اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا ضم ہُوا آئنے میں مِرا عکس تو مَیں دِکھائی دیا مجھ سے غافل تھا کیوں کہ مکمّل تھا مَیں اور اکمل تھا مَیں اور ظاہر ہُوا جب مِرا نقص تو مَیں دِکھائی دیا میری پہچان پر کوئی قدغن نہ تھی پھر بھی ممکن نہ تھی جب الگ ہو گیا مجھ سے ہر شخص تو مَیں دِکھائی دیا بے ضرر جان کر مجھ سے غافل تھا وہ، کیسا عامل تھا وہ کچھ ہُوا جب توقّع کے برعکس تو مَیں…
Read MoreMonth: 2026 جون
غلام حسین ساجد ۔۔۔ کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں
کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں خواب کا اسیر ہوں، نیند کی خبر نہیں حق کی بات کہتا ہوں اور مزے میں رہتا ہوں اب تو کوئی غم نہیں، اب تو کوئی ڈر نہیں آپ کا اسیر ہوں، آپ کا سفیر ہوں بات مختصر سی ہے اور مختصر نہیں کس کی خواب گہ ہے یہ، کون سی جگہ ہے یہ سر پہ آسماں نہیں، دامِ بحر و بر نہیں سب سے بدگمان تھا جب مجھے گمان تھا مجھ سا دوسرا کوئی فرشِ خاک پر نہیں جانتے نہیں…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ کسی بھی کام آ سکی نہیں میری شاعری کیا
کسی بھی کام آ سکی نہیں میری شاعری کیا خفا ابھی تک چراغ سے ہے وہ روشنی کیا ابھی ستارے زمیں پہ یلغار کر رہے ہیں ابھی ادھوری غزل مکمّل نہیں ہوئی کیا ہنسوں تو ہنستے میں بھیگ جاتی ہیں میری آنکھیں مجھے خبر بھی نہیں کہ ہوتی ہے دل لگی کیا تو کیا یہ آئینے بے خبر ہیں تمھاری چَھب سے یہ نرم خوشبو نہیں تمھارے وجود کی کیا یہ دل دھڑکتا رہے گا اُس کے فراق میں بھی یہ شاخ کل تک رہے گی یوں ہی ہری بھری…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں
دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں مَیں اپنی ذات کے حجرے سے کم نکلتا ہُوں دیارِ ہند سے باغِ عدن کو جاتا ہُوں کبھی حجاز سے سوئے عجم نکلتا ہُوں سحر کو کھینچ کے لاتا ہُوں اِس خرابے میں مَیں آج رات ترے ہم قدم نکلتا ہُوں ازل کی کوئی ضرورت نہ اب ابد سے لاگ مَیں اب کی بار ورائے عدم نکلتا ہُوں بکھرتا رہتا ہُوں شب بھر مگر بوقتِ سحَر سمیٹ لیتا ہُوں خود کو، بہم نکلتا ہُوں اِسی لیے تو تری روشنی میں رہتا ہُوں مَیں…
Read Moreسلام ۔۔۔ خورشید ربانی
سلام خدا کی راہ کے بامِ شہِ ہدیٰؐ کے چراغ نظر نظر میں فروزاں ہیں کربلا کے چراغ نشانِ قریۂ باطل مٹاتے جاتے ہیں حسینؓ جادۂ حق میں جلا جلا کے چراغ فضائے خانۂ اسلام جن سے روشن ہے نبیؐ کے گھر کے دیے ہیں رہِ رضا کے چراغ وہ آب جُو کہ جو پہنچی نہیں تھی پیاسوں تک جلاتی پھرتی ہے پلکوں پہ اب عزا کے چراغ یہ ماہ و مہر حقیقت میں ہیں اُنھی کا نُور جلے ہوئے ہیں جو اب سامنے ہوا کے چراغ ہوائے کوفۂ شب…
Read Moreسلام، بحضور امامِ عالی مقامؑ ۔۔۔ عارف امام
سلام، بحضور امامِ عالی مقامؑ سلسہ گردشِ اوقات کا تھم جاتا ہے قیدی زنجیر ہلاتا ہے تو دم جاتا ہے ہاتھ میں تیغ ہے کوئی نہ سپر سینے پر یوں بھی دریا پہ کوئی لے کے علم جاتا ہے پشتِ بیمار ہے یوں زحمتِ زنجیر سے خم حلقۂ طوق گراں تا بہ قدم جاتا ہے ضعف سے خوں کو ٹپکنے کا بھی یارا نہ رہا زخم سے رستا نئیں آنکھ میں جم جاتا ہے آسماں شرم سے ہے دامنِ خورشید میں گم سر کھلے قافلۂ اہلِ حرم جاتا ہے اب…
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔ نظرنظر تِری حسرت ہے دل بہ دل ترا غم
نظرنظر تِری حسرت ہے دل بہ دل ترا غم ملا ہے اہلِ زمانہ کو مستقل ترا غم گزر چُکی ہے خزاں عشرتِ تمنا کی کھلا ہُوا ہے سرِ گلستانِ دل ترا غم بسی ہوئی ہے فضاؤں میں بس تری خُوشبو ر چا ہوا ہے مناظر میں مستقل ترا غم ہر ایک رنج میں تیرے گمان کی آمیخت خوشی کےسارے علاقوں سے متصل ترا غم دلوں کو درد کی دولت سے بہرہ مند کرے ہے اپنی اصل میں اک گُونہ معتدل ترا غم ہر ایک آنکھ ، ہر اک آئنے کا…
Read Moreسلامِ عقيدت بحضور امامِ عالی مقام حسين عليہ السلام ۔۔۔ کوثر علی
سلامِ عقيدت بحضور امامِ عالی مقام حسين عليہ السلام ذکرِ کربل میں جو کاغذ پہ قلم کھینچتے ہیں جسمِ مظلوم سے اک تیرِ ستم کھینچتے ہیں تشنہ بچّوں کے بِلکنے کی صدا آتی ہے کربلا جائیں تو ہم سانس بھی کم کھینچتے ہیں کتنے آنسو ہیں ترے پاس ؟ بتا ! آب ِ فرات! ہم تو نسلوں سے شہنشاہ کا غم کھینچتے ہیں پانی پیتے ہیں تو پیتے ہوۓ رک جاتے ہیں پھر جو اک قطرہ بھی پیتے ہیں تو سَم کھینچتے ہیں روز کہتے ہیں کہ ڈٹ جائیں یزیدوں…
Read Moreسلام ۔۔۔ جلیل عالی
سلام بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھے اور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھے . چاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھا چور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھے . سب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگن کٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھے . گو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کی کربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور…
Read Moreجناب عابدِؑ بیمار کے حضور ۔۔۔ عارف امام
جناب عابدِؑ بیمار کے حضور اک صورتِ اظہار ہے زنجیر کی جھنکار گویا کوئی تلوار ہے زنجیر کی جھنکار تاراجیٔ دربار ہے زنجیر کی جھنکار زنجیر کی جھنکار ہے زنجیر کی جھنکار طاقت کے ہر اک وار کو بیمار نے کاٹا باطل کی زباں کو اسی جھنکار نے کا ٹا اندازِ وغا، پیکرِ تقریر میں دیکھا؟ ایسے کسی قصے کو اسا طیر میں دیکھا؟ الفاظ کو پیراہنِ شمشیر میں دیکھا؟ ایسے کسی بیمارؑ کو زنجیر میں دیکھا؟ پہلے تو تفاخر کیا لہجے کے علو پر پھر طوق نے سجدہ کیا…
Read More