عمران عامی کا عمرانی منظر نامہ ایک فن کار کبھی بھی اپنے سماج سے کٹ کر نہیں رہ سکتا ، یہ بات شاید اب کلیشے بن چکی ہے۔نئے سماجی منظر نامے میں سامنے کی علامتوں کا زوال اور نئے مفاہیم پہ عمرانی حوالے سے ادب کے ساتھ ساتھ صحافت کا ادارہ اپنی سی کرتا رہاہے۔ایک تخلیق کار کے ہاں وہ اجتماعی وحدت جوعمرانی حوالوں سے انسانی سماج کے خود کار نظام کو مربوط رکھتی ہے وہ دیگر تخلیقی اظہاریوں میں اپنی شدت میں کم نظر آتی ہے۔مابعد الجدیدیت نے جس…
Read MoreTag: Urdu literature
محمد یعقوب آسی ۔۔۔ ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں)
ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان میں انگریز راج کا رسمی ہی سہی خاتمہ ہوتا ہے۔ کروڑوں اسلامیانِ ہند کے دلوں کی دھڑکنیں روح و بدن میں سنسنا اٹھتی ہیں، قافلوں کے قافلے آرزوؤں اور امنگوں کا زادِ سفر لئے اپنے کھیتوں، حویلیوں، کارخانوں کو تج کر سرزمینِ پاکستان کی طرف نکل پڑتے ہیں، یہ جانے سوچے بغیر کہ وہاں پہنچ کر جانے کیسے حالات پیش ہوں، کن لوگوں سے پالا پڑے۔ پاکستان کا مطلب کیا؛ لاالٰہ الا اللہ! یہی…
Read Moreاقتدار جاوید … کیڑی کی ماں
کیڑی کی ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھٹی کی گھنٹی بجی لڑکے اسکول سے شہد سے میٹھے اپنے گھروں کی طرف ایسے مڑتے نظر آئے تھے شہد کی مکھی جیسے پلٹتی ہے چھتے کی جانب مسرت کا سیلاب گلیوں میں، کونوں میں، رونق بھرے دونوں بازاروں میں بہہ رہا تھا شریروں کا مجمع تھا یا نرم گڈوں کی ڈوریں کٹی تھیں تھا ’’بو کاٹا‘‘ کا شور گڈے دکانوں کے چھجوں، درختوں کے ڈالوں، منڈیروں کے کونوں پہ ہنستے ہوئے گر رہے تھے زمانے کا میدان ڈوبا ہوا تھا کئی رنگوں میں! نانبائی کے…
Read Moreاقتدار جاوید ۔۔۔ دبلی پتلی
دبلی پتلی ۔۔۔۔۔۔۔ شگن بھری خواب سے جڑی ہے زمانہ رفتار سے بندھا ہے (زمانے کو آپ زید کہہ لیں کہ بکر جانیں) شگن بھری کا وہ خواب، وہ آفتاب روشن ہے جو افق کے محیط کو روندتا نکلتا ہے شب کے اسفنج سے سیاہی نچوڑتا ہے وہ نیند اور نیند کے اندھیروں کی کوکھ کو توڑتا ہے وہ وقت کی یخ آلود جھیل کو چھیدتا ہے تو ثانیے ابلتے ہیں جیسے…جیسے… شگن بھری کی بخار والی سفید آنکھوں سے جیسے موتی ٹپک رہے ہوں زمانہ رفتار سے بندھا ہے…
Read Moreاظہر فراغ ۔۔۔ غزلیں
اسی لیے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیںہم اپنا ہاتھ تری پشت سے اٹھا رہے ہیں وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سرا ہے صدیوں سےیہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہلا رہے ہیں ہوئے ہیں دیر سے ہموار زندگی کے لیےضرور ہم کسی لشکر کا راستہ رہے ہیں ابھی کسی کی خوشی میں شریک ہونا ہےابھی کسی کے جنازے سے ہو کے آ رہے ہیں بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہےشکستہ آئنے ترتیب سے لگا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کس سے کر کے اس کو…
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔ اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!
اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!صاف کم تر نظر آتا ہے وہ بر تر مجھ میں آئنہ دیکھنا اب فرض ہُوا ہے مجھ پراب نظر آنے لگا ہے تیرا پیکر مجھ میں جس نے بھی دیکھا اسے چشمِ ہوس سے دیکھاباہر آئی جو تمناّ بھی، سنور کر مجھ میں جو کرن بن کے مِری آنکھ میں دَر آئی تھیآج بھی جیسے وہ ساعت ہے منوّر مجھ میں اوّل اوّل جو مِرے کان میں ٹپکائی گئیگونجتی ہے وُہی آواز برابر مجھ میں
Read Moreانصر حسن ۔۔۔ مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے
مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے کوئی میری زندگی ہے کوئی میری جان ہے کس لئے کوئی نگارش میں زمانے کی پڑھوں بچپنے سے پاس میرے میر کا دیوان ہے جسم کے زندان سے آزاد کوئی ہو گیا یار مسجد میں کسی کی موت کا اعلان ہے رہ رہا ہوں ان دنوں میں ایک ریگستان میں شہر ہے برباد بستی بھی مری ویران ہے دل یہ کہتا ہے کہ آئیں گے مسافر لوٹ کر دل یہ کہتا ہے کہ ملنے کا ابھی امکان ہے جو ترا…
Read Moreخالد احمد
کیا جانیے کب خالد کس رخ ہمیں لے جائے کیا جانیے اس در تک کیا رنگ ہوا کا ہو
Read Moreقابل اجمیری
خود اہلِ کشتی کی سازشیں ہیں کہ نا خدا کی نوازشیں ہیں وہیں تلاطم کو ہوش آیا جہاں کناروں نے ساتھ چھوڑا
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے
ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…
Read More