پھولوں سے، ستاروں سے، شراروں سے گزارا اِک شعلۂ بے تاب میں ڈھالا مجھے آخر
Read MoreCategory: پ
محمد علوی
پڑا تھا مَیں اک پیڑ کی چھائوں میں لگی آنکھ تو آسمانوں میں تھا
Read Moreشاہ مبارک آبرو
پھرتے ہی پھرتے دشت دِوانے کدھر گئے وے عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے
Read Moreشاہد ماکلی
پورا کھُلتا نہ بند ہوتا ہوں مَیں بھی کیا نیم وا دریچہ ہوں!
Read Moreسید آلِ احمد
پوچھتی تھی خزاں بہار کا حال شاخ سے ٹوٹ کر گرا پتا
Read Moreخالد علیم
پلکوں میں سمٹ رہا ہے پل پل تن میں جو لہو غبارِ جاں ہے
Read Moreخالد احمد
پہلے سے دوست ہیں نہ وہ پہلے سی دوستی کس سے کہیں کہ شہر میں کیا کیا نہیں رہا
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
پھولوں میں پتھروں کو لپیٹے ہوئے ندیمؔ مصروف یار لوگ گل افشانیوں میں تھے
Read Moreانور شعور
پینے والے کئی تھے، ساقی ایک انحصار ایک پر کئی کا تھا
Read Moreظہور نظر
پاس ہمارے آ کر تم بے گانہ سے کیوں ہو؟ چاہو تو ہم پھر کچھ دُوری پر چھوڑ آئیں تمھیں
Read More