ڈاکٹر اسحاق وردگ ۔۔۔۔۔۔ مرے لیے تو یہ بےکار ہونے والا ہے

مرے لیے تو یہ بےکار ہونے والا ہے یہ دل کہ عشق سے بے زار ہونے والا ہے میں اُس سے خواب کے رستے پہ ملنے آیا ہوں مگر وہ نیند سے بیدار ہونے والا ہے سناہے یوسف ِ ثانی کبھی نہیں آیا سنا ہے ختم وہ بازار ہونے والا ہے میں جس کے نام کے اک دائرے کا قیدی ہوں خبر نہ تھی کہ وہ پَرکار ہونے والا ہے وہ جس کے ہاتھ سے قصے نے موت پائی ہے سناہے صاحب ِ کردار ہونے والا ہے جو فیصلہ سر…

Read More

عابد سیال

رہا نہ اک ذرا تسکین کا یہ پہلو بھی زمانہ درپئے آزار تھا اور اب تو بھی!

Read More

خرم آفاق ۔۔۔۔۔ کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا

کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا کچھ دن میں سامنے رہا، کچھ دن نہیں رہا پہلے یہ ربط میری ضرورت بناؤ گے اور پھر کہو گے رابطہ ممکن نہیں رہا ہم ایک واردات سے تھوڑے ہی دور ہیں وہ ہاتھ لگ گیا ہے مگر چھن نہیں رہا اسکول کے دنوں سے مجھے جانتے ہو تم میں آج تک سوال کیے بن نہیں رہا اک رات اس نے چند ستارے بجھا دیے اُس کو لگا تھا کوئی انھیں گن نہیں رہا

Read More

ڈھونگ ۔۔۔۔۔۔ کاشف رحمان

ڈھونگ ۔۔۔۔۔۔ آج میں یہ دیکھ سکتا ہُوں کہ گُل مُجھ سا بننا چاہتے ہیں! گُل، سنہرے اور درخشاں وحشتِ فرطِ جنوں میں رقص کرتے، جھومتے! بے خودی کی موج میں دستِ صبا کو چومتے! گُل، خمیدہ سر،ملائم!سرکش و مغرور گُل! اختیار و جبر کے مدّ و جزر سے چُور گُل! گُل نڈر، بے خوف، پر ہارے ہُوئے، بے بس و لرزش بجاں گُل، ہجر کے مارے ہُوئے! گُل، تپاں لیکن سدا محوِ دُعا اپنے پتے بازوؤں کی مثل پھیلائے ہوئے اپنی اپنی ذات میں کھوئے ہُوئے بے تقاضا، بے…

Read More