خالد احمد ۔۔۔ اسی غم کی اوٹ ملا تھا وہ مجھے پہلی بار یہیں کہیں

اسی غم کی اوٹ ملا تھا وہ مجھے پہلی بار یہیں کہیں کسی چشمِ تر میں تلاش کر اُسے میرے یار یہیں کہیں یہ جو سمتِ عشق میں جھیل ہے ، یہ جو سمتِ غم میں پہاڑ ہیں مری راہ دیکھ رہا نہ ہو مرا شہ سوار یہیں کہیں مرے دل کے باب نہ کھولنا، مرے جان و تن نہ ٹٹولنا کسی زاویے میں پڑ ا نہ ہو، وہ بتِ نگار یہیں کہیں گلِ شام! اے گلِ سُرمگیں ! وہ خدنگِ ربطِ گُل آفریں مری جان دیکھ ہوا نہ ہو،…

Read More

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

داغِ غمِ فراق مٹایا نہ جائے گا جلتا ہوا چراغ بجھایا نہ جائے گا

Read More

چکبست لکھنوی

نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں وطن کی آبرو اہلِ وطن برباد کرتے ہیں

Read More

آرزو لکھنوی

رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی سینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی

Read More

ریاض خیر آبادی

میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی میں بھی اچھا مری قسمت بھی نہایت اچھی

Read More

شاد عظیم آبادی

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی تأسف…

Read More

قاضی حبیب الرحمٰن

عجب زمانوں کا درپیش ہے سفر کوئی کہ تھک کے بیٹھ گئی راہ میں تمنا بھی

Read More

شاہین عباس ۔۔۔   اے تصویر انسان​

اے تصویر انسان​ (۱) کوئی کوئی دن سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں کبھی کبھی کا جھونکا سا دن کئی کئی دن چلتا ہے سِن اندرسِن سال اندرسال قرنوں اندر قرن الٹتا قرن پلٹتا بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا جسم ہیولوں سا اک چولا دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ، تو جیسے دنیا کے نقشے پر گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے دن جیسے…

Read More

شمشیر حیدر ۔۔۔ شوقِ جنوں میں طے یہ مراحل نہیں ہوئے

شوقِ جنوں میں طے یہ مراحل نہیں ہوئے جیسے بھی خواب تھے ، مری منزل نہیں ہوئے تجھ کو نہیں ملے ہیں تو اس پر گلہ نہ کر ہم اپنے آپ کو بھی تو حاصل نہیں ہوئے اک عمر تجھ سے بحث میں اپنی گزر گئی پھر بھی تو حل ہمارے مسائل نہیں ہوئے گھٹنوں کے بَل بھی ٹھیک سے چلنا نہ آ سکا ہم لوگ تو ابھی کسی قابل نہیں ہوئے تیرے سوا تو جتنے بھی چہرے تھے سب کے سب آنکھوں نے دیکھے ، خون میں شامل نہیں…

Read More