ظہور نظر

وہ درد کہ آرام سا تھا، اور مجھے دے ہر وقت تڑپنے کی دعا، اور مجھے دے

Read More

مژدم خان ۔۔۔۔۔۔ چہار سمتی تغیر سے کوئی کیسے بچے

چہار سمتی تغیر سے کوئی کیسے بچے جو بچتے ہیں وہ بتاتے نہیں کہ ایسے بچے گزشتہ رات کچھ آنکھیں زمین پر اُتریں اترتے ہی کہا لاؤ انھیں جو مے سے بچے وہ اپنی چال میں آتا نہیں اگر آئے تو ایسے جیسے گلوکار اپنی لے سے بچے ہمارا مسئلہ توحید کی علامت ہے ہم ایک وار کریں گے تُو اس سے جیسے بچے ہماری خودکشی قاتل کا رزق لے ڈوبی ہماری موت سے دشمن کے چار پیسے بچے اسے کہو کہ عدم کچھ نہیں خدا کے سوا نہیں میں…

Read More

نظام رام پوری

گر دوستو! تم نے اُسے دیکھا نہیں ہوتا کہنے کا تمھارے مجھے شکوہ نہیں ہوتا

Read More

داستان گو ۔۔۔۔۔۔ یونس متین

داستان گو ۔۔۔۔۔۔۔۔ آگ جلتی رہی گلخنِ وقت میں رات بھر آگ جلتی رہی اور حلقہ نہ ٹوٹا زمستاں کی بیوہ ہوائیں اندھیروں کی لاشوں سے دست و گریباں ٹھٹھرتی ہوئی سرد گائوں کی گلیاں خموشی کے بستر پہ سوئی ہوئی کہر کی بوڑھیاں اور چوپال میں ہر کوئی منتظر اور بے چین تھا کہ ادھوری کہانی سے پردہ اٹھے داستاں گو نے سر کو اٹھایا خموشی کو توڑا تثاقل ہٹایا سلگتی تِڑکتی ہوئی لکڑیوں کو نظر بھر کے دیکھا تو گویا ہُوا۔۔۔ کہ پھر ایسے ہوا اُس جواں سال…

Read More

اماوس ……. ایوب خاور

اماوس ۔۔۔۔۔ رقص کرنا تھا سمندر نے مگر یہ چاند ! اس کو کیا ہوا۔۔۔۔ اس چودھویں کے چاند کو کس کی نظر کے کالے بادل گھیر کر اپنی گپھا میں لے گئے اے رات! آنکھیں کھول اک لمحے کو دیکھ اپنے ساحل سے پرے بوڑھا سمندر رقص کے اِک زاویے میں منجمد ہے منتظر ہے چاند کو اپنی گپھا میں سے نکال تاروں سے کہہ بادلوں کی اوٹ سے نکلیں ذرا سی دیر کو اپنی جھلمل کی …تکت، ترکٹ ،تہ ،دھا،تک، سے کتھک کی لے دکھائیں آنکھ بھر اس…

Read More

میرزا جواں بخت جہاں دار شاہ

دیکھ تیرا جمال کچھ کا کچھ دل میں آیا خیال کچھ کا کچھ

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔۔۔۔ خاکِ زمیں ہے دیکھ لو پہنا ہوا وجود

خاکِ زمیں ہے دیکھ لو پہنا ہوا وجود بوئے گُل و گلاب سے مہکا ہوا وجود ہم اپنی خواہشات مجسّم نہ کر سکے اب تک ہے جیسے چاک پہ رکھا ہوا وجود کس کس سے روٹھی پیار محبت میں فصلِ گُل کس کس کا چاہتوں میں ہے صحرا ہوا وجود کس کس کے واسطے وہ علامت بقا کی ہے ہنگامِ صبح و شام میں مٹتا ہوا وجود زندہ ہے آدمی تو عجب ڈھنگ سے یہاں بکھری ہوئی ہیں سوچیں تو سمٹا ہوا وجود اب تو یہ خواہشات کی گٹھڑی اُٹھا…

Read More

باقی احمد پوری ۔۔۔۔۔ محبت نے ہمارے درمیاں کچھ خواب رکھے ہیں

محبت نے ہمارے درمیاں کچھ خواب رکھے ہیں اور ان خوابوں کےاندر بھی نہاں کچھ خواب رکھے ہیں تم اپنی خواب گاہوں میں کسی دن غور سے دیکھو وہاں تعبیر بھی ہو گی جہاں کچھ خواب رکھے ہیں ستم گر آندھیوں کو کون یہ جا کر بتاتا ہے کہ گلشن میں برائے آشیاں کچھ خواب رکھے ہیں پڑائو ختم ہوتے ہی یہ منظر آنکھ نے دیکھا پسِ گرد و غبار ِکارواں کچھ خواب رکھے ہیں نہ کاغذ پر اُترتے ہیں نہ یہ رنگوں میں ڈھلتے ہیں مری آنکھوں میں ایسے…

Read More

میر حسن

وصل ہوتا ہے جن کو دنیا میں یا رب ! ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں

Read More

ایک دن گم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ خالد احمد

ایک دن گم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں! تمھیں تو یاد ہوگا تم نے اُس دن منہ اندھیرے نیند کی چادر ہٹا کر بوسہ ماتھے پر سجا کر ہاتھ یوں بالوں میں پھیرے دوڑ اُٹھے رگ رگ سویرے گرم بستر سے اُٹھایا مجھ کو نہلایا، دُھلایا زیبِ تن کپڑے نئے تھے زیبِ پا جوتے نئے تھے ماں! تمھیں تو یاد ہوگا مدرسے کی سمت جاتا کاندھے پر بستہ جھلاتا وہ کھلنڈرا سا دُلارا ایک ننھا سا ستارا اپنے ملبے پر کھڑا ہے چار جانب دیکھتا ہے کیا کہوں ؟ کیا…

Read More