تھی اپنی اک نگاہ کہ جس سے ہلاک تھے سب واقعے ہمارے لیے دردناک تھے اندازِ گفتگو تو بڑے پر تپاک تھے اندر سے قربِ سرد سے دونوں ہلاک تھے ٹوٹا عجب طرح سے طلسمِ سفر کہ جب منظر ہمارے چار طرف ہولناک تھے اب ہو کوئی چبھن تو محبّت سمجھ اسے وہ ربط خود ہی مٹ گئے جو غم سے پاک تھے ہم جسم سے ہٹا نہ سکے کاہلی کی برف جس کی تہوں میں خواب بڑے تابناک تھے
Read MoreTag: best urdu poetry
یونس خیال
ہمارے دور کے حالات جانچنے والے قدم قدم پہ لکھا اضطراب دیکھیں گے
Read Moreایک آسمانی لمحہ ….. معین نظامی
ایک آسمانی لمحہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج تو آسماں اس قدر صاف ہے جس قدر میرے بچپن کی صبحوں میں ہوتا تھا اور بیچ کے تیس برسوں میں مَیں نے اسے اتنا شفاف دیکھا نہیں بیچ کے تیس برسوں میں لگتا ہے دنیا میں صبحیں نہیں تھیں زمیں پر مرے جسم و جاں کی کثافت تھی اور آسماں جیسے تھا ہی نہیں آج تو آسماں اپنی بھرپور نیلاہٹوں کی معیت میں موجود ہے آسماں صاف ہے اور حدِ نظر تک کہیں کوئی بادل کا ٹکڑا نہیں ہے زمیں پر مرے جسم و…
Read Moreجہاں بھی ہم چلے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔ ممتاز اطہر
جہاں بھی ہم چلے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں بھی ہم چلے جائیں کوئی دجلہ ،کوئی راوی وریدوں میں ہماری سانس لیتا ہے چراغوں سے بھرے بجرے ہمارے ساتھ بہتے ہیں کناروں پر بچھے ابرق میں تاروں کا پڑائو اور لہو میں خواہشوں کا اک الائو جاگتا ہے نئی دنیائوں کا کوئی بہائو جاگتا ہے جہاں بھی ہم چلے جائیں کوئی جنگل بدن میں لہلہاتا ہے کوئی خوشبو نفس میں بھرنے لگتی ہے ہَوا سرگوشیوں میں ناشناسا نام لیتی اور کسی بیتے زمانے کی کتھا تحریر کرتی ہے پرندے اک پرانے شہر…
Read Moreافضل خان ۔۔۔۔۔۔ جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں
جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں کون سی ذات کے منکر ہیں اگر ہے ہی نہیں پھر جو اس شہر میں آنا ہو تو ملنا مجھ سے گھر کا آسان پتہ یہ ہے کہ گھر ہے ہی نہیں بے ارادہ ہی ترے پاس چلا آیا ہوں کام کچھ ہو تو کہوں تجھ سے،مگر ہے ہی نہیں اس لیے ہم کو نہیں خواہشِ حوران ِبہشت ایک چہرہ جو اِدھر ہے وہ اُدھر ہے ہی نہیں لفظ سے لفظ مجھے جوڑنا پڑتا ہے میاں میری قسمت میں کوئی…
Read Moreنجیب احمد
بچپن کے واقعات سناتا ہے ان دنوں مجھ کو نجیب خوش نظر آتا ہے ان دنوں
Read Moreنظم میں خالی جگہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہین عباس
نظم میں خالی جگہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہم نہیں بھر سکے ہیں شکم شاعری کی قسم شاعری کا شکم! ہم نہیں کرسکے حرف اور حرف کو خطّ ِمابین کے ماسوا سے بہم نظم کو ہم خدا سے ملانے چلے اپنے ڈھب کی تجلی میں مصرع اٹھاتے ہوئے اپنی دھج کے یہ سکتے ‘ یہ جھٹکے نگارندہ متن و معانی کے مٹی کے‘ پانی کے سب حاشیے حلق سے تا ورق سالمیت ادق غایت و مد ّعا شہریت کی قضا آدمی کی قسم آدمی کا یہ موجود اور آدمی کے خدا کا…
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ ہوئے ہجرت پہ مائل پھر مکیں آہستہ آہستہ
ہوئے ہجرت پہ مائل پھر مکیں آہستہ آہستہ بہت سی خواہشیں دِل سے گئیں آہستہ آہستہ ہَوا اس سانحے میں غیر جانبدار نکلی، سو دھوئیں کی ایک دو موجیں اٹھیں آہستہ آہستہ مجھے ماہِ منور نے بہت اْلجھائے رکھا، اور سمندر کھا گئے میری زمیں آہستہ آہستہ مری آنکھیں گماں کے سِحر میں ہی تھیں مگر دل میں نمو پاتا گیا سچا یقیں آہستہ آہستہ بڑی تیزی سے چلتا آ رہا تھا اپنی جانب میں کہ دل سے اک صدا آئی ’’ نہیں!آہستہ آہستہ‘‘ میں اب آئندہ کے پھیلاؤ کو…
Read Moreخوف ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر یونس خیال
خوف ۔۔۔۔۔ شہر کی دیوار پر لکھے گئے پھر نئی ترتیب سے کالے حروف اس سے پہلے بھی نہ جانے اس طرح کی کالی تحریروں کو پڑھ کر کتنے انسانوں سے بینائی چِھنی ہے اب بھی ایسے ہی کئی خدشوں کی چیخیں مرے اندر سنائی دے رہی ہیں
Read Moreشناور اسحاق ۔۔۔۔۔۔۔ وجود کی خبر نہیں، عدم سے آشنا نہیں
وجود کی خبر نہیں، عدم سے آشنا نہیں ہمارے پاس کچھ نہیں، ہمارے پاس کیا نہیں اہانتوں کے گھاؤ تھے، گذشتگاں کے داغ تھے کبھی کے مر چکے ہیں ہم، مگر یہ واقعہ نہیں وجود کی جڑوں میں گھر بنا لیا تھا خوف نے ہم اُس کی نذر ہو گئے جو حادثہ ہوا نہیں یہ علتی بہ ذاتِ خود ہے فتنہ ساز، دیکھ لو جہاں جہاں بشر نہیں، وہاں وہاں خدا نہیں نظر، شعور، حسن، وقت۔۔۔ کیا بہم نہیں یہاں مسافروں کی چھوڑیے، یہ راستا برا نہیں
Read More