پانی سمندروں میں نہیں، کیا گھٹا اٹھے کوئی خدا شناس بدستِ دعا اٹھے آواز دے کہ دوڑ پڑے زندگی کہ لہر مردہ بھی خاک سے جو اٹھے، بولتا اٹھے ایسے میں روئے، چونک پڑا جس طرح کوئی دریا کے درمیان سے ڈوبا ہوا، اٹھے کوئی تو نقش ابھرے خلا کا نگاہ میں منظر کوئی تو خاک سے لے کر ہوا اُٹھے نرغے میں دشمنوں کے کھڑا سوچتا ہے کیا آواز تو لگا، کوئی مردِ خدا اُٹھے دم گھٹ رہا ہے ساری فضا کا ہوا بغیر ایسے میں میری گرد کا…
Read MoreTag: Urdu literature
عزیز اعجاز ۔۔۔ بازوؤں کی ٹہنی پر جھولتا بدن اُس کا
بازوؤں کی ٹہنی پر جھولتا بدن اُس کا ہم کبھی نہیں بھولے والہانہ پن اُس کا بھینی بھینی خوشبوئیں چار سو بھٹکتی ہیں ذکر چھڑ گیا شاید پھر چمن چمن اُس کا میں بھٹک بھٹک جاؤں جب نہ راستے پاؤں بے پناہ تاریکی ،غم کرن کرن اُس کا بزمِ ناز میں جا کر ہونٹ کاٹتے رہنا بات کس سے ہوتی ہے، کون ہم سخن اُس کا درخورِ کرم اُس نے مدتوں ہمیں سمجھا کیا بھلا بساط اپنی تھا یہ حسنِ ظن اُس کا ایک نام ہی لب پر بار بار…
Read Moreناصر کاظمی ۔۔۔ دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی، اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا، اے دوست! تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا پھر کئی لوگ نظر سے گزرے پھر کوئی شہر ِطرب یاد آیا حالِ دل ہم بھی سناتے لیکن جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
Read Moreاحمد فراز … دل گِرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے
دل گِرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں اب کسی شہر کی بُنیاد نہ ڈالی جائے مصحفِ رُخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے وہ مرّوت سے ملا ہے تو جُھکا دوں گردن میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے بے نوا سحر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز کس طرح سے میری آشفتہ خیالی جائے
Read Moreاحمد فراز
کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے
Read Moreجمال احسانی
شجر بھی کاٹنے ہیں آنگنوں سے پرندوں کا بھی دل رکھنا پڑے گا
Read Moreاحمد فراز
ہر خواب عذاب ہو چکا ہے اور تو بھی تو خواب ہو چکا ہے
Read Moreاحمد فراز … برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سااب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھچے کھچے سے، آنکھيں جھکی جھکی سیباتيں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھےبن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا خوابوں ميں خواب اُس کے، يادوں ميں ياد اُس کینيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے کہ رتجگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميںوہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديںتازہ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ الطاف فاطمہ (تعارف)
الطاف فاطمہ الطاف فاطمہ اُردو کی ممتاز فکشن نگار، مترجم، محقق اور ماہرتعلیم تھیں۔وہ ۱۹۲۹ء میں لکھنو میں پیدا ہوئیں۔قیامِ پاکستان کے بعد اپنے عزیزوں کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں۔گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین میں درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔۲۰۱۸ء میں انتقال ہوا۔اُن کا پہلا افسانہ ۱۹۶۲ء میں موقر ادبی جریدے ادبِ لطیف، لاہور میں شائع ہوا۔اُن کے افسانوی مجموعوں میں تار عنکبوت، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں اور وہ جسے چاہا شامل ہیں مزید براں انہوں نے جاپانی افسانہ نگار خواتین کے ترجمہ کے ساتھ برصغیر کی…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے
یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے اور پھر ترکِ تعلق سے ڈرائے گا مجھے آپ مسمار کرے گا وہ گھروندے اپنے اور پھر خواب سہانے بھی دکھائے گا مجھے مجھ کو سورج کی تمازت میں کرے گا تحلیل اور مٹی سے کئی بار اُگائے گا مجھے اپنی خوشبو سے وہ مانگے گا حیا کی چادر زیبِ قرطاسِ بدن جب بھی بنائے گا مجھے ربِ ایقان و عطا! عمر کے اس موڑ پہ کیا راستے کرب کے ہموار دکھائے گا مجھے میں کڑی دھوپ کا سایہ ہوں کڑے…
Read More