غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں ہم دُکھی لوگ کسے اپنا کہیں سوچ میں ہیں جسم اور روح کے مابین کسک کس کی ہے ذہنِ ذی فہم کی کتنی ہی تہیں سوچ میں ہیں کوئی آواز‘ نہ پتھر‘ نہ تبسم‘ نہ خلوص اب ترے شہر میں ہم کیسے رہیں سوچ میں ہیں کیسا اخلاص کہ ہیں مصلحت اندیش تمام ہم بھی کیوں ان کی طرح خوش نہ رہیں‘ سوچ میں ہیں شہر بے خواب میں کب تک تن تنہا احمدؔ برگِ آوارہ کی مانند رہیں‘ سوچ میں…
Read MoreTag: syed al e ahmad’s poems
سید آلِ احمد
کون صحرا میں دے تجھے آواز کون کھولے طلب کا دروازہ
Read Moreسید آل احمد
دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے تیرا پیار بھی کم نکلا اندازے سے
Read Moreسید آل احمد
تم جو میری بات سنے بن چل دیتے رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے
Read Moreسید آل احمد
رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے
Read Moreسید آلِ احمد
کس نے کہا تھا کھیل رچاؤ خلا میں تم کیوں ہاتھ مل رہے ہو اگر کٹ گئی پتنگ
Read Moreسید آل احمد
آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے
Read Moreسید آل احمد
تیرا دُکھ تو ایک لڑی تھا خوشیوں کی تار الگ یہ کس نے کیا شیرازے سے
Read Moreسید آل احمد
کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے
Read Moreسید آل احمد
مجھ سے دریافت نئی صبح کا سورج ہوگا ریگِ صحرا کے اندھیروں میں مجھے رول کے دیکھ
Read More