غزل ۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں ڈوب گیا تھا تو پھر سے اُبھرا کیوں؟

اگر میں ڈوب گیا تھا تو پھر سے اُبھرا کیوں بتا اے موجہء گرداب! یہ تماشا کیوں مجھے پتہ ہے ترے دل کی دھڑکنوں میں ہوں میں ورنہ دُکھ کی کڑی دوپہر میں جلتا کیوں رہِ طلب میں مسلسل تھکن سے خائف ہوں سکوں جو ہاتھ نہ آئے، سفر ہو لمبا کیوں یہ امتحاں تو نمودِ وفا کا جوہر تھا اُسے یقین جو ہوتا، مجھے رُلاتا کیوں یہ پائے زیست میں زنجیرِ بے یقینی کیا رکھا ہے ہم کو لبِ جو بھی اتنا تشنہ کیوں ابھی تو اگلے ہی زخموں…

Read More

سلام….. ارشد شاہین

خدا کے دین کے ضامن ، مرے امام حسینؑ سلام تجھ پہ دل و جان سے سلام ، حسینؑ درودِ پاک وظیفہ ہو زندگی کا مری سلام پڑھتا رہوں تجھ پہ صبح و شام، حسینؑ جہاں میں ایک علامت ہے استقامت کی برائے دینِ محمد ﷺ ترا قیام ، حسینؑ یہ تیرے صبر کا اعجاز ہے لبِ دریا رہا ہے تیرا مخالف ہی تشنہ کام ، حسینؑ مقامِ رشک و تفاخر ہے آدمی کے لیے ملا ہے تجھ کو زمانے میں جو مقام ، حسینؑ جلے گا تیری محبت کا…

Read More

زلزلۂ بام ۔۔۔۔۔ خالد علیم

لرز رہا ہے مدَوّر زمیں کا سینہ ٔ سنگ میں جاں گداختہ و دل تپیدہ، سوختہ پا حصارِ قلعہ نما میں لرزتے شہر کے دیوار و در کو دیکھتا ہوں یہ شہرِ بام کہ شہرِ بلند بام پہاڑوں کے درمیاں تھا کبھی بلند بام پہاڑوں کے سنگ ِ سخت تڑخنے لگے تو ڈوب گیا جہانِ موت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا کہ فتحِ مرگ نے دے دی ہے زندگی کو دوبارہ ابد خرام شکست ازل کے نام شکست—!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بام: ایران کا ایک شہر

Read More

خالد احمد

ہاتھ سے لَے نکل گئی، شور میں ضربِ ذات   کے ہم ہی تو گُر تھے، ہم ہی سَم، زمزمۂ حیات   کے کوئی مہک نہ چن سکا، کوئی چٹک نہ سن سکا پھول بھلا دکھائے کیا؟ بھائو سبھائو ذات   کے گھر میں نہ اک چھدام تھا، چاند چراغِ بام تھا چاند کی چھائوں دھر دیا، ہم   نے بھی سوت کات   کے ہم تھے گرفتہ سر اگر، تم تھے شکستہ پر، مگر چل دیے ہاتھ ڈال کر، ہاتھ میں کائنات   کے رقص شعار ہو گئے، رزقِ مدار ہو گئے ہم تو فقط…

Read More

نجیب احمد

پر کشا طائرِ آفات وہی ہیں کہ جو تھے خاک پر رینگتے حشرات وہی ہیں کہ جو تھے نظم تکمیل کے باوصف وہی ہے کہ جو تھی سطر در سطر زحافات وہی ہیں کہ جو تھے ابر اٹھتا ہے مگر کھل کے برستا ہی نہیں شہر پر دشت کے اثرات وہی ہیں کہ جو تھے آج بھی لوٹ گیا در سے تہی دست فقیر کیا کیا جائے کہ حالات وہی ہیں کہ جو تھے آج تک ایک بھی کوزہ نہ بنا مجھ سے نجیب کیا کروں میں کہ مرے ہاتھ …

Read More

سلام…… افضل خان

ملول ایسا ہوا منظرِ قضا سے مَیں کہ روتا  پیٹتا نکلا ہوں کربلا  سے مَیں تو اہلِ بیتؑ کی نصرت کو کیوں نہیں پہنچا؟ سوال مجھ سے کرے گا خدا، خدا  سے مَیں میں رو پڑا تو مجھے یاد آیا صبرِ حُسینؑ سو اپنے آپ کو دینے لگا دلاسے مَیں دھنسا نہ ریت میں دشمن، نہ غرقِ آب ہوا خفا فرات سے، ناراض ہوں ہوا   سے مَیں کہا یہ حُرؑ نے ریاضِ بہشت میں سب سے مجھے بھی دیکھیے کیا ہو گیا ہوں کیا   سے مَیں یہ سوچ کر غمِ…

Read More

سلام….. محمد مختار علی

دل سے جیسے کوئی دلگیر سخن کرتا ہے ہم سے دائم غمِ شبّیرؑ سخن کرتا ہے

Read More