سلام بحضور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی

لب پر شہدا کے تذکرے ہیں لفظوں کے چراغ جل رہے ہیں جن پہ گزری ہے ان سے پوچھو ہم لوگ تو صرف سوچتے ہیں میدان کا دل دہک رہا ہے دریاؤں کے ہونٹ جل رہے ہیں کرنیں ہیں کہ بڑھ رہے ہیں نیزے جھونکے ہیں کہ شعلے چل رہے ہیں پانی نہ ملا تو آنسوؤں سے چُلو بچوں کے بھر دیے ہیں آثار جوان بھائیوں کے بہنوں نے زمیں سے چن لیے ہیں بیٹوں کے کٹے پھٹے ہوئے جسم ماؤں نے ردا میں بھر لیے ہیں یہ لوگ اصولِ…

Read More

سلام ۔۔۔ گستاخ بخاری

کوئی تو ایسی بات شہِ کربلا میں ہے اک تذکرہ مدام جو خلقِ خدا میں ہے سجدے میں سر کٹانے کی لذت نہ پوچھیے کیا زندگی کا لطف مقامِ فنا میں ہے بھولا نہیں کسی کو بھی مقتل کا مرحلہ گلدستۂ شہید رہِ کبریا میں ہے نادان اپنے سینے سے آ کر لپٹ گئی رقاصۂ اجل جو قدِ آشنا میں ہے پیغام دے رہی ہے ہوا اذنِ شاہ میں لکھی ہوئی حضور شہادت فنا میں ہے کرتی رہے گی حشر تلک دیں کو سر فراز شبیرؑ ترے خون کی خوشبو…

Read More

مولانا محمد علی جوہر ۔۔۔ سلام

بیتاب کر رہی ہے تمنّائے کربلا یاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے کربلا ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی بہار ہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے کربلا روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ حیات جائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے کربلا جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں اُسے سمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے کربلا مطلب فرات سے ہے نہ آبِ حیات سے ہوں تشنۂ شہادت و شیدائے کربلا جوہر مسیح و خضر کو ملتی نہیں یہ چیز اور یوں نصیب سے تجھے مل جائے کربلا

Read More

سلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔ شاہد اشرف

جواز کوئی نہیں اور دلیل کوئی نہیں حسین ابنِ علی سا قتیل کوئی نہیں پھر اس نے شام کے دربار میں دیا خطبہ بھرے جہان میں جس کا وکیل کوئی نہیں عجیب خوف کا عالم ہے یومِ عاشورہ جلوس کوئی نہیں اور سبیل کوئی نہیں ہمیشہ جاری رہے گا مقابلہ لیکن زمیں پہ وقت سے بہتر عدیل کوئی نہیں چراغ بجھ گیا بیٹھے ہیں باوجود اس کے کسی بھی شخص کے آگے فصیل کوئی نہیں فلک نے ایسا جواں آج تک نہیں دیکھا حسین جیسا حسین و جمیل کوئی نہیں…

Read More

امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد

حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ اپنی اناؤں کا قتلِ عام چہروں پہ نقش ہوتی سیاہی کو بھول کر دوڑے چلے ہی جاتے ہیں بے سمت ، بے لگام یہ سارا اہتمام وہ کرتے ہیں کس لیے؟ ہیں ان کے جتنے خیر طلب اُن کو چھوڑ کر سایوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کس لیے؟ یہ بھی نہیں کہ ان کو نہیں انت کی خبر دن رات ان کے سامنے جاتے ہیں ان سے لوگ زیرِ زمین ڈھیر سی مٹی…

Read More

نعت ِرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ خالد علیم

نعت ِرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعتِ رسولِ کریم ؐ سوز و گداز و سرور نعتِ رسولِ کریمؐ کیفِ شرابِ طہور نعتِ رسولِ کریم ؐ جاں کو سرودِ نشاط نعتِ رسولِ کریم ؐ قلب و نظر کا حضور نعتِ رسولِ کریم ؐ عکسِ تمناے ذات نعتِ رسولِ کریم ؐ چشمِ بصیرت کا نور نعتِ رسولِ کریم ؐ میری متاعِ حیات نعتِ رسولِ کریم ؐ دولتِ فہم و شعور نعتِ رسولِ کریم ؐ علم و خبر کا نزول نعتِ رسولِ کریم ؐ فکر و ہنر کا ظہور نعتِ رسولِ کریم…

Read More

عجزاِظہار ۔۔۔ خالد علیم

عجزاِظہار وہ شہنشاہِ ؐ معظم، وہ رسولِ ؐ اکرم معدنِ ؐ علم و ادب، مخزنِ ؐ ایقان و حِکَم آبروے ؐ حرمِ پاک، وقارِ ؐ عالم آدمیّت کا بھرم، عظمتِ ؐ دینِ محکم اُس کی توصیف مرے حیطۂ دانش میں کہاں لڑکھڑاتا ہے قلم اور لرزتی ہے زباں قوتِ فن کی بدولت ہو بیاں نعتِ رسول ؐ اُلفتِ سیّدِ ؐعالم کو نہیں ہے یہ قبول جذب اور کیف سے ہوتا ہے معانی کا نزول حاصلِ سوزِ دروں ہی ہیں محبت کے اصول آنکھ جب فرقت ِسرکار ؐ میں نم ہوتی…

Read More